سنا ہے سنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی جھمکے ہوتا ہے سنا ہے شعر کا جب پیٹ بھر جائے تو حقیقت حملہ نہیں کرتا درختوں کی گھنی چھاؤں ہے وہ ہے وہ جا کر لیٹ جاتا ہے ہوا کے تیز جھونکے جب درختوں کو ہلاتے ہیں تو مینا اپنے بچے چھوڑ کر کوے کے انڈوں کو پروں سے تھام لیتی ہے سنا ہے گھونسلے سے کوئی بچہ گر پڑے تو سارا جنگل جاگ جاتا ہے سنا ہے جب کسی ن گرا کے پانی ہے وہ ہے وہ ہے وہ بئے کے گھونسلے کا گندمی رنگ لرزتا ہے تو ن گرا کی روپہلی مچھلیاں ا سے کو پڑوسن مان لیتی ہیں کبھی طوفان آ جائے کوئی پل ٹوٹ جائے تو کسی لکڑی کے تختے پر گلہری سانپ بکری اور چیتا ساتھ ہوتے ہیں سنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی جھمکے ہوتا ہے خداوندا جلیل و معتبر دا لگ و بینا منصف و یاد خدا مری ا سے شہر ہے وہ ہے وہ اب جنگلوں ہی کا کوئی قانون نافذ کر
Related Nazm
جذبات جو یہ آنکھوں سے بہ رہا ہے کتنے ہم لاچار ہے جاناں سمجھو تو انتظار ہے ورنا کوئی انتظار نہیں تمہاری یاد ہے وہ ہے وہ ایسے ڈوبا چنو کوئی بیمار ہے جاناں سمجھو تو بے قرار ہے ورنا کوئی بے قرار نہیں جو مری دھڑکن چل رہی ہے ان ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے تمہارا نام ہے جاناں سمجھو تو یہ پکار ہے ورنا کوئی پکار نہیں ان ہاتھوں سے تمہاری زلفیں سنو ارنی ہیں ہر شام تمہارے ساتھ گزار لگ ہے جاناں سمجھو تو یہ دلار ہے ورنا کوئی دلار نہیں تمہارے ب سے دل ہے وہ ہے وہ جگہ نہیں تمہاری روح سے رشتہ چاہیے جاناں سمجھو تو یہ آر پار ہے ورنا کچھ آر پار نہیں تمہیں مل تو جائےگا مجھ سے اچھا سامنے تمہارے تو قطار ہے تمہیں پتا ہے نا تمہاری چاہت کا ب سے ایک حق دار ہے باقی کوئی حق دار نہیں تمہاری بان ہوں ہے وہ ہے وہ ہی سکون ملےگا مجھے سچ ک ہوں تو درکار ہے جاناں سمجھو تو یہ بہار ہے ورنا کہی بہار نہیں تمہاری گود ہے وہ ہے وہ آرام چاہیے تمہاری آواز ہے وہ ہے وہ ب سے اپنا نام چاہیے جاناں سمجھو تو یہ قرار ہے<br
Divya 'Kumar Sahab'
37 likes
"हम मिलेंगे कहीं" हम मिलेंगे कहीं अजनबी शहर की ख़्वाब होती हुई शाहराओं पे और शाहराओं पे फैली हुई धूप में एक दिन हम कहीं साथ होगे वक़्त की आँधियों से अटी साहतों पर से मिट्टी हटाते हुए एक ही जैसे आँसू बहाते हुए हम मिलेंगे घने जंगलो की हरी घास पर और किसी शाख़-ए-नाज़ुक पर पड़ते हुए बोझ की दास्तानों में खो जाएँगे हम सनोबर के पेड़ों की नोकीले पत्तों से सदियों से सोए हुए देवताओं की आँखें चभो जाएँगे हम मिलेंगे कहीं बर्फ़ के बाजुओं में घिरे पर्वतों पर बाँझ क़ब्रो में लेटे हुए कोह पेमाओं की याद में नज़्म कहते हुए जो पहाड़ों की औलाद थे, और उन्हें वक़्त आने पर माँ बाप ने अपनी आग़ोश में ले लिया हम मिलेंगे कही शाह सुलेमान के उर्स में हौज़ की सीढियों पर वज़ू करने वालो के शफ़्फ़ाफ़ चेहरों के आगे संगेमरमर से आरस्ता फ़र्श पर पैर रखते हुए आह भरते हुए और दरख़्तों को मन्नत के धागो से आज़ाद करते हुए हम मिलेंगे हम मिलेंगे कहीं नार मेंडी के साहिल पे आते हुए अपने गुम गश्तरश्तो की ख़ाक-ए-सफ़र से अटी वर्दियों के निशाँ देख कर मराकिस से पलटे