زندہ باش اے انقلاب اے شعلہ فانو سے ہند گر میاں ج سے کی فروغ منقل جاں ہوں گئیں بستیوں پر چھا رہی تھیں موت کی خاموشیاں تو نے شوق دید اپنا جو پھونکا محشرستاں ہوں گئیں جتنی بوندیں تھیں شہیدان وطن کے خون کی قصر آزا گرا کی آرائش کا سامان ہوں گئیں مرحبا اے نو گرفتاراں بیداد فرنگ جن کی زنجیریں خروش افزا زنداں ہوں گئیں زندگی ان کی ہے دین ان کا ہے دنیا ان کی ہے جن کی جانیں قوم کی عزت پہ قرباں ہوں گئیں
Related Nazm
رمز جاناں جب آوگی تو کھویا ہوا پاؤ گی مجھے مری تنہائی ہے وہ ہے وہ خوابوں کے سوا کچھ بھی نہیں مری کمرے کو سجانے کی تمنا ہے تمہیں مری کمرے ہے وہ ہے وہ کتابوں کے سوا کچھ بھی نہیں ان کتابوں نے بڑا ظلم کیا ہے مجھ پر ان ہے وہ ہے وہ اک رمز ہے ج سے رمز کا مارا ہوا ذہن مژدہ عشرت انجام نہیں پا سکتا زندگی ہے وہ ہے وہ کبھی آرام نہیں پا سکتا
Jaun Elia
216 likes
تو کسی اور ہی دنیا ہے وہ ہے وہ ملی تھی مجھ سے تو کسی اور ہی موسم کی مہک لائی تھی ڈر رہا تھا کہ کہی زخم لگ بھر جائیں مری اور تو مٹھیاں بھر بھر کے نمک لائی تھی اور ہی طرح کی آنکھیں تھی تری چہرے پر تو کسی اور ستارے تم سے چمک لائی تھی تیری آواز ہی سب کچھ تھی مجھے مون سے جاں کیا کروں ہے وہ ہے وہ کہ تو بولی ہی بے حد کم مجھ سے تیری چپ سے ہی یہی محسو سے کیا تھا ہے وہ ہے وہ نے جیت جائےگا تیرا غم کسی روز مجھ سے شہر آوازیں لگاتا تھا م گر تو چپ تھی یہ تعلق مجھے تقاضا تھا م گر تو چپ تھی وہی انجام تھا جو عشق کا آغاز سے ہے تجھ کو پایا بھی نہیں تھا کہ تجھے کھونا تھا چلی آتی ہے یہی رسم کئی صدیوں سے یہی ہوتا ہے یہی ہوگا یہی ہونا تھا پوچھتا رہتا تھا تجھ سے کہ بتا کیا دکھ ہے اور مری آنکھ ہے وہ ہے وہ آنسو بھی نہیں ہوتے تھے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے اندازے لگائے کے سبب کیا ہوگا پر مری تیر ترازو بھی نہیں ہوتے تھے جس کا ڈر تھا مجھے معلوم پڑا لوگوں سے پھروں حقیقت خوش بخت پلٹ آیا تیری دنیا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ج سے کے جانے پہ مجھے تو نے جگہ دی دل ہے
Tehzeeb Hafi
180 likes
چار زندگی سب کو ملا ہے چار زندگی کا سفر ماں کا پیٹ اور دنیا کا گھر چھوٹی سی قبر اور میدان حشر پہلی زندگی کا تصور ا گر ماں کا پیٹ جاناں کو آئےگا نظر نو مہینے ج سے نے کیا تھا دل پامال جاناں نے دیا کیا ا سے کا اجر دوسری زندگی دنیا کا گھر ج سے ہے وہ ہے وہ بسایا جاناں نے شہر تھی چار دن کی زندگی م گر ا سے پر لگا دی پوری عمر ملی جب موت کی سب کو خبر پچھتاننے لگے پھروں ہوا یہ اثر اہل و عیال بھی روئے ادھر ہوا تیار جنازہ ادھر بے رخی زندگی جس کا پیٹ قبر ہوں گے سب دور تجھے دفن کر آئیں گے فرشتے جیوںگی قبر پر لگے گا سوالوں کا ایک امبر دینا جواب تب خود کے بل پر جب پہنچےگی دنیا ا سے موڑ پر خوشگوار تک ہے قبر کا سفر چوتھی زندگی میدان حشر جدھر ملےگا نیکی ب گرا کا اجر سامنے ہوگا پل صراط سفر تیزی سے گزرےگا حقیقت ہی ا سے پر جو پڑھتا نماز مغرب سے عصر ج سے نے کیا بیت اللہ کا سفر ج سے نے بنایا نبی کو رہبر جنت ہے وہ ہے وہ ہوں گے محل اور شجر اور خوف ہے وہ ہے وہ ہوں گے آگ کے امبر لگ معلوم کتنی
ZafarAli Memon
14 likes
