nazmKuch Alfaaz

راجا بولا رات ہے رانی بولی رات ہے چھپا کے بولا رات ہے منتری بولا رات ہے یہ صبح صبح کی بات ہے

Related Nazm

بھلی سی ایک شکل تھی بھلے دنوں کی بات ہے بھلی سی ایک شکل تھی نہ یہ کہ حسن تام ہوں نہ دیکھنے ہے وہ ہے وہ آم سی نہ یہ کہ حقیقت چلے تو کہکشاں سی رہگزر لگے مگر حقیقت ساتھ ہوں تو پھروں بھلا بھلا سفر لگے کوئی بھی رت ہوں اس کا کی چھب فضا کا رنگ روپ تھی حقیقت گرمیوں کی چھاؤں تھی حقیقت سردیوں کی دھوپ تھی نہ مدتوں جدا رہے نہ ساتھ صبح و شام ہوں نہ رشتہ وفا پہ ضد نہ یہ کہ اجازت عام ہوں نہ ایسی خوش لباسیاں کہ سادگی گلہ کرے نہ اتنی بے تکلفی کہ آئینہ حیا کرے نہ اختلاط ہے وہ ہے وہ حقیقت رم کہ بد مزہ ہوں خواہشیں نہ اس کا دودمان سپردگی کہ زچ کریں نوازشیں نہ کرنے والے جنون کی کہ زندگی عذاب ہوں نہ اس کا دودمان کٹھور پن کہ دوستی خراب ہوں کبھی تو بات بھی خفی کبھی سکوت بھی سخن کبھی تو کشت زعفران کبھی اداسیوں کا بن سنا ہے ایک عمر ہے معاملات دل کی بھی وصال جاں فزا تو کیا فراق جاں گسل کی بھی سو ایک روز کیا ہوا وفا پہ بحث چھڑ گئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ عشق کو فدا کہوں حقیقت

Ahmad Faraz

111 likes

خدا کا سوال مری رب کی مجھ پر عنایت ہوئی ک ہوں بھی تو کیسے عبادت ہوئی حقیقت ہوئی چنو مجھ پر عیاں بن گئی ہے خدا کی زبان ہوتے ہوتے مخاطب ہے بندے سے پروردگار تو حسن چمن تو ہی رنگ بہار تو معراج فن تو ہی فن کا سنگار مصور ہوں ہے وہ ہے وہ تو میرا شاہکار یہ صبحیں یہ شا ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ دن اور رات یہ رنگین دلکش حسین ان ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہ حور و ملائک و الا جنات نے کیا ہے تجھے اشرف اول مخلوقات عظمتوں مری جلترنگ کا حوالہ ہے تو تو ہی روشنی ہے اجالا ہے تو یہ دنیا ج ہاں بزم آرائیاں یہ محفل یہ ذائقہ یہ تنہائیاں فلک کا تجھے شامیا لگ دیا ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پر تجھے آب و دا لگ دیا ملے آبشاروں سے بھی حوصلے پہاڑوں ہے وہ ہے وہ تجھ کو دیے راستے یہ پانی ہوا اور یہ شم سے و قمر یہ موج رواں یہ کنارہ بھنور یہ شاخوں پہ غنچے چٹکتے ہوئے فلک پہ ستارے تم چمکتے ہوئے یہ سبزے یہ پھولوں بھری کیاریاں یہ پنچھی یہ اڑتی ہوئی تتلیاں یہ شعلہ یہ شبنم یہ مٹی یہ سنگ یہ جھرنوں کے بجتے ہوئے چرندوں یہ جھیلوں ہے وہ ہے وہ ہنستے ہوئے س

Abrar Kashif

46 likes

ا سے کی خوشیاں ساری جھیلیں سوکھ گئی ہیں ا سے کی آنکھیں سوکھ گئی ہیں پیڑوں پر پنچھی بھی چپ ہیں اس کا کا کو کوئی دکھ ہے شاید رستے سونے سونے ہیں سب ا سے نے ٹہلنا چھوڑ دیا ہے ساری غزلیں بے معنی ہیں ا سے نے پڑھنا چھوڑ دیا ہے حقیقت بھی ہنسنا بھول چکی ہے گلوں نے کھلنا چھوڑ دیا ہے ساون کا موسم جاری ہے زبان ا سے کا غم جاری ہے باقی موسم ٹال دیے ہیں سکھ کوئیں ہے وہ ہے وہ ڈال دیے ہیں چاند کو چھٹی دے دی گئی ہے تاروں کو شاہد و ساقی رکھا ہے آتش دان ہے وہ ہے وہ پھینک دی خوشیاں دل ہے وہ ہے وہ ب سے اک غم رکھا ہے خا لگ پینا چھوڑ دیا ہے سب سے رشتہ توڑ دیا ہے ہاں یہ خوشگوار آنے کو ہے ا سے نے جینا چھوڑ دیا ہے ہر دل خوش ہر چہرہ خوش ہوں حقیقت ہوں خوش تو دنیا خوش ہوں حقیقت اچھی تو سب اچھا ہے اور دنیا ہے وہ ہے وہ کیا رکھا ہے یہ سب سن کر خدا نے بولا بول تیری اب خواہش کیا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بولا مری خواہش مری خواہش ا سے کی خوشیاں خدا نے بولا تیری خواہش ہے وہ ہے وہ ہے وہ پھروں بولا ا سے کی خوشیاں ا سے کے علا

