سفید بیک سمے تھی جاناں سیڑھیوں پہ بیٹھے تھے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جب کلا سے سے نکلی تھی مسکراتے ہوئے ہماری پہلی ملاقات یاد ہے نا تمہیں اشارے کرتے تھے جاناں مجھ کو آتے جاتے ہوئے تمام رات کو آنکھیں لگ بھولتی تھیں مجھے کہ جن ہے وہ ہے وہ ہے وہ مری لیے عزت اور نظیر و دیکھے مجھے یہ دنیا بیابان تھی م گر اک دن جاناں ایک بار دیکھے اور بےشمار دیکھے مجھے یہ ڈر تھا کہ جاناں بھی کہی حقیقت ہی تو نہیں جو جسم پر ہی تمنا کے داغ چھوڑتے ہیں خدا کا شکر کہ جاناں ان سے مختلف نکلے جو پھول توڑ کے نبھائیے ہے وہ ہے وہ باغ چھوڑتے ہیں زیادہ سمے لگ گزرا تھا ا سے مقدم کو کہ ا سے کے بعد حقیقت لمحہ کریں کریں آیا چھوا تھا جاناں نے مجھے اور مجھے محبت پر یقین آیا تھا لیکن کبھی نہیں آیا پھروں ا سے کے بعد میرا نقشہ سکوت گیا تو ہے وہ ہے وہ ہے وہ کش مکش ہے وہ ہے وہ تھی جاناں مری کون لگتے ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ امرتا تمہیں سوچوں تو مری ساحر ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ فاریحہ تمہیں دیکھوں تو جان لگتے ہوں ہم ایک ساتھ رہے اور ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پتا لگ چلا تعلقات کی حد بندیاں
Related Nazm
حال دل میری دلربا جاناں خوبصورت ہوں صورت سے نہیں سیرت سے مجھے تمہاری سیرت سے محبت ہے اسیلیے سیرت کا جانتا ہوں شرم دہشت پریشانی جنہیں سخن وروں کویوں نے عشق کی لذت بتایا ہے فیلحال یہ میرے درمیان آ رہے ہیں بہرحال میری چاہتیں تمہارے نفس ہے وہ ہے وہ دھڑکتی ہیں زندہ رہتی ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے تمہیں دیکھا ہے دیکھتے ہوئے مجھے چاہتے ہوئے مجھے سوچتے ہوئے اور میرے لیے پریشان ہوتے ہوئے ویسے چاہت ہوں تو کہنا لازمی ہوتا ہے ضروری ہوتا ہے لیکن عشق کی ان میں ہے وہ ہے وہ لفظ خاموش رہتے ہیں اور نگاہیں بات کر لیتی ہیں مجھے پتا ہے ایک دن جاناں میری نگاہوں سے بات کر لوگی پوچھ لوگی اور تمہیں جواب ملےگا ہاں ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی چاہتا ہوں خوب چاہتا ہوں ویسے ہے وہ ہے وہ بھی اپنے جاؤں گا اپنی غزلوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ محبت خوب لکھتا ہوں حالانکہ اپناپن یہ ہے کہ ہے وہ ہے وہ بھی کہنے ہے وہ ہے وہ خوف تقاضا ہوں ویسے برا نہ ماننا کہ ہے وہ ہے وہ نے جاناں سے کبھی اظہار نہیں کیا سوچ لینا کہ تھی
Rakesh Mahadiuree
25 likes
تمہیں اک بات کہنی تھی اجازت ہوں تو کہ دوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ بھیگا بھیگا سا موسم یہ تتلی پھول اور شبنم چمکتے چاند کی باتیں یہ بوندیں اور برساتیں یہ کالی رات کا آنچل ہوا ہے وہ ہے وہ ناچتے بادل دھڑکتے موسموں کا دل مہکتی سرسرا کا دل یہ سب جتنے نظارے ہیں کہو ک سے کے اشارے ہیں سبھی باتیں سنی جاناں نے پھروں آنکھیں پھیر لیں جاناں نے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تب جا کر کہی سمجھا کہ جاناں نے کچھ نہیں سمجھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ قصہ بڑھوا کر کے ذرا نیچی نظر کر کے یہ کہتا ہوں ابھی جاناں سے محبت ہوں گئی جاناں سے