राइगानी मैं कमरे में पिछले इकत्तीस दिनों से फ़क़त इस हक़ीक़त का नुक़सान गिनने की कोशिश में उलझा हुआ हूँ कि तू जा चुकी है तुझे राइगानी का रत्ती बराबर अंदाज़ा नहीं है तुझे याद है वो ज़माना जो कैम्पस की पगडंडियों पे टहलते हुए कट गया था तुझे याद है कि जब क़दम चल रहे थे कि एक पैर तेरा था और एक मेरा क़दम वो जो धरती पे आवाज़ देते कि जैसे हो रागा कोई मुतरीबों का क़दम जैसे के सा पा गा मा पा गा सा रे वो तबले की तिरखट पे तक धिन धिनक धिन तिनक धिन धना धिन बहम चल रहे थे, क़दम चल रहे थे क़दम जो मुसलसल अगर चल रहे थे तो कितने गवइयों के घर चल रहे थे मगर जिस घड़ी तू ने उस राह को मेरे तन्हा क़दम के हवाले किया उन सुरों की कहानी वहीं रुक गई कितनी फनकारियाँ कितनी बारीकियाँ कितनी कलियाँ बिलावल गवईयों के होंठों पे आने से पहले फ़ना हो गए कितने नुसरत फ़तह कितने मेहँदी हसन मुन्तज़िर रह गए कि हमारे क़दम फिर से उठने लगें तुझ को मालूम है जिस घड़ी मेरी आवाज़ सुन के तू इक ज़ाविये पे पलट के मुड़ी थी वहाँ से, रिलेटिविटी का जनाज़ा उठा था कि उस ज़ाविये की कशिश में ही यूनान के फ़लसफ़े सब ज़मानों की तरतीब बर्बाद कर के तुझे देखने आ गए थे कि तेरे झुकाव की तमसील पे अपनी सीधी लकीरों को ख़म दे सकें अपनी अकड़ी हुई गर्दनों को लिए अपने वक़्तों में पलटें, जियोमैट्री को जन्म दे सकें अब भी कुछ फलसफ़ी अपने फीके ज़मानों से भागे हुए हैं मेरे रास्तों पे आँखें बिछाए हुए अपनी दानिस्त में यूँँ खड़े हैं कि जैसे वो दानिश का मम्बा यहीं पे कहीं है मगर मुड़ के तकने को तू ही नहीं है तो कैसे फ्लोरेन्स की तंग गलियों से कोई डिवेन्ची उठे कैसे हस्पानिया में पिकासु बने उन की आँखों को तू जो मुयस्सर नहीं है ये सब तेरे मेरे इकट्ठे ना होने की क़ीमत अदा कर रहे हैं कि तेरे ना होने से हर इक ज़मा में हर एक फ़न में हर एक दास्ताँ में कोई एक चेहरा भी ताज़ा नहीं है तुझे राइगानी का रत्ती बराबर अंदाज़ा नहीं है
Sohaib Mugheera Siddiqi
73 likes
مریم ہے وہ ہے وہ ہے وہ آئینوں سے گریز کرتے ہوئے پہاڑوں کی کوکھ ہے وہ ہے وہ سان سے لینے والی ادا سے جھیلوں ہے وہ ہے وہ اپنے چہرے کا عک سے دیکھوں تو سوچتا ہوں کہ مجھ ہے وہ ہے وہ ایسا بھی کیا ہے مریم تمہاری بے ساختہ محبت ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہ پھیلے ہوئے سمندر کی وسعتوں سے بھی ماورا ہے محبتوں کے سمندروں ہے وہ ہے وہ ب سے ایک بحرہ ہجر ہے جو برا ہے مریم خلا نوردوں کو جو ستارے تم معاوضے ہے وہ ہے وہ ملے تھے حقیقت ان کی روشنی ہے وہ ہے وہ یہ سوچتے ہیں کہ سمے ہی تو خدا ہے مریم اور ا سے مقدم کی گٹھریوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ رکی ہوئی ساعتوں سے ہٹکر مری لیے اور کیا ہے مریم ابھی بے حد سمے ہے کہ ہم سمے دے ذرا اک دوسرے کو م گر ہم اک ساتھ رہ کر بھی خوش لگ رہ سکے تو معاف کرنا کہ ہے وہ ہے وہ نے بچپن ہی دکھ کی دہلیز پر گزارا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ان چراغوں کا دکھ ہوں جن کی لوے شب انتظار ہے وہ ہے وہ بجھ گئی م گر ان سے اٹھنے والا دھواں زمان و مکان ہے وہ ہے وہ پھیلا ہوا ہے اب تک ہے وہ ہے وہ ہے وہ نشان نقش پا اور ان کے جسموں سے بہنے والی ان آبشاروں کا دکھ ہوں جن ک
Tehzeeb Hafi
158 likes
