nazmKuch Alfaaz

موتا جنگ ادھر موتا جنگ کا شور ہے خدا میرا گھر بھی اسی اور ہے تباہی کا منظر ہے جائیں جدھر ہے ٹوٹی عمارت دکانیں سبھی ہے پتھر ہی پتھر فقط راہ پر کہی چیخ نے کی صدا ہے کہی خموشی کا ہے عالم کہی خون سے لتھپت پڑا ہے کوئی ہیں تلوار ہاتھوں ہے وہ ہے وہ پکڑے کئی ستم گر بڑھاتے بغاوت لگ صاحب فن ہے سلامت ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پر ہے اتری خوشگوار ہے بگڑے سے حالات اب شہر ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہوئی ہیں میاں کئی زندگی ختم ا سے بیر ہے وہ ہے وہ ہے وہ فضا ہے وہ ہے وہ ملی ہے ہوا خوف کی سمندر لبالب ہے لاشوں سے ہی لگ ہری کوئی ی ہاں ٹھور ہے یہ اٹھتا دھواں اور جلتا مکان بتاتے ہیں خوبصورت کا یہ دور ہے

Related Nazm

میرا سنسر میرے من کا سکون بھی جاناں ہوں جاناں ہی میری منزل اس کا کا کا جنون بھی جاناں ہوں میرا دن بھی جاناں ہوں میری رات بھی جاناں ہوں میری نیند بھی جاناں ہوں میرے جذبات بھی جاناں ہوں میرا ہر لمحہ جاناں ہوں میرے حالات بھی جاناں ہوں میرا جیون بھی جاناں ہوں اس کی مستی بھی جاناں ہوں ہوں اگر ہے وہ ہے وہ منجھدار تو پھروں اس کی کشتی بھی جاناں ہوں اگر ہوں ہے وہ ہے وہ شریر تو اس کی استھی بھی جاناں ہوں اور ہوں اگر ہے وہ ہے وہ آتما تو اس کی مکتی بھی جاناں ہوں میرا ویراغیا بھی جاناں ہوں میری آسکتی بھی جاناں ہوں میرا ایشور بھی جاناں ہوں میری بھکتی بھی جاناں ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اگر دل ہوں تو اس کی دھڑکن بھی جاناں ہوں میری ہر بات جاناں ہوں میری تڑپن بھی جاناں ہوں میری سوتنترتا بھی جاناں ہوں میرا بندھن بھی جاناں ہوں میرا سکھ بھی جاناں ہوں میری مسکان بھی جاناں ہوں میرا دکھ بھی جاناں ہوں میرا سممان بھی جاناں ہوں میرا بل بھی جاناں ہوں میرا سوابھیمان بھی جاناں ہوں میری پرارتھنا بھی جاناں ہ

Divya 'Kumar Sahab'

37 likes

کیوں ہے جاناں نہیں ہوں ی ہاں پر پھروں بھی تمہارے ہونے کا احسا سے کیوں ہے کچھ ہے نہیں مری ہاتھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پھروں بھی کچھ ہونے کی یہ آ سے کیوں ہے بڑی حیرانی ہے مجھے کی حقیقت دور ہوکر بھی اتنا پا سے کیوں ہے سب نے کہا کہ حقیقت تو پرایا ہے حقیقت پرایا ہوکر بھی اتنا خاص کیوں ہے جتنا حقیقت دور ہے مجھ سے حقیقت اتنا ہی مجھ کو را سے کیوں ہے بیٹھا ہوں بلکل اکانت ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پھروں بھی کانوں ہے وہ ہے وہ ا سے کی آواز کیوں ہے کھل کے نہیں کہتی حقیقت کچھ بھی ا سے کی آنکھوں ہے وہ ہے وہ اتنے راز کیوں ہیں بسی ہے دل ہے وہ ہے وہ حقیقت مری یہ میرا دل ا سے کا سمپتی کیوں ہے اس کا کا کو نہیں بھلا سکتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ ا سے کے نام کی ہر شوا سے کیوں ہے پوری کائنات ا سے کی یاد دلاتی ہے یہ تن من ہے وہ ہے وہ ا سے کا وا سے کیوں ہے حقیقت مری ہوئی نہیں ہے ابھی اس کا کا کو کھونے کے ڈر سے من اتنا بدحوا سے کیوں ہے دوریاں لکھی ہیں چنو درمیان میرا نصیب مجھ سے اتنا ناراض کیوں ہے ایسے شبد ک ہاں سے لاؤں کی حقیقت سمجھے

Divya 'Kumar Sahab'

37 likes

حال دل میری دلربا جاناں خوبصورت ہوں صورت سے نہیں سیرت سے مجھے تمہاری سیرت سے محبت ہے اسیلیے سیرت کا جانتا ہوں شرم دہشت پریشانی جنہیں سخن وروں کویوں نے عشق کی لذت بتایا ہے فیلحال یہ میرے درمیان آ رہے ہیں بہرحال میری چاہتیں تمہارے نفس ہے وہ ہے وہ دھڑکتی ہیں زندہ رہتی ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے تمہیں دیکھا ہے دیکھتے ہوئے مجھے چاہتے ہوئے مجھے سوچتے ہوئے اور میرے لیے پریشان ہوتے ہوئے ویسے چاہت ہوں تو کہنا لازمی ہوتا ہے ضروری ہوتا ہے لیکن عشق کی ان میں ہے وہ ہے وہ لفظ خاموش رہتے ہیں اور نگاہیں بات کر لیتی ہیں مجھے پتا ہے ایک دن جاناں میری نگاہوں سے بات کر لوگی پوچھ لوگی اور تمہیں جواب ملےگا ہاں ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی چاہتا ہوں خوب چاہتا ہوں ویسے ہے وہ ہے وہ بھی اپنے جاؤں گا اپنی غزلوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ محبت خوب لکھتا ہوں حالانکہ اپناپن یہ ہے کہ ہے وہ ہے وہ بھی کہنے ہے وہ ہے وہ خوف تقاضا ہوں ویسے برا نہ ماننا کہ ہے وہ ہے وہ نے جاناں سے کبھی اظہار نہیں کیا سوچ لینا کہ تھی

