شہر خواب کہ شب تو میری نیندیں کیوں نہیں لائی کئی دن ہوں گئے اس کا شہر جانا ہے کہ جس کا راستہ نیندوں سے جاتا ہے بسا ہے خوبصورت شہر خوابوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہاں رونق ہے بازاروں ہے وہ ہے وہ گلیوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ مہکتی ہے فضا پھولوں کی خوشبو سے اڑ آتی تتلیاں گھر ہے وہ ہے وہ دریچوں سے شب میسج ہے وہ ہے وہ بھی یاں اجالا ہے برستا ہے فلک سے نور راتوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہاں ہر بے وجہ جیتا ہے رضا سے خود یہاں انسانیت زندہ ہے لوگوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہاں رہتے ہیں مجھ چنو ہی دیوانے محبت ہے جنہیں ملائے گا زمانے سے یہاں آب و ہوا ہے وہ ہے وہ صرف الفت ہے کہ ایسے شہر کی سب کو ضرورت ہے کہ شب تو میری نیندیں کیوں نہیں لائی کہ مجھ کو پھروں سے شہر خواب جانا ہے
Related Nazm
کیوں ہے جاناں نہیں ہوں ی ہاں پر پھروں بھی تمہارے ہونے کا احسا سے کیوں ہے کچھ ہے نہیں مری ہاتھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پھروں بھی کچھ ہونے کی یہ آ سے کیوں ہے بڑی حیرانی ہے مجھے کی حقیقت دور ہوکر بھی اتنا پا سے کیوں ہے سب نے کہا کہ حقیقت تو پرایا ہے حقیقت پرایا ہوکر بھی اتنا خاص کیوں ہے جتنا حقیقت دور ہے مجھ سے حقیقت اتنا ہی مجھ کو را سے کیوں ہے بیٹھا ہوں بلکل اکانت ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پھروں بھی کانوں ہے وہ ہے وہ ا سے کی آواز کیوں ہے کھل کے نہیں کہتی حقیقت کچھ بھی ا سے کی آنکھوں ہے وہ ہے وہ اتنے راز کیوں ہیں بسی ہے دل ہے وہ ہے وہ حقیقت مری یہ میرا دل ا سے کا سمپتی کیوں ہے اس کا کا کو نہیں بھلا سکتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ ا سے کے نام کی ہر شوا سے کیوں ہے پوری کائنات ا سے کی یاد دلاتی ہے یہ تن من ہے وہ ہے وہ ا سے کا وا سے کیوں ہے حقیقت مری ہوئی نہیں ہے ابھی اس کا کا کو کھونے کے ڈر سے من اتنا بدحوا سے کیوں ہے دوریاں لکھی ہیں چنو درمیان میرا نصیب مجھ سے اتنا ناراض کیوں ہے ایسے شبد ک ہاں سے لاؤں کی حقیقت سمجھے
Divya 'Kumar Sahab'
37 likes
ہے وہ ہے وہ سگریٹ تو نہیں پیتا م گر ہر آنے والے سے پوچھ لیتا ہوں کہ ماچ سے ہے بے حد کچھ ہے جسے ہے وہ ہے وہ پھونک دینا چاہتا ہوں
Gulzar
107 likes
انجام ہیں لبریز آ ہوں سے ٹھنڈی ہوائیں اداسی ہے وہ ہے وہ ڈوبی ہوئی ہیں گھٹائیں محبت کی دنیا پہ شام آ چکی ہے سیہ پوش ہیں زندگی کی فضائیں مچلتی ہیں سینے ہے وہ ہے وہ لاکھ آرزوئیں تڑپتی ہیں آنکھوں ہے وہ ہے وہ لاکھ الت جائیں ت غافل کی آغوش ہے وہ ہے وہ سو رہے ہیں تمہارے ستم اور مری وفائیں م گر پھروں بھی اے مری معصوم قاتل تمہیں پیار کرتی ہیں مری دعائیں
Faiz Ahmad Faiz
27 likes