Zubair Ali Tabish
117 likes
کیوں ہے جاناں نہیں ہوں ی ہاں پر پھروں بھی تمہارے ہونے کا احسا سے کیوں ہے کچھ ہے نہیں مری ہاتھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پھروں بھی کچھ ہونے کی یہ آ سے کیوں ہے بڑی حیرانی ہے مجھے کی حقیقت دور ہوکر بھی اتنا پا سے کیوں ہے سب نے کہا کہ حقیقت تو پرایا ہے حقیقت پرایا ہوکر بھی اتنا خاص کیوں ہے جتنا حقیقت دور ہے مجھ سے حقیقت اتنا ہی مجھ کو را سے کیوں ہے بیٹھا ہوں بلکل اکانت ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پھروں بھی کانوں ہے وہ ہے وہ ا سے کی آواز کیوں ہے کھل کے نہیں کہتی حقیقت کچھ بھی ا سے کی آنکھوں ہے وہ ہے وہ اتنے راز کیوں ہیں بسی ہے دل ہے وہ ہے وہ حقیقت مری یہ میرا دل ا سے کا سمپتی کیوں ہے اس کا کا کو نہیں بھلا سکتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ ا سے کے نام کی ہر شوا سے کیوں ہے پوری کائنات ا سے کی یاد دلاتی ہے یہ تن من ہے وہ ہے وہ ا سے کا وا سے کیوں ہے حقیقت مری ہوئی نہیں ہے ابھی اس کا کا کو کھونے کے ڈر سے من اتنا بدحوا سے کیوں ہے دوریاں لکھی ہیں چنو درمیان میرا نصیب مجھ سے اتنا ناراض کیوں ہے ایسے شبد ک ہاں سے لاؤں کی حقیقت سمجھے
Divya 'Kumar Sahab'
37 likes
ہے وہ ہے وہ سگریٹ تو نہیں پیتا م گر ہر آنے والے سے پوچھ لیتا ہوں کہ ماچ سے ہے بے حد کچھ ہے جسے ہے وہ ہے وہ پھونک دینا چاہتا ہوں
Gulzar
107 likes
دوست کے نام خط جاناں نے حال پوچھا ہے حالت محبت ہے وہ ہے وہ ہے وہ حال کا بتانا کیا دل سسک رہا ہوں تو زخم کا چھپانا کیا جاناں جو پوچھ بیٹھے ہوں کچھ تو اب بتانا ہے بات ایک بہانا ہے جاناں نے حال پوچھا ہے اک دیا جلاتا ہوں ٹھیک ہے بتاتا ہوں روز ا سے کی یادوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ دور تک چلے جانا جو بھی تھا کہا ا سے نے اپنے ساتھ دہرانا سان سے جب گردشیں تو پھروں اپنی مرتی آنکھوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کی شکل لے آنا اور زندگی پانا روز ایسے ہوتا ہے کچھ پرانی میسج ہیں جن ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کی باتیں ہیں کچھ طویل صبحے ہیں کچھ اچھی اچھی راتیں ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے کی باتوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ زندگی گزاری ہے زندگی مٹانے کا حوصلہ نہیں مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایک ایک لفظ ا سے کا سان سے ہے وہ ہے وہ فقط ہے روح ہے وہ ہے وہ سمویا ہے ا سے کے جتنے میسج ہے روز کھول لیتا ہوں ا سے سے کہ نہیں پاتا خود سے بول لیتا ہوں ا سے کے پیج پر جا کر روز دیکھتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ آج ک
Ali Zaryoun