हुए एक जर्नेल की आख़िरी बात पर मुस्कुराते हुए इक जहाँ जंग की चोट खाते हुए हम मिलेंगे हम मिलेंगे कहीं रूस की दास्ताओं की झूठी कहानी पे आँखों में हैरत सजाए हुए, शाम लेबनान बेरूत की नरगिसी चश्मूरों की आमद के नोहू पे हँसते हुए, ख़ूनी कज़ियो से मफ़लूह जलबानियाँ के पहाड़ी इलाक़ों में मेहमान बन कर मिलेंगे हम मिलेंगे एक मुर्दा ज़माने की ख़ुश रंग तहज़ीब में ज़स्ब होने के इमकान में इक पुरानी इमारत के पहलू में उजड़े हुए लाँन में और अपने असीरों की राह देखते पाँच सदियों से वीरान ज़िंदान में हम मिलेंगे तमन्नाओं की छतरियों के तले, ख़्वाहिशों की हवाओं के बेबाक बोसो से छलनी बदन सौंपने के लिए रास्तों को हम मिलेंगे ज़मीं से नमूदार होते हुए आठवें बर्रे आज़म में उड़ते हुए कालीन पर हम मिलेंगे किसी बार में अपनी बकाया बची उम्र की पायमाली के जाम हाथ में लेंगे और एक ही घूंट में हम ये सैयाल अंदर उतारेंगे और होश आने तलक गीत गायेंगे बचपन के क़िस्से सुनाता हुआ गीत जो आज भी हम को अज़बर है बेड़ी बे बेड़ी तू ठिलदी तपईये पते पार क्या है पते पार क्या है? हम मिलेंगे बाग़ में, गाँव में, धूप में, छाँव में, रेत में, दश्त में, शहर में, मस्जिदों में, कलीसो में, मंदिर में, मेहराब में, चर्च में, मूसलाधार बारिश में, बाज़ार में, ख़्वाब में, आग में, गहरे पानी में, गलियों में, जंगल में और आसमानों में कोनो मकाँ से परे गैर आबद सैयाराए आरज़ू में सदियों से ख़ाली पड़ी बेंच पर जहाँ मौत भी हम से दस्तो गरेबाँ होगी, तो बस एक दो दिन की मेहमान होगी
Tehzeeb Hafi
236 likes
خدا ناراض غصہ ہے غصہ ہے مذہب کی بات پر کیوں اٹھ رہے سوال ہے بےحال ہے بےحال ہے سب مکڑیوں کے جال ہے دنیا ہے وہ ہے وہ رہنا بھی اب بے حد بڑا جنجال ہے نڈھال ہے نڈھال ہے گزر رہی جو زندگی یہ دن ہے یا کوئی سال ہے مجھے آج کی فکر تو ہے مجھے کل کا بھی خیال ہے نقاب ہے نقاب ہے ہر چہرے پر نقاب ہے جو بے وجہ کی یہ ذات ہے حقیقت سانپ کا بھی باپ ہے جو دو رخا کردار ہے غضب ہے بے مثال ہے دلال ہے دلال ہے سب سوچ کے دلال ہے گناہ بھی ا سے کا ماف ہے سب پیسے کی یہ چال ہے کیا کال ہے کیا کال ہے خدا بھی جو ناراض ہے عبادتوں ہے وہ ہے وہ مل رہے جلدبازی کے اعمال ہے خود سوچنا اب تو تو ذرا مذہب کی بات پر کیوں اٹھ رہے سوال ہے غصہ ہے غصہ ہے
ZafarAli Memon
17 likes
اندھیرا سر پہ چڑھتا جا رہا ہے گزرتی عمر ڈھلتی جا رہی ہے ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پاؤں نگلتی جا رہی ہے اندھیرا سر پہ چڑھتا جا رہا ہے پری آگے نکلتی جا رہی ہے ستارے تم تم باری باری بجھ رہے ہیں ہوا مؤثر ہوتی جا رہی ہے چمکتی ہوئی جا رہی ہے کوئی مچھلی سمندر برف کرتی جا رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنی ناو ہے وہ ہے وہ بیک سے پڑا ہوں افکتی نبض ڈوبی جا رہی ہے اندھیرا سر پہ چڑھتا جا رہا ہے اندھیرا ہی سمندر کا خدا ہے خدا مچھلی پکڑنا چاہتا ہے
Ammar Iqbal
13 likes
یاد ہے پہلے روز کہا تھا یاد ہے پہلے روز کہا تھا پھروں نہ کہنا غلطی دل کی پیار سمجھ کے کرنا لڑکی پیار نبھانا ہوتا ہے پھروں پار لگانا ہوتا ہے یاد ہے پہلے روز کