nazmKuch Alfaaz

کتنی درماندہ ہے فضا کتنی حسین ہے دنیا کتنا مخمور ہے ذوق چمن آرائی آج ا سے سلیقے سے سجائی گئی بزم گیتی تو بھی دیوار اجنتا سے اتر آئی آج رو نمائی کی یہ ساعت یہ تہی دستی شوق لگ چرا سکتا ہوں آنکھیں لگ ملا سکتا ہوں پیار سوغات وفا نذر محبت تحفہ یہی دولت تری قدموں پہ لٹا سکتا ہوں کب سے تخئیل ہے وہ ہے وہ لرزاں تھا یہ چھوؤں گا پیکر کب سے خوابوں ہے وہ ہے وہ مچلتی تھی جوانی تیری مری افسانے کا عنوان بنی جاتی ہے ڈھل کے سانچے ہے وہ ہے وہ حقیقت کے کہانی تیری مرحلے جھیل کے نکھرا ہے مزاق تخلیق سعی پیہم نے دیے ہیں یہ خد و خال تجھے زندگی چلتی رہی کانٹوں پہ انگاروں پر جب ملی اتنی حسین اتنی بیعت چال تجھے تری قامت ہے وہ ہے وہ ہے انساں کی بلن گرا کا نظیر و دختر شہر ہے برزخ کا شاہکار ہے تو اب لگ جھپکےگی پلک اب لگ ہٹیںگی نظریں حسن کا مری لیے آخری معیار ہے تو یہ ترا پیکر سی ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ اولیں ساری دست محنت نے شفق بن کے اڑھا دی تجھ کو ج سے سے محروم ہے فطرت کا فردو سے ج ہاں تربیت نے حقیقت لطافت بھی سکھا دی تجھ کو <

Kaifi Azmi0 Likes

Related Nazm

ا سے سے محبت جھیلیں کیا ہیں ا سے کی آنکھیں عمدہ کیا ہے ا سے کا چہرہ خوشبو کیا ہے ا سے کی سانسیں خوشیاں کیا ہیں ا سے کا ہونا تو غم کیا ہے ا سے سے جدائی ساون کیا ہے ا سے کا رونا سر گرا کیا ہے ا سے کی اداسی گرمی کیا ہے ا سے کا غصہ اور بہاریں ا سے کا ہنسنا میٹھا کیا ہے ا سے کی باتیں کڑوا کیا ہے مری باتیں کیا پڑھنا ہے ا سے کا لکھا کیا سننا ہے ا سے کی غزلیں لب کی خواہش ا سے کا ماتھا زخم کی خواہش ا سے کا چھونا دنیا کیا ہے اک جنگل ہے اور جاناں کیا ہوں پیڑ سمجھ لو اور حقیقت کیا ہے اک راہی ہے کیا سوچا ہے ا سے سے محبت کیا کرتے ہوں ا سے سے محبت زار پیشہ ا سے سے محبت ا سے کے علاوہ ا سے سے محبت ا سے سے محبت

Varun Anand

475 likes

بہت خوبصورت ہوں جاناں بہت خوبصورت ہوں جاناں کبھی ہے وہ ہے وہ جو کہ دوں محبت ہے جاناں سے تو مجھ کو خدارا غلط مت سمجھنا کہ میری ضرورت ہوں جاناں بہت خوبصورت ہوں جاناں ہیں پھولوں کی ڈالی پہ بانہیں تمہاری ہیں خاموش جادو نگاہیں تمہاری جو کانٹے ہوں سب اپنے دامن ہے وہ ہے وہ رکھ لوں سجاؤں ہے وہ ہے وہ کلیوں سے راہیں تمہاری نظر سے زمانے کی خود کو بچانا کسی اور سے دیکھو دل مت لگانا کہ میری امانت ہوں جاناں بہت خوبصورت ہوں جاناں کبھی نڈھال کی قطاروں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا چمکتے ہوئے چاند تاروں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا خزاؤں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا بہاروں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا مچلتے ہوئے آبشاروں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا حقیقت ہے وہ ہے وہ دیکھا فسانے ہے وہ ہے وہ دیکھا نہ جاناں سا ہنسی ای سے زمانے دیکھا نہ دنیا کی رنگین محفل ہے وہ ہے وہ پایا جو پایا تمہیں اپنا ہی دل ہے وہ ہے وہ پایا ایک ایسی مسرت ہوں جاناں بہت خوبصورت ہوں جاناں ہے چہرہ تمہارا کہ دن ہے سنہرا ہے چہرہ تمہارا کہ دن ہے سنہرا اور ای سے پر یہ کالی گھٹاؤں کا پہرہ گلابوں س

