یہ کس طرح یاد آ رہی ہوں یہ خواب کیسا دکھا رہی ہوں کہ چنو سچ مچ نگاہ کے سامنے کھڑی مسکرا رہی ہوں یہ جسم چھوؤں گا یہ نرم باہیں حسین گردن سدول بازو شگفتہ چہرہ سلونی رنگت گھنیرا جوڑا سیاہ گیسو نشیلی آنکھیں رسیلی چت ون دراز پلکیں مہین ابرو تمام شوخی تمام بجلی تمام مستی تمام جادو ہزاروں جادو جگا رہی ہوں یہ خواب کیسا دکھا رہی ہوں اولیں لب مسکراتے آرِز جبیں کشادہ بلند قامت نگاہ ہے وہ ہے وہ بجلیوں کی جھل مل اداؤں ہے وہ ہے وہ استعمال لطافت دھڑکتا سینا مہکتی سانسیں نوا ہے وہ ہے وہ رس انکھڑیوں ہے وہ ہے وہ امرت ہما حلاوت ہما ملاحت ہما ترنم ہما نزاکت لچک لچک گنگنا رہی ہوں یہ خواب کیسا دکھا رہی ہوں تو کیا مجھے جاناں جلا ہی لوگی گلے سے اپنے لگا ہی لوگی جو پھول جوڑے سے گر پڑا ہے تڑپ کے اس کا کو اٹھا ہی لوگی بھڑکتے شعلوں کڑکتی بجلی سے میرا خرمن بچا ہی لوگی گھنیری اگر کی چھاؤں ہے وہ ہے وہ مسکرا کے مجھ کو چھپا ہی لوگی کہ آج تک آزما رہی ہوں یہ خواب کیسا دکھا رہی ہوں نہیں محبت کی کوئی قیمت جو کوئی قیمت ادا کروںگی وفا کی فرصت نہ دےگی
Related Nazm
بھلی سی ایک شکل تھی بھلے دنوں کی بات ہے بھلی سی ایک شکل تھی نہ یہ کہ حسن تام ہوں نہ دیکھنے ہے وہ ہے وہ آم سی نہ یہ کہ حقیقت چلے تو کہکشاں سی رہگزر لگے مگر حقیقت ساتھ ہوں تو پھروں بھلا بھلا سفر لگے کوئی بھی رت ہوں اس کا کی چھب فضا کا رنگ روپ تھی حقیقت گرمیوں کی چھاؤں تھی حقیقت سردیوں کی دھوپ تھی نہ مدتوں جدا رہے نہ ساتھ صبح و شام ہوں نہ رشتہ وفا پہ ضد نہ یہ کہ اجازت عام ہوں نہ ایسی خوش لباسیاں کہ سادگی گلہ کرے نہ اتنی بے تکلفی کہ آئینہ حیا کرے نہ اختلاط ہے وہ ہے وہ حقیقت رم کہ بد مزہ ہوں خواہشیں نہ اس کا دودمان سپردگی کہ زچ کریں نوازشیں نہ کرنے والے جنون کی کہ زندگی عذاب ہوں نہ اس کا دودمان کٹھور پن کہ دوستی خراب ہوں کبھی تو بات بھی خفی کبھی سکوت بھی سخن کبھی تو کشت زعفران کبھی اداسیوں کا بن سنا ہے ایک عمر ہے معاملات دل کی بھی وصال جاں فزا تو کیا فراق جاں گسل کی بھی سو ایک روز کیا ہوا وفا پہ بحث چھڑ گئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ عشق کو فدا کہوں حقیقت
Ahmad Faraz
111 likes
مرشد مرشد پلیز آج مجھے سمے دیجئے مرشد ہے وہ ہے وہ آج آپ کو دکھڑے سناؤںگا مرشد ہمارے ساتھ بڑا ظلم ہوں گیا تو مرشد ہمارے دیش ہے وہ ہے وہ اک جنگ چھڑ گئی مرشد سبھی غنیم شرافت سے مر گئے مرشد ہمارے ذہن گرفتار ہوں گئے مرشد ہماری سوچ بھی بازاری ہوں گئی مرشد ہماری فوج کیا لڑتی حریف سے مرشد اسے تو ہم سے ہی فرصت نہیں ملی مرشد بے حد سے مار کے ہم خود بھی مر گئے مرشد ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جرح نہیں تلوار دی گئی مرشد ہماری ذات پہ بہتان چڑھ گئے مرشد ہماری ذات پلاندوں ہے وہ ہے وہ دب گئی مرشد ہمارے واسطے ب سے ایک بے وجہ تھا مرشد حقیقت ایک بے