بھلی سی ایک شکل تھی بھلے دنوں کی بات ہے بھلی سی ایک شکل تھی نہ یہ کہ حسن تام ہوں نہ دیکھنے ہے وہ ہے وہ آم سی نہ یہ کہ حقیقت چلے تو کہکشاں سی رہگزر لگے مگر حقیقت ساتھ ہوں تو پھروں بھلا بھلا سفر لگے کوئی بھی رت ہوں اس کا کی چھب فضا کا رنگ روپ تھی حقیقت گرمیوں کی چھاؤں تھی حقیقت سردیوں کی دھوپ تھی نہ مدتوں جدا رہے نہ ساتھ صبح و شام ہوں نہ رشتہ وفا پہ ضد نہ یہ کہ اجازت عام ہوں نہ ایسی خوش لباسیاں کہ سادگی گلہ کرے نہ اتنی بے تکلفی کہ آئینہ حیا کرے نہ اختلاط ہے وہ ہے وہ حقیقت رم کہ بد مزہ ہوں خواہشیں نہ اس کا دودمان سپردگی کہ زچ کریں نوازشیں نہ کرنے والے جنون کی کہ زندگی عذاب ہوں نہ اس کا دودمان کٹھور پن کہ دوستی خراب ہوں کبھی تو بات بھی خفی کبھی سکوت بھی سخن کبھی تو کشت زعفران کبھی اداسیوں کا بن سنا ہے ایک عمر ہے معاملات دل کی بھی وصال جاں فزا تو کیا فراق جاں گسل کی بھی سو ایک روز کیا ہوا وفا پہ بحث چھڑ گئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ عشق کو فدا کہوں حقیقت
Ahmad Faraz
111 likes
بہت خوبصورت ہوں جاناں بہت خوبصورت ہوں جاناں کبھی ہے وہ ہے وہ جو کہ دوں محبت ہے جاناں سے تو مجھ کو خدارا غلط مت سمجھنا کہ میری ضرورت ہوں جاناں بہت خوبصورت ہوں جاناں ہیں پھولوں کی ڈالی پہ بانہیں تمہاری ہیں خاموش جادو نگاہیں تمہاری جو کانٹے ہوں سب اپنے دامن ہے وہ ہے وہ رکھ لوں سجاؤں ہے وہ ہے وہ کلیوں سے راہیں تمہاری نظر سے زمانے کی خود کو بچانا کسی اور سے دیکھو دل مت لگانا کہ میری امانت ہوں جاناں بہت خوبصورت ہوں جاناں کبھی نڈھال کی قطاروں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا چمکتے ہوئے چاند تاروں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا خزاؤں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا بہاروں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا مچلتے ہوئے آبشاروں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا حقیقت ہے وہ ہے وہ دیکھا فسانے ہے وہ ہے وہ دیکھا نہ جاناں سا ہنسی ای سے زمانے دیکھا نہ دنیا کی رنگین محفل ہے وہ ہے وہ پایا جو پایا تمہیں اپنا ہی دل ہے وہ ہے وہ پایا ایک ایسی مسرت ہوں جاناں بہت خوبصورت ہوں جاناں ہے چہرہ تمہارا کہ دن ہے سنہرا ہے چہرہ تمہارا کہ دن ہے سنہرا اور ای سے پر یہ کالی گھٹاؤں کا پہرہ گلابوں س
Tahir Faraz
54 likes
More from MAHESH CHAUHAN NARNAULI
موتا جنگ ادھر موتا جنگ کا شور ہے خدا میرا گھر بھی اسی اور ہے تباہی کا منظر ہے جائیں جدھر ہے ٹوٹی عمارت دکانیں سبھی ہے پتھر ہی پتھر فقط راہ پر کہی چیخ نے کی صدا ہے کہی خموشی کا ہے عالم کہی خون سے لتھپت پڑا ہے کوئی ہیں تلوار ہاتھوں ہے وہ ہے وہ پکڑے کئی ستم گر بڑھاتے بغاوت لگ صاحب فن ہے سلامت ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پر ہے اتری خوشگوار ہے بگڑے سے حالات اب شہر ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہوئی ہیں میاں کئی زندگی ختم ا سے بیر ہے وہ ہے وہ ہے وہ فضا ہے وہ ہے وہ ملی ہے ہوا خوف کی سمندر لبالب ہے لاشوں سے ہی لگ ہری کوئی ی ہاں ٹھور ہے یہ اٹھتا دھواں اور جلتا مکان بتاتے ہیں خوبصورت کا یہ دور ہے
MAHESH CHAUHAN NARNAULI
16 likes
حوصلہ حوصلہ رکھ راستے دکھنے لگیں گے یہ اندھیرے صبح تک چھٹنے لگیں گے بندھو پر بندھو گزرے ی ہاں سے دیکھنا کچھ نقش پا آگے ملیںگے لڑ کھڑاتے حوصلوں کو پھروں اٹھا کر صبح ہوتے ہی سفر پر چل پڑیں گے ٹھوکروں سے کہ دو کے دم خم لگا دیں ہم گریں گے پھروں اٹھیں گے پر چلیں گے
MAHESH CHAUHAN NARNAULI
15 likes
Similar Writers
Our suggestions based on MAHESH CHAUHAN NARNAULI.
Similar Moods
More moods that pair well with MAHESH CHAUHAN NARNAULI's nazm.