70 likes
More from Tehzeeb Hafi
ہے وہ ہے وہ سپنوں ہے وہ ہے وہ آکسیجن پلانٹ انسٹال کر رہا ہوں اور ہر مرنے والے کے ساتھ مر رہا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنے لفظوں کے ذریعے تمہیں سانسوں کے سلنڈر بھیجوں گا جو تمہیں ا سے جنگ ہے وہ ہے وہ ہارنے نہیں دیں گے اور تمہاری دیکھ بھال کرنے والوں کے ہاتھوں کو کانپنے نہیں دیں گے آکسیجن اسٹاک ختم ہونے کی خبریں گردش بھی کریں تو کیا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تمہارے لیے اپنی نظموں سے وینٹیلیٹر بناؤں گا اسپتالوں کے بستر بھر بھی جائیں کچھ لوگ جاناں سے بچھڑ بھی جائیں تو حوصلہ مت شفت کیونکہ رات چاہے جتنی مرضی کالی ہوں گزر جانے کے لیے ہوتی ہے رنگ اتر جانے کے لیے ہوتے ہیں اور زخم بھر جانے کے ہوتے ہیں
Tehzeeb Hafi
46 likes
مجھے بے حد ہے کے ہے وہ ہے وہ بھی شامل ہوں تیری زلفوں کی زائرینوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جو اماوَ سے کی کالی راتوں کا رزق بننے سے بچ گئے مجھے قسم ہے ادا سے راتوں ہے وہ ہے وہ ڈسنے والے یتیم سانپوں کی زہر آلود زندگی کی تری چھوئے جسم بستر مرگ پر پڑے ہیں تری لبوں کی خفيف جنبش سے زلزلوں نے ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ کا زیور اتار پھینکا تیری درخشاں ہتھیلیوں پر بدلتے موسم کے ذائقوں سے پتا چلا ہے کے ا سے تعلق کی سر ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پر خیزہ بے حد دیر تک رہےگی ہے وہ ہے وہ ہے وہ جانتا ہوں کے ہے وہ ہے وہ نے ممنوع جھونپڑیوں سے ہوں کے ایسے بے حد سے بابوں کی سیر کی ہے ج ہاں سے تو روکتی بے حد تھی یہ ہاتھ جن کو تری بدن کی چمک نے برسوں نڈھال رکھا حرام ہے کے ان ہوں نے شاخوں سے پھول گرفت ہوں یا کسی بھی پیڑ کے لچکدار حسن دلآویز سے کسی بھی موسم کا فل اتارا ہوں اور ا گر ایسا ہوں بھی جاتا تو پھروں بھی تیری شریشت ہے وہ ہے وہ انتقام کب ہے ابھی محبت کی صبح روشن ہے شام کب ہے یہ دل کے شیشے پر پڑھنے لگیں والی ملال کی دھول صاف کر دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھ سے چھپ کر ا گر کسی سے ملا تو مجھے
Tehzeeb Hafi
25 likes
مقرر کیا ہے صبح روشن تھی اور گرمیوں کے تھکا دینے والے دنوں میں ساری دنیا سے آزاد ہم مچھلیوں کی طرح میلی نہروں میں گوٹے لگاتے اپنے چہرے پہ کیچڑ لگا کر ڈراتے تھے ایک دوسرے کو کنارو پہ بیٹھے ہوئے ہم نے جو عہد ایک دوسرے سے لیے تھے اس کے دھندلے سے نقشے آج بھی میرے دل پر کہیں نقش ہیں خدا روز سورج کو تیار کر کے ہماری طرف بھیجتا تھا اور ہم سایہ کفر میں ایک دوجے کے چہرے کی تابندگی کی دعا مانگتے تھے اس کا چہرہ کبھی میری آنکھوں سے اوجھل نہیں ہو سکا اس کا چہرہ اگر میری آنکھوں سے ہٹتا تو میں کائنات میں پھیلے ہوئے ان مظاہر کی تفہیم نظموں میں کرتا کہ جس پر بزید نے یہ بیمار جن کو خود اپنی تمناؤں کی آتماوں نے اتنا ڈرایا کے انکو ہوس کے قفس میں محبت کی کرنوں نے چھونے کی کوشش بھی کی تو یہ اس سے پرے ہو گئے ان کے بس میں نہیں کہ یہ محسوس کرتے اک محبت بھرے ہاتھ کا لمس جس سے انکار کر کر کے ان کے بدن خوردری ہو گئے ایک دن جو خدا اور محبت کی اک قسط کو اگلے دن پر نہیں ٹال سکتے خدا اور محبت پہ رائزنی کرتے تھکتے نہیں اور اس پر بھی یہ چاہتے ہیں کہ میں ان کی مرضی کی نظمیں کہوں جن<