Rakesh Mahadiuree

25 likes

بندہ اور خدا ایک بڑھوا سی کہانی ہے جو وقار کہ منا زبانی ہے یہ حکومت آسمانی ہے ہر مخلوق روحانی ہے یہ خدا کی مہربانی ہے کی سجدوں ہے وہ ہے وہ جھکتی پیشانی ہے یہ ساری دنیا فانی ہے ہر بے وجہ کو موت آنی ہے یہ انسانیت عیاشی کی دیوانی ہے ہر بے وجہ کی ڈھلتی جوانی ہے قدرت کی پکڑ سے کوئی نہیں بچا یہ آ رہے عذاب خوشگوار کی نشانی ہے یہ لوگوں کی گمراہی اور بڑی نادانی ہے کی ک ہاں اوپر خدا کو شکل ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ دکھانی ہے

ZafarAli Memon

20 likes

مرشد مرشد پلیز آج مجھے سمے دیجئے مرشد ہے وہ ہے وہ آج آپ کو دکھڑے سناؤںگا مرشد ہمارے ساتھ بڑا ظلم ہوں گیا تو مرشد ہمارے دیش ہے وہ ہے وہ اک جنگ چھڑ گئی مرشد سبھی غنیم شرافت سے مر گئے مرشد ہمارے ذہن گرفتار ہوں گئے مرشد ہماری سوچ بھی بازاری ہوں گئی مرشد ہماری فوج کیا لڑتی حریف سے مرشد اسے تو ہم سے ہی فرصت نہیں ملی مرشد بے حد سے مار کے ہم خود بھی مر گئے مرشد ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جرح نہیں تلوار دی گئی مرشد ہماری ذات پہ بہتان چڑھ گئے مرشد ہماری ذات پلاندوں ہے وہ ہے وہ دب گئی مرشد ہمارے واسطے ب سے ایک بے وجہ تھا مرشد حقیقت ایک بے وجہ بھی تقدیر لے اڑی مرشد خدا کی ذات پہ اندھا یقین تھا افسو سے اب یقین بھی اندھا نہیں رہا مرشد محبتوں کے نتائج ک ہاں گئے مرشد مری تو زندگی برباد ہوں گئی مرشد ہمارے گاؤں کے بچوں نے بھی کہا مرشد کوں آخہ آ کے صدا حال دیکھ وجہ مرشد ہمارا کوئی نہیں ایک آپ ہیں یہ ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں کے اچھا نہیں ہوا مرشد ہے وہ ہے وہ جل رہا ہوں ہوائیں لگ دیجئے مرشد ازالہ کیجیے دعائیں لگ دیجئے مرشد خاموش رہ

Afkar Alvi

78 likes

More from MAHESH CHAUHAN NARNAULI

شہر خواب کہ شب تو میری نیندیں کیوں نہیں لائی کئی دن ہوں گئے اس کا شہر جانا ہے کہ جس کا راستہ نیندوں سے جاتا ہے بسا ہے خوبصورت شہر خوابوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہاں رونق ہے بازاروں ہے وہ ہے وہ گلیوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ مہکتی ہے فضا پھولوں کی خوشبو سے اڑ آتی تتلیاں گھر ہے وہ ہے وہ دریچوں سے شب میسج ہے وہ ہے وہ بھی یاں اجالا ہے برستا ہے فلک سے نور راتوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہاں ہر بے وجہ جیتا ہے رضا سے خود یہاں انسانیت زندہ ہے لوگوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہاں رہتے ہیں مجھ چنو ہی دیوانے محبت ہے جنہیں ملائے گا زمانے سے یہاں آب و ہوا ہے وہ ہے وہ صرف الفت ہے کہ ایسے شہر کی سب کو ضرورت ہے کہ شب تو میری نیندیں کیوں نہیں لائی کہ مجھ کو پھروں سے شہر خواب جانا ہے

MAHESH CHAUHAN NARNAULI

3 likes

حوصلہ حوصلہ رکھ راستے دکھنے لگیں گے یہ اندھیرے صبح تک چھٹنے لگیں گے بندھو پر بندھو گزرے ی ہاں سے دیکھنا کچھ نقش پا آگے ملیںگے لڑ کھڑاتے حوصلوں کو پھروں اٹھا کر صبح ہوتے ہی سفر پر چل پڑیں گے ٹھوکروں سے کہ دو کے دم خم لگا دیں ہم گریں گے پھروں اٹھیں گے پر چلیں گے

MAHESH CHAUHAN NARNAULI

15 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on MAHESH CHAUHAN NARNAULI.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with MAHESH CHAUHAN NARNAULI's nazm.