وجہ بھی تقدیر لے اڑی مرشد خدا کی ذات پہ اندھا یقین تھا افسو سے اب یقین بھی اندھا نہیں رہا مرشد محبتوں کے نتائج ک ہاں گئے مرشد مری تو زندگی برباد ہوں گئی مرشد ہمارے گاؤں کے بچوں نے بھی کہا مرشد کوں آخہ آ کے صدا حال دیکھ وجہ مرشد ہمارا کوئی نہیں ایک آپ ہیں یہ ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں کے اچھا نہیں ہوا مرشد ہے وہ ہے وہ جل رہا ہوں ہوائیں لگ دیجئے مرشد ازالہ کیجیے دعائیں لگ دیجئے مرشد خاموش رہ
Afkar Alvi
78 likes
"कब" कब ये पेड़ हरे होंगे फिर से कब ये कलियाँ फूटेंगी और ये फूल हसेंगे कब ये झरने अपनी प्यास भरेंगे कब ये नदियाँ शोर मचाएँगी कब ये आज़ाद किए जाएँगे सब पंछी कब जंगल साँसे लेंगे कब सब जाएँगे अपने घर कब हाथों से ज़ंजीरें खोली जाएँगी कब हम ऐसों को पूछेगा कोई और ये फ़क़ीरों को भी क़िस्से में लाया जाएगा कब इन काँटों की भी क़ीमत होगी और मिट्टी सोने के भाव में आएगी कब लोगों की ग़लती टाली जाएगी कब ये हवाएँ पायल पहने झूमेगी कब अंबर से परियाँ उतरेंगी कब पत्थरों से भी ख़ुशबू आएगी कब हंसों के जोड़ें नदियों पे बैठेंगे बरखा गीत बनाएगी और मोर उठा के पर कत्थक करते देखे जाएँगे नीलकमल पानी से इश्क़ लड़ाएंगे मछलियाँ ख़ुशी के गोते मारेंगी कब कोयल की कूक सुनाई देगी कब भॅंवरे फिर गुन- गुन करते लौटेंगे बागों में और कब ये प्यारी तितलियाँ कलर फेकेंगी फिर सब कुछ डूबा होगा रंगों में कब ये दुनिया रौशन होगी कब ये जुगनू अपने रंग में आएँगे कब ये सब मुमकिन है कब सबके ही सपने पूरे होंगे कब अपने मन के मुताबिक़ होगा सब कुछ कब ये बहारें लोटेंगी कब वो तारीख़ आएगी बस मुझ को ही नहीं सब को इंतिज़ार है तेरे ' बर्थडे ' का
BR SUDHAKAR
16 likes
مری زخم نہیں بھرتے یاروں مری ناخون بڑھتے جاتے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ تنہا پیڑ ہوں جنگل کا مری پتے جھڑتے جاتے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کون ہوں کیا ہوں کب کی ہوں ایک تیری کب ہوں سب کی ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کوئل ہوں شہراو کی مجھے تاب نہیں ہے چھاؤں کی ایک دلدل ہے تری وعدوں کی مری پیر اکھڑتے جاتے ہیں مری زخم نہیں بھرتے یاروں مری ناخون بڑھتے جاتے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ک سے بچے کی گڑیا تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ک سے پنجرے کی چڑیا تھی مری کھیلنے والے ک ہاں گئے مجھے چومنے والے ک ہاں گئے مری بالیاں گروی مت رکھنا مری کنگن توڑ نا دینا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بنجر ہوتی جاتی ہوں کہی دریا موڑ نا دینا کبھی ملنا ا سے پر سوچیںگے ہم کیا منزل پر پہنچیں گے راستوں ہے وہ ہے وہ ہی لڑتے جاتے ہیں مری زخم نہیں بھرتے یاروں مری ناخون بڑھتے جاتے ہیں
Tehzeeb Hafi
161 likes
کچی عمر کے پیار یہ کچی عمر کے پیار بھی بڑے پکے نشان دیتے ہیں آج پر کم دھیان دیتے ہیں بہکے بہکے نقص دیتے ہیں ان کو دیکھے ہوئے مدت ہوئی اور ہم اب بھی جان دیتے ہیں کیا پیار ایک بار ہوتا ہے نہیں یہ بار بار ہوتا ہے تو پھروں کیوں کسی ایک کا انتظار ہوتا ہے وہی تو سچا پیار ہوتا ہے اچھا پیار بھی کیا انسان ہوتا ہے کبھی سچا کبھی جھوٹا بے ایمان ہوتا ہے ا سے کی رگوں ہے وہ ہے وہ بھی کیا خاندان ہوتا ہے اور مقصد حیات نفع نقصان ہوتا ہے پیار تو پیار ہوتا ہے
Yasra rizvi
47 likes
More from Kaifi Azmi
نقوش حسرت مٹا کے اٹھنا خوشی کا پرچم ق سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کے اٹھنا ملا کے سر بیٹھنا مبارک ترا لگ فتح گا کے اٹھنا یہ گفتگو گفتگو نہیں ہے بگڑنے بننے کا مرحلہ ہے دھڑک رہا ہے فضا کا سینا کہ زندگی کا معاملہ ہے اڑائے رہے یا بہار آئی تمہارے ہاتھوں ہے وہ ہے وہ فیصلہ ہے لگ چین بے تاب بجلیوں کو لگ مطمئن کاروان شبنم کبھی شگوفوں کے گرم تیور کبھی گلوں کا مزاج برہم شگوفہ و گل کے ا سے تصادم ہے وہ ہے وہ گلستاں بن گیا تو جہنم سجا لیں سب اپنی اپنی جنت اب ایسے خاکے بنا کے اٹھنا خزا لگ رنگ و نور تاریک رہگزاروں ہے وہ ہے وہ لٹ رہا ہے عرو سے گل کا غرور عصمت سیاہکاروں ہے وہ ہے وہ لٹ رہا ہے تمام سرمایہ لطافت ذلیل خارو ہے وہ ہے وہ لٹ رہا ہے گھٹی گھٹی ہیں نمو کی سانسیں چھوٹی چھوٹی نبض گلستاں ہے ہیں گرسنا پھول تشنہ لبی غنچے رخوں پہ زر گرا لبوں پہ جاں ہے ہم نوا ہیں ہم سفیر جب سے اڑائے چمن ہے وہ ہے وہ رواں دواں ہے ا سے انتشار چمن کی سوگند باب زنداں ہلا کے اٹھنا حیات گیتی کی آج جستجو دل شکستہ ہوئی نگاہیں ہیں انقلابی پیام عشق سے کرنیں اتر رہی ہیں
Kaifi Azmi
0 likes
اے ہمہ رنگ ہمہ نور ہمہ سوز و گداز بزم مہتاب سے آنے کی ضرورت کیا تھی تو ج ہاں تھی اسی جنت ہے وہ ہے وہ نکھرتا ترا روپ ا سے جہنم کو بسانے کی ضرورت کیا تھی یہ خد و خال یہ خوابوں سے تراشا ہوا جسم اور دل ج سے پہ خد و خال کی دل پسند بھی نثار بچھاؤ ہی بچھاؤ شرارے ہی شرارے ہیں ی ہاں اور تھم تھم کے اٹھا پاؤں بہاروں کی بہار تشنہ لبی زہر بھی پی جاتی ہے امرت کی طرح جانے ک سے جام پہ رک جائے نگاہ معصوم ڈوبتے دیکھا ہے جن آنکھوں ہے وہ ہے وہ مے خا لگ بھی پیا سے ان آنکھوں کی بجھے یا لگ بجھے کیا معلوم ہیں سبھی حسن پرست اہل نظر صاحب دل کوئی گھر ہے وہ ہے وہ کوئی محفل ہے وہ ہے وہ سجائے گا تجھے تو فقط جسم نہیں شعر بھی ہے گیت بھی ہے کون اشکوں کی گھنی چھاؤں ہے وہ ہے وہ گائے گا تجھے تجھ سے اک درد کا رشتہ بھی ہے ب سے پیار نہیں اپنے آنچل پہ مجھے خوشی بہا لینے دے تو ج ہاں جاتی ہے جا روکنے والا ہے وہ ہے وہ کون اپنے رستے ہے وہ ہے وہ م گر شمع جلا لینے دے
Kaifi Azmi
0 likes