Tahir Faraz

54 likes

"कब" कब ये पेड़ हरे होंगे फिर से कब ये कलियाँ फूटेंगी और ये फूल हसेंगे कब ये झरने अपनी प्यास भरेंगे कब ये नदियाँ शोर मचाएँगी कब ये आज़ाद किए जाएँगे सब पंछी कब जंगल साँसे लेंगे कब सब जाएँगे अपने घर कब हाथों से ज़ंजीरें खोली जाएँगी कब हम ऐसों को पूछेगा कोई और ये फ़क़ीरों को भी क़िस्से में लाया जाएगा कब इन काँटों की भी क़ीमत होगी और मिट्टी सोने के भाव में आएगी कब लोगों की ग़लती टाली जाएगी कब ये हवाएँ पायल पहने झूमेगी कब अंबर से परियाँ उतरेंगी कब पत्थरों से भी ख़ुशबू आएगी कब हंसों के जोड़ें नदियों पे बैठेंगे बरखा गीत बनाएगी और मोर उठा के पर कत्थक करते देखे जाएँगे नीलकमल पानी से इश्क़ लड़ाएंगे मछलियाँ ख़ुशी के गोते मारेंगी कब कोयल की कूक सुनाई देगी कब भॅंवरे फिर गुन- गुन करते लौटेंगे बागों में और कब ये प्यारी तितलियाँ कलर फेकेंगी फिर सब कुछ डूबा होगा रंगों में कब ये दुनिया रौशन होगी कब ये जुगनू अपने रंग में आएँगे कब ये सब मुमकिन है कब सबके ही सपने पूरे होंगे कब अपने मन के मुताबिक़ होगा सब कुछ कब ये बहारें लोटेंगी कब वो तारीख़ आएगी बस मुझ को ही नहीं सब को इंतिज़ार है तेरे ' बर्थडे ' का

BR SUDHAKAR

16 likes

تو کسی اور ہی دنیا ہے وہ ہے وہ ملی تھی مجھ سے تو کسی اور ہی موسم کی مہک لائی تھی ڈر رہا تھا کہ کہی زخم لگ بھر جائیں مری اور تو مٹھیاں بھر بھر کے نمک لائی تھی اور ہی طرح کی آنکھیں تھی تری چہرے پر تو کسی اور ستارے تم سے چمک لائی تھی تیری آواز ہی سب کچھ تھی مجھے مون سے جاں کیا کروں ہے وہ ہے وہ کہ تو بولی ہی بے حد کم مجھ سے تیری چپ سے ہی یہی محسو سے کیا تھا ہے وہ ہے وہ نے جیت جائےگا تیرا غم کسی روز مجھ سے شہر آوازیں لگاتا تھا م گر تو چپ تھی یہ تعلق مجھے تقاضا تھا م گر تو چپ تھی وہی انجام تھا جو عشق کا آغاز سے ہے تجھ کو پایا بھی نہیں تھا کہ تجھے کھونا تھا چلی آتی ہے یہی رسم کئی صدیوں سے یہی ہوتا ہے یہی ہوگا یہی ہونا تھا پوچھتا رہتا تھا تجھ سے کہ بتا کیا دکھ ہے اور مری آنکھ ہے وہ ہے وہ آنسو بھی نہیں ہوتے تھے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے اندازے لگائے کے سبب کیا ہوگا پر مری تیر ترازو بھی نہیں ہوتے تھے جس کا ڈر تھا مجھے معلوم پڑا لوگوں سے پھروں حقیقت خوش بخت پلٹ آیا تیری دنیا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ج سے کے جانے پہ مجھے تو نے جگہ دی دل ہے