Tehzeeb Hafi
26 likes
کتنا عرصہ لگا نا امی گرا کے پربت سے پتھر ہٹاتے ہوئے ایک بفری ہوئی لہر کو رام کرتے ہوئے نا خداوں ہے وہ ہے وہ اب پیچھے کتنے بچے ہیں روشنی اور اندھیرے کی تفریق ہے وہ ہے وہ کتنے لوگوں نے آنکھیں گنوا دیں کتنی صدیاں سفر ہے وہ ہے وہ گزاری م گر آج پھروں ا سے جگہ ہیں ج ہاں سے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنی ماوں نے رخصت کیا تھا اپنے سب سے بڑے خواب کو اپنی آنکھوں کے آگے اجڑتے ہوئے دیکھنے سے برا کچھ نہیں ہے تیری قربت ہے وہ ہے وہ یا تجھ سے دوری پہ جتنی گزاری تیری چوڑیوں کی قسم زندگی دائروں کے سوا کچھ نہیں ہے کہنیوں سے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنا منا ڈھانپ کر کھانسنے کو بڑوں نے کہا تھا تو ہم ان پہ ہنستے تھے اور سوچتے تھے کہ ان کو ٹشو پیپروں کی مہک سے الرجی ہے لیکن ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ پتا ہی نہیں تھا کہ ان پہ حقیقت آفات ٹوٹی ہیں جن کا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اک ص گرا بعد پھروں سامنا ہے وبا کے دنوں ہے وہ ہے وہ کسے ہوش رہتا ہے ک سے ہاتھ کو کھڑکیاں ہے کسے تھامنا ہے اک ریاضی کے استاد نے اپنے ہاتھوں ہے وہ ہے وہ پرکار لے کر یہ
Tehzeeb Hafi
21 likes
صبحیں روشن تھی اور گرمیوں کی تھکا دینے والے دنوں میں ساری دنیا سے آزاد ہم مچھلیوں کی طرح میلی نہروں میں گوٹے لگاتے اپنے چہروں سے کیچڑ دیکھیں گے ڈراتے تھے ایک دوسرے کو کناروں پر بیٹھے ہوئے ہم نے جو عہد ایک دوسرے سے لیے تھے اس کے دھندلے سے نقشے آج بھی میرے دل پر کہیں نقش ہے خدا روز سورج کو تیار کر کے ہماری طرف بھیجتا تھا اور ہم سایہ کفر میں اک دوجے کے چہرے کی تابندگی کی دعا مانگتے تھے اس کا چہرہ کبھی میری آنکھوں سے اوجھل نہیں ہو سکا اس کا چہرہ اگر میری آنکھوں سے ہٹتا تو میں کائناتوں میں پھیلے ہوئے ان مظاہر کی تفہیم نظموں میں کرتا کہ جس پر بزید ہے یہ بیمار جن کو خود اپنی تمناؤں کی آتماوں نے اتنا ڈرایا کہ انکو ہوس کے قفس میں محبت کی کرنوں نے چھونے کی کوشش بھی کی تو یہ اس سے پرے ہو گئے ان کے بس میں نہیں کہ یہ محسوس کرتے ایک محبت بھرے ہاتھ کا لمس جن سے انکار کر کر کے ان کے بدن خوردورے ہو گئے ایک دن جو خدا اور محبت کی ایک قسط کو اگلے دن پر نہیں ٹال سکتے خدا اور محبت پر رائے زنی کرتے تھکتے نہیں اور اس پر بھی یہ چاہتے ہیں کہ میں ان کی مرضی کی نظمی
Tehzeeb Hafi
18 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Tehzeeb Hafi.
Similar Moods
More moods that pair well with Tehzeeb Hafi's nazm.