مدتوں ہے وہ ہے وہ اک اندھے کوئیں ہے وہ ہے وہ ہم نوا سر خیال در و دیوار رہا گڑگڑاتا رہا روشنی چاہیے چاندنی چاہیے زندگی چاہیے روشنی پیار کی چاندنی یار کی زندگی دار کی اپنی آواز سنتا رہا رات دن دھیرے دھیرے یقین دل کو آتا رہا سونے سنسر ہے وہ ہے وہ ہے وہ بےوفا یار ہے وہ ہے وہ ہے وہ دامن دار ہے وہ ہے وہ ہے وہ روشنی بھی نہیں چاندنی بھی نہیں زندگی بھی نہیں زندگی ایک رات واہمہ کائنات آدمی بے بسات لوگ کوتاہ قد شہر شہر حسد گاؤں ان سے بھی بد ان اندھیروں نے جب پی سے ڈالا مجھے پھروں اچانک کوئیں نے اچھالا مجھے اپنے سینے سے باہر نکالا مجھے سیکڑوں مصر تھے سامنے سیکڑوں ا سے کے بازار تھے ایک بوڑھی زلیخا نہیں جانے کتنے خریدار تھے بڑھتا جاتا تھا یوسف کا مول لوگ بکنے کو تیار تھے کھل گئے مہ جبینوں کے سر ریشمی چادریں ہٹ گئیں پلکیں جھپکیں لگ نظریں جھکیں مرمریں انگلياں کٹ گئیں ہاتھ دامن تک آیا کوئی دھجیاں دور تک بٹ گئیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ڈر کے لگا دی کوئیں ہے وہ ہے وہ چھلانگ سر پٹکتا لگا پھروں اسی کر
Kaifi Azmi
0 likes
अब तुम आग़ोश-ए-तसव्वुर में भी आया न करो मुझ से बिखरे हुए गेसू नहीं देखे जाते सुर्ख़ आँखों की क़सम काँपती पलकों की क़सम थरथराते हुए आँसू नहीं देखे जाते अब तुम आग़ोश-ए-तसव्वुर में भी आया न करो छूट जाने दो जो दामान-ए-वफ़ा छूट गया क्यूँँ ये लग़्ज़िदा-ख़िरामी पे पशीमाँ-नज़री तुम ने तोड़ा तो नहीं रिश्ता-ए-दिल टूट गया अब तुम आग़ोश-ए-तसव्वुर में भी आया न करो मेरी आहों से ये रुख़्सार न कुम्हला जाएँ ढूँडती होगी तुम्हें रस में नहाई हुई रात जाओ कलियाँ न कहीं सेज की मुरझा जाएँ
Kaifi Azmi
0 likes
کتنی درماندہ ہے فضا کتنی حسین ہے دنیا کتنا مخمور ہے ذوق چمن آرائی آج ا سے سلیقے سے سجائی گئی بزم گیتی تو بھی دیوار اجنتا سے اتر آئی آج رو نمائی کی یہ ساعت یہ تہی دستی شوق لگ چرا سکتا ہوں آنکھیں لگ ملا سکتا ہوں پیار سوغات وفا نذر محبت تحفہ یہی دولت تری قدموں پہ لٹا سکتا ہوں کب سے تخئیل ہے وہ ہے وہ لرزاں تھا یہ چھوؤں گا پیکر کب سے خوابوں ہے وہ ہے وہ مچلتی تھی جوانی تیری مری افسانے کا عنوان بنی جاتی ہے ڈھل کے سانچے ہے وہ ہے وہ حقیقت کے کہانی تیری مرحلے جھیل کے نکھرا ہے مزاق تخلیق سعی پیہم نے دیے ہیں یہ خد و خال تجھے زندگی چلتی رہی کانٹوں پہ انگاروں پر جب ملی اتنی حسین اتنی بیعت چال تجھے تری قامت ہے وہ ہے وہ ہے انساں کی بلن گرا کا نظیر و دختر شہر ہے برزخ کا شاہکار ہے تو اب لگ جھپکےگی پلک اب لگ ہٹیںگی نظریں حسن کا مری لیے آخری معیار ہے تو یہ ترا پیکر سی ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ اولیں ساری دست محنت نے شفق بن کے اڑھا دی تجھ کو ج سے سے محروم ہے فطرت کا فردو سے ج ہاں تربیت نے حقیقت لطافت بھی سکھا دی تجھ کو <
Kaifi Azmi
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Kaifi Azmi.
Similar Moods
More moods that pair well with Kaifi Azmi's nazm.