More from Zafar Ali Khan
پریاگ ہے وہ ہے وہ ملی ہے جمنا سے آ کے گنگا پگھلا ہوا یہ نیلم بہتا ہوا حقیقت ہیرا ان کی جدائیوں نے کھینچا ہے نقش جوزا ان کی روانیاں ہیں شان خدا یکتا سنگم کی سیڑھیوں پر اندھیرا لڑھک رہا ہے
Zafar Ali Khan
0 likes
بارہا دیکھا ہے تو نے آ سماں کا انقلاب کھول آنکھ اور دیکھ اب ہندوستان کا انقلاب مغرب و مشرق نظر آنے لگے زیر و زبر انقلاب ہند ہے سارے ج ہاں کا انقلاب کر رہا ہے قصر آزا گرا کی بنیاد چارہ ساز فطرت طفل و زن و پیر و جاں کا انقلاب دل پامال والے چھا رہے ہیں جبر کی اقلیم پر ہوں گیا تو فرسودہ شمشیر و سناں کا انقلاب
Zafar Ali Khan
0 likes
وزیر چند نے پوچھا ظفر علی خاں سے شریکرش لگ سے کیا جاناں کو بھی ارادت ہے کہا یہ ا سے نے حقیقت تھے اپنے سمے کے ہا گرا اسی لیے ادب ان کا مری سعادت ہے فساد سے ا نہیں خوبصورت تھی جو ہے مجھ کو بھی اور ا سے پہ دے رہی فطرت مری شہادت ہے ہے ا سے وطن ہے وہ ہے وہ اک ایسا گروہ بھی موجود شریکرش لگ کی جو کر رہا عبادت ہے م گر فساد ہے ا سے کی سرشت ہے وہ ہے وہ داخل بیچارے کیا کریں پڑ ہی چکی یہ عادت ہے
Zafar Ali Khan
0 likes
اے نکتہ وران سخن آرا و سخن سنج اے نغمہ گران چمنستان مافی مانا کہ دل افروز ہے افسا لگ ازرا مانا کہ دل آویز ہے سلما کی کہانی مانا کہ ا گر چھیڑ حسینوں سے چلی جائے کٹ جائےگا ا سے مشغلے ہے وہ ہے وہ عہد جوانی گرمائےگا یہ ہمہمہ افسردہ دلوں کو بڑھ جائے گی دریا طبیعت کی روانی مانا کہ ہیں آپ اپنے زمانے کے نظیری مانا کہ ہر اک آپ ہے وہ ہے وہ ہے عرفی ثانی مانا کی حدیث خط و رخسار کے آگے بیکار ہے مشائیوں کی فلسفہ دانی مانا کہ یہی زلف و خط و خال کی روداد ہے مایہ گل کاری ایوان مافی لیکن کبھی ا سے بات کو بھی آپ نے سوچا یہ آپ کی تقویم ہے صدیوں کی پرانی معشوق نئے بزم نئی رنگ نیا ہے پیدا نئے خامے ہوئے ہیں اور نئے معنی مژگاں کی سناں کے عوض اب سنتی ہے محفل کانٹوں کی کتھا برہ لگ پائی کی زبانی لذت حقیقت ک ہاں کہکشاں لب یار ہے وہ ہے وہ ہے آج جو دے رہی ہے پیٹ کے بھوکوں کی کہانی بدلا ہے زما لگ تو بد لیے رویش اپنی جو قوم ہے منجملہ و اسباب ماتم یہ ہے ا سے کی نشانی اے ہم نفسو یاد رہے خوب یہ جاناں کو بستی نئی مشرق ہے وہ ہے وہ ہ ہے وہ ہے وہ ہے
Zafar Ali Khan
0 likes
पहुँचता है हर इक मय-कश के आगे दौर-ए-जाम उस का किसी को तिश्ना-लब रखता नहीं है लुत्फ़-ए-आम उस का गवाही दे रही है उस की यकताई पे ज़ात उस की दुई के नक़्श सब झूटे हैं सच्चा एक नाम उस का हर इक ज़र्रा फ़ज़ा का दास्तान उस की सुनाता है हर इक झोंका हवा का आ के देता है पयाम उस का मैं उस को का'बा-ओ-बुत-ख़ाना में क्यूँँ ढूँडने निकलूँ मिरे टूटे हुए दिल ही के अंदर है क़याम उस का मिरी उफ़्ताद की भी मेरे हक़ में उस की रहमत थी कि गिरते गिरते भी मैं ने लिया दामन है थाम उस का वो ख़ुद भी बे-निशाँ है ज़ख़्म भी हैं बे-निशाँ उस के दिया है इस ने जो चरका नहीं है इल्तियाम उस का न जा उस के तहम्मुल पर कि है अब ढब गिरफ़्त उस की डर उस की देर-गीरी से कि है सख़्त इंतिक़ाम उस का
Zafar Ali Khan
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Zafar Ali Khan.
Similar Moods
More moods that pair well with Zafar Ali Khan's nazm.







