nazmKuch Alfaaz

پریاگ ہے وہ ہے وہ ملی ہے جمنا سے آ کے گنگا پگھلا ہوا یہ نیلم بہتا ہوا حقیقت ہیرا ان کی جدائیوں نے کھینچا ہے نقش جوزا ان کی روانیاں ہیں شان خدا یکتا سنگم کی سیڑھیوں پر اندھیرا لڑھک رہا ہے

Related Nazm

جاناں ہوں جاناں سکون ہوں پر سکون ہوں مری عشق کا جاناں جنون ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہوش ہے وہ ہے وہ باہوش ہے وہ ہے وہ ہے وہ مری جسم کا جاناں خون ہوں جاناں سرد ہوں برسات بھی مری گرمیوں کی جاناں نومبر ہوں جاناں غزل ہوں ہوں جاناں شاعری مری لکھی نجم کی دھن ہوں مری ہنسی بھی جاناں مری خوشی بھی جاناں مری ای سے حیات کی ممنون ہوں جاناں دھوپ ہوں مری چھاؤں بھی جاناں سیاہ رات کا مون ہوں جاناں سن ہوں جاناں کاف بھی جاناں واو کے بعد کی نون ہوں جاناں سکون ہوں پر سکون ہوں مری عشق کا جاناں جنون ہوں

ZafarAli Memon

25 likes

تمہارا فون آیا ہے عجب سی اوب شامل ہوں گئی ہے روز جینے ہے وہ ہے وہ ہے وہ پلوں کو دن ہے وہ ہے وہ دن کو کاٹ کر جینا مہینے ہے وہ ہے وہ ہے وہ محض مایوسیاں جگتی ہیں اب کیسی بھی آہٹ پر ہزاروں الجھنوں کے گھونسلے لٹکے ہیں چوکھٹ پر اچانک سب کی سب یہ چپپیاں اک ساتھ پگھلی ہیں امیدیں سب سمٹ کر ہاتھ بن جانے کو مچلی ہیں میرے کمرے کے سناٹے نے انگڑائی سی دکھتی ہے میری خاموشیوں نے ایک نغمہ گنگنایا ہے تمہارا فون آیا ہے تمہارا فون آیا ہے ستی کا چیترا دکھ جائے چنو روپ باڑی ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہ چنو چھٹھ کے موقعے پر جگہ مل جائے گاڑی ہے وہ ہے وہ ہے وہ میری آواز سے جاگے تمہارے بام و در چنو یہ ناممکن سی حسرت ہے خیالی ہے مگر چنو بڑی ناکامیوں کے بعد ہمت کی لہر چنو بڑی بےچینیوں کے بعد راحت کا پہر چنو بڑی گمنامیوں کے بعد شہرت کی مہر چنو صبح اور شام کو سادھے ہوئے اک دوپہر چنو بڑے عنوان کو باندھے ہوئے چھوٹی بہر چنو نئی دلہن کے شرماتے ہوئے شام و سحر چنو ہتھیلی پر رچی مہندی اچانک مسکرائی ہے میری آنکھوں ہے وہ ہے وہ آنسو کا ستارہ جگمگایا ہے تمہارا

Kumar Vishwas

81 likes

تمہیں اک بات کہنی تھی اجازت ہوں تو کہ دوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ بھیگا بھیگا سا موسم یہ تتلی پھول اور شبنم چمکتے چاند کی باتیں یہ بوندیں اور برساتیں یہ کالی رات کا آنچل ہوا ہے وہ ہے وہ ناچتے بادل دھڑکتے موسموں کا دل مہکتی سرسرا کا دل یہ سب جتنے نظارے ہیں کہو ک سے کے اشارے ہیں سبھی باتیں سنی جاناں نے پھروں آنکھیں پھیر لیں جاناں نے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تب جا کر کہی سمجھا کہ جاناں نے کچھ نہیں سمجھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ قصہ بڑھوا کر کے ذرا نیچی نظر کر کے یہ کہتا ہوں ابھی جاناں سے محبت ہوں گئی جاناں سے

Zubair Ali Tabish

117 likes

دوست کے نام خط جاناں نے حال پوچھا ہے حالت محبت ہے وہ ہے وہ ہے وہ حال کا بتانا کیا دل سسک رہا ہوں تو زخم کا چھپانا کیا جاناں جو پوچھ بیٹھے ہوں کچھ تو اب بتانا ہے بات ایک بہانا ہے جاناں نے حال پوچھا ہے اک دیا جلاتا ہوں ٹھیک ہے بتاتا ہوں روز ا سے کی یادوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ دور تک چلے جانا جو بھی تھا کہا ا سے نے اپنے ساتھ دہرانا سان سے جب گردشیں تو پھروں اپنی مرتی آنکھوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کی شکل لے آنا اور زندگی پانا روز ایسے ہوتا ہے کچھ پرانی میسج ہیں جن ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کی باتیں ہیں کچھ طویل صبحے ہیں کچھ اچھی اچھی راتیں ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے کی باتوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ زندگی گزاری ہے زندگی مٹانے کا حوصلہ نہیں مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایک ایک لفظ ا سے کا سان سے ہے وہ ہے وہ فقط ہے روح ہے وہ ہے وہ سمویا ہے ا سے کے جتنے میسج ہے روز کھول لیتا ہوں ا سے سے کہ نہیں پاتا خود سے بول لیتا ہوں ا سے کے پیج پر جا کر روز دیکھتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ آج ک