Tehzeeb Hafi

180 likes

انجام ہیں لبریز آ ہوں سے ٹھنڈی ہوائیں اداسی ہے وہ ہے وہ ڈوبی ہوئی ہیں گھٹائیں محبت کی دنیا پہ شام آ چکی ہے سیہ پوش ہیں زندگی کی فضائیں مچلتی ہیں سینے ہے وہ ہے وہ لاکھ آرزوئیں تڑپتی ہیں آنکھوں ہے وہ ہے وہ لاکھ الت جائیں ت غافل کی آغوش ہے وہ ہے وہ سو رہے ہیں تمہارے ستم اور مری وفائیں م گر پھروں بھی اے مری معصوم قاتل تمہیں پیار کرتی ہیں مری دعائیں

Faiz Ahmad Faiz

27 likes

More from Kaifi Azmi

نقوش حسرت مٹا کے اٹھنا خوشی کا پرچم ق سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کے اٹھنا ملا کے سر بیٹھنا مبارک ترا لگ فتح گا کے اٹھنا یہ گفتگو گفتگو نہیں ہے بگڑنے بننے کا مرحلہ ہے دھڑک رہا ہے فضا کا سینا کہ زندگی کا معاملہ ہے اڑائے رہے یا بہار آئی تمہارے ہاتھوں ہے وہ ہے وہ فیصلہ ہے لگ چین بے تاب بجلیوں کو لگ مطمئن کاروان شبنم کبھی شگوفوں کے گرم تیور کبھی گلوں کا مزاج برہم شگوفہ و گل کے ا سے تصادم ہے وہ ہے وہ گلستاں بن گیا تو جہنم سجا لیں سب اپنی اپنی جنت اب ایسے خاکے بنا کے اٹھنا خزا لگ رنگ و نور تاریک رہگزاروں ہے وہ ہے وہ لٹ رہا ہے عرو سے گل کا غرور عصمت سیاہکاروں ہے وہ ہے وہ لٹ رہا ہے تمام سرمایہ لطافت ذلیل خارو ہے وہ ہے وہ لٹ رہا ہے گھٹی گھٹی ہیں نمو کی سانسیں چھوٹی چھوٹی نبض گلستاں ہے ہیں گرسنا پھول تشنہ لبی غنچے رخوں پہ زر گرا لبوں پہ جاں ہے ہم نوا ہیں ہم سفیر جب سے اڑائے چمن ہے وہ ہے وہ رواں دواں ہے ا سے انتشار چمن کی سوگند باب زنداں ہلا کے اٹھنا حیات گیتی کی آج جستجو دل شکستہ ہوئی نگاہیں ہیں انقلابی پیام عشق سے کرنیں اتر رہی ہیں

Kaifi Azmi

0 likes

کبھی جمود کبھی صرف انتشار سا ہے ج ہاں کو اپنی تباہی کا انتظار سا ہے منہو کی مچھلی لگ کشتی نوح اور یہ فضا کہ قطرے قطرے ہے وہ ہے وہ طوفان بے قرار سا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ک سے کو اپنے گریباں کا چاک دکھلاؤں کہ آج دامن یزداں بھی تار تار سا ہے سجا سنوار کے ج سے کو ہزار ناز کیے اسی پہ خالق کونین شرمسار سا ہے تمام جسم ہے منجملہ و اسباب ماتم فکر خوابیدہ دماغ پچھلے زمانے کی یادگار سا ہے سب اپنے پاؤں پہ رکھ رکھ کے پاؤں چلتے ہیں خود اپنے دوش پہ ہر آدمی سوار سا ہے جسے پکاریے ملتا ہے اک کھنڈر سے جواب جسے بھی دیکھیے ماضی کا اشتہار سا ہے ہوئی تو کیسے شایاں ہے وہ ہے وہ آ کے شام ہوئی کہ جو مزار ی ہاں ہے میرا مزار سا ہے کوئی تو سود چکائے کوئی تو ذمہ لے ا سے انقلاب کا جو آج تک ادھار سا ہے