Varun Anand

30 likes

یہ کس طرح یاد آ رہی ہوں یہ خواب کیسا دکھا رہی ہوں کہ چنو سچ مچ نگاہ کے سامنے کھڑی مسکرا رہی ہوں یہ جسم چھوؤں گا یہ نرم باہیں حسین گردن سدول بازو شگفتہ چہرہ سلونی رنگت گھنیرا جوڑا سیاہ گیسو نشیلی آنکھیں رسیلی چت ون دراز پلکیں مہین ابرو تمام شوخی تمام بجلی تمام مستی تمام جادو ہزاروں جادو جگا رہی ہوں یہ خواب کیسا دکھا رہی ہوں اولیں لب مسکراتے آرِز جبیں کشادہ بلند قامت نگاہ ہے وہ ہے وہ بجلیوں کی جھل مل اداؤں ہے وہ ہے وہ استعمال لطافت دھڑکتا سینا مہکتی سانسیں نوا ہے وہ ہے وہ رس انکھڑیوں ہے وہ ہے وہ امرت ہما حلاوت ہما ملاحت ہما ترنم ہما نزاکت لچک لچک گنگنا رہی ہوں یہ خواب کیسا دکھا رہی ہوں تو کیا مجھے جاناں جلا ہی لوگی گلے سے اپنے لگا ہی لوگی جو پھول جوڑے سے گر پڑا ہے تڑپ کے اس کا کو اٹھا ہی لوگی بھڑکتے شعلوں کڑکتی بجلی سے میرا خرمن بچا ہی لوگی گھنیری اگر کی چھاؤں ہے وہ ہے وہ مسکرا کے مجھ کو چھپا ہی لوگی کہ آج تک آزما رہی ہوں یہ خواب کیسا دکھا رہی ہوں نہیں محبت کی کوئی قیمت جو کوئی قیمت ادا کروںگی وفا کی فرصت نہ دےگی

Kaifi Azmi

37 likes

उस का चेहरा सिंपल सादा सा भोला चेहरा है यार क़सम से वो प्यारा चेहरा है पेड़ नदी ये फूल सभी छोड़ो उस को देखो उस का चेहरा है दुनिया लाख हसीन हो सकती है लेकिन उस का चेहरा चेहरा है देख उसे कह डाला हम ने भी बातें प्यारी हैं प्यारा चेहरा है इक तिल होट पे, गाल के नीचे इक और वो चाँद सा नाक पे नूर लिए दो प्यारी आँखें, और सुर्ख़ से लब प्यार मिलाकर अपना रंगों में हम ने बनाया उस का चेहरा है भोली सूरत पे वो अकड़ देखो ग़लती कर के घुमाया चेहरा है रूठ गई जो हम सेे कभी वो दोस्त सब सेे पहले चुराया चेहरा है जब भी उस को चूमने आए हम होट से पहले आया चेहरा है मुँह से इक वो स्वाद नहीं जाता जबसे उस का चूमा चेहरा है रात का होना उस की आँखें हैं दिन का निकलना उस का चेहरा है दुनिया में है उस के चेहरे से है नूर रौशनी लाया उस का चेहरा है हम जैसे भी दरिया करेंगे पार ! अब जो सहारा उस का चेहरा है हम आबाद रहेंगे ऐसे ही हम पे गर साया वो चेहरा है वो चेहरा है बस वो चेहरा है हम को बस वो चेहरा चेहरा है हम ने चाहा बस वो चेहरा है हम ने माँगा बस वो चेहरा है हम ने देखा भी तो वो चेहरा हम ने सोचा बस वो चेहरा है

BR SUDHAKAR

12 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Gorakh Pandey.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Gorakh Pandey's nazm.