Ali Zaryoun

70 likes

तुम हमारे लिए तुम हमारे लिए अर्चना बन गई हम तुम्हारे लिए एक दर्पण प्रिये तुम मिलो तो सही हाल पूछो मेरा हम न रो दें तो कह देना पत्थर प्रिये प्यार मिलना नहीं था अगर भाग्य में देवताओं ने हम सेे ये छल क्यूँ किया मेरे दिल में भरी रेत ही रेत थी दे के अमृत ये हम को विकल क्यूँ किया अप्सरा हो तो हो पर हमारे लिए तुम ही सुंदर सुकोमल सुघर हो प्रिये देवताओं के गणितीय संसार में ऐसा भी है नहीं कोई अच्छा न था हम अगर इस जनम भी नहीं मिल सके सब कहेंगे यही प्यार सच्चा न था कायरों को कभी प्यार मिलता नहीं फ़ैसला कोई ले लो कि डटकर प्रिये मम्मी कहती थीं चंदा बहुत दूर है चाँद से आगे हम को सितारा लगा यूँँ तो चेहरे ही चेहरे थे दुनिया में पर एक तेरा ही चेहरा पियारा लगा पलकों पे मेरी रख कर क़दम तुम चलो पॉंव में चुभ न जाए कि कंकड़ प्रिये

Rakesh Mahadiuree

24 likes

More from Zafar Ali Khan

زندہ باش اے انقلاب اے شعلہ فانو سے ہند گر میاں ج سے کی فروغ منقل جاں ہوں گئیں بستیوں پر چھا رہی تھیں موت کی خاموشیاں تو نے شوق دید اپنا جو پھونکا محشرستاں ہوں گئیں جتنی بوندیں تھیں شہیدان وطن کے خون کی قصر آزا گرا کی آرائش کا سامان ہوں گئیں مرحبا اے نو گرفتاراں بیداد فرنگ جن کی زنجیریں خروش افزا زنداں ہوں گئیں زندگی ان کی ہے دین ان کا ہے دنیا ان کی ہے جن کی جانیں قوم کی عزت پہ قرباں ہوں گئیں

Zafar Ali Khan

0 likes

اے نکتہ وران سخن آرا و سخن سنج اے نغمہ گران چمنستان مافی مانا کہ دل افروز ہے افسا لگ ازرا مانا کہ دل آویز ہے سلما کی کہانی مانا کہ ا گر چھیڑ حسینوں سے چلی جائے کٹ جائےگا ا سے مشغلے ہے وہ ہے وہ عہد جوانی گرمائےگا یہ ہمہمہ افسردہ دلوں کو بڑھ جائے گی دریا طبیعت کی روانی مانا کہ ہیں آپ اپنے زمانے کے نظیری مانا کہ ہر اک آپ ہے وہ ہے وہ ہے عرفی ثانی مانا کی حدیث خط و رخسار کے آگے بیکار ہے مشائیوں کی فلسفہ دانی مانا کہ یہی زلف و خط و خال کی روداد ہے مایہ گل کاری ایوان مافی لیکن کبھی ا سے بات کو بھی آپ نے سوچا یہ آپ کی تقویم ہے صدیوں کی پرانی معشوق نئے بزم نئی رنگ نیا ہے پیدا نئے خامے ہوئے ہیں اور نئے معنی مژگاں کی سناں کے عوض اب سنتی ہے محفل کانٹوں کی کتھا برہ لگ پائی کی زبانی لذت حقیقت ک ہاں کہکشاں لب یار ہے وہ ہے وہ ہے آج جو دے رہی ہے پیٹ کے بھوکوں کی کہانی بدلا ہے زما لگ تو بد لیے رویش اپنی جو قوم ہے منجملہ و اسباب ماتم یہ ہے ا سے کی نشانی اے ہم نفسو یاد رہے خوب یہ جاناں کو بستی نئی مشرق ہے وہ ہے وہ ہ ہے وہ ہے وہ ہے

Zafar Ali Khan

0 likes

وزیر چند نے پوچھا ظفر علی خاں سے شریکرش لگ سے کیا جاناں کو بھی ارادت ہے کہا یہ ا سے نے حقیقت تھے اپنے سمے کے ہا گرا اسی لیے ادب ان کا مری سعادت ہے فساد سے ا نہیں خوبصورت تھی جو ہے مجھ کو بھی اور ا سے پہ دے رہی فطرت مری شہادت ہے ہے ا سے وطن ہے وہ ہے وہ اک ایسا گروہ بھی موجود شریکرش لگ کی جو کر رہا عبادت ہے م گر فساد ہے ا سے کی سرشت ہے وہ ہے وہ داخل بیچارے کیا کریں پڑ ہی چکی یہ عادت ہے

Zafar Ali Khan

0 likes

ناقو سے سے غرض ہے لگ زار اذان سے ہے مجھ کو ا گر ہے عشق تو ہندوستان سے ہے تہذیب ہند کا نہیں چشمہ ا گر ازل یہ موج رنگ رنگ پھروں آئی ک ہاں سے ہے زرے ہے وہ ہے وہ گر تڑپ ہے تو ا سے عرض پاک سے سورج ہے وہ ہے وہ روشنی ہے تو ا سے آ سماں سے ہے ہے ا سے کے دم سے گرمی ہنگامہ ج ہاں مغرب کی ساری رونق اسی اک دکان سے ہے

Zafar Ali Khan

2 likes

بارہا دیکھا ہے تو نے آ سماں کا انقلاب کھول آنکھ اور دیکھ اب ہندوستان کا انقلاب مغرب و مشرق نظر آنے لگے زیر و زبر انقلاب ہند ہے سارے ج ہاں کا انقلاب کر رہا ہے قصر آزا گرا کی بنیاد چارہ ساز فطرت طفل و زن و پیر و جاں کا انقلاب دل پامال والے چھا رہے ہیں جبر کی اقلیم پر ہوں گیا تو فرسودہ شمشیر و سناں کا انقلاب

Zafar Ali Khan

0 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Zafar Ali Khan.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Zafar Ali Khan's nazm.