Kaifi Azmi

1 likes

پیار کا جشن نئی طرح منانا ہوگا غم کسی دل ہے وہ ہے وہ صحیح غم کو مٹانا ہوگا کانپتے ہونٹوں پہ پیمان وفا کیا کہنا تجھ کو لائی ہے ک ہاں لغزش پا کیا کہنا مری گھر ہے وہ ہے وہ تری مکھڑے کی ضیا کیا کہنا آج ہر گھر کا دیا مجھ کو جلانا ہوگا روح چہروں پہ دھواں دیکھ کے شرماتی ہے جھینپی جھینپی سی مری لب پہ ہنسی آتی ہے تری ملنے کی خوشی درد بنی جاتی ہے ہم کو ہنسنا ہے تو اوروں کو ہنسانا ہوگا سوئی سوئی ہوئی آنکھوں ہے وہ ہے وہ چھلکتے ہوئے جام کھوئی کھوئی ہوئی دی ہے وہ ہے وہ محبت کا پیام لب شیریں پہ مری تش لگ لبی کا انعام جانے انعام ملےگا کہ چرانا ہوگا مری گردن ہے وہ ہے وہ تری خلےگی با ہوں کا یہ ہار ابھی آنسو تھے ان آنکھوں ہے وہ ہے وہ ابھی اتنا خمار ہے وہ ہے وہ ہے وہ لگ کہتا تھا مری گھر ہے وہ ہے وہ بھی آوےگی عشق دل بہار شرط اتنی تھی کہ پہلے تجھے آنا ہوگا

Kaifi Azmi

1 likes

اے ہمہ رنگ ہمہ نور ہمہ سوز و گداز بزم مہتاب سے آنے کی ضرورت کیا تھی تو ج ہاں تھی اسی جنت ہے وہ ہے وہ نکھرتا ترا روپ ا سے جہنم کو بسانے کی ضرورت کیا تھی یہ خد و خال یہ خوابوں سے تراشا ہوا جسم اور دل ج سے پہ خد و خال کی دل پسند بھی نثار بچھاؤ ہی بچھاؤ شرارے ہی شرارے ہیں ی ہاں اور تھم تھم کے اٹھا پاؤں بہاروں کی بہار تشنہ لبی زہر بھی پی جاتی ہے امرت کی طرح جانے ک سے جام پہ رک جائے نگاہ معصوم ڈوبتے دیکھا ہے جن آنکھوں ہے وہ ہے وہ مے خا لگ بھی پیا سے ان آنکھوں کی بجھے یا لگ بجھے کیا معلوم ہیں سبھی حسن پرست اہل نظر صاحب دل کوئی گھر ہے وہ ہے وہ کوئی محفل ہے وہ ہے وہ سجائے گا تجھے تو فقط جسم نہیں شعر بھی ہے گیت بھی ہے کون اشکوں کی گھنی چھاؤں ہے وہ ہے وہ گائے گا تجھے تجھ سے اک درد کا رشتہ بھی ہے ب سے پیار نہیں اپنے آنچل پہ مجھے خوشی بہا لینے دے تو ج ہاں جاتی ہے جا روکنے والا ہے وہ ہے وہ کون اپنے رستے ہے وہ ہے وہ م گر شمع جلا لینے دے

Kaifi Azmi

0 likes

ہے وہ ہے وہ یہ سوچ کر ا سے کے در سے اٹھا تھا کہ حقیقت روک لےگی منا لےگی مجھ کو ہواؤں ہے وہ ہے وہ لہراتا آتا تھا دامن کہ دامن پکڑ کر بٹھا لےگی مجھ کو قدم ایسے انداز سے اٹھ رہے تھے کہ آواز دے کر بلا لےگی مجھ کو م گر ا سے نے روکا لگ مجھ کو منایا لگ دامن ہی پکڑا لگ مجھ کو بٹھایا لگ آواز ہی دی لگ مجھ کو بلایا ہے وہ ہے وہ ہے وہ آہستہ آہستہ بڑھتا ہی آیا ی ہاں تک کہ ا سے سے جدا ہوں گیا تو ہے وہ ہے وہ

Kaifi Azmi

5 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Kaifi Azmi.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Kaifi Azmi's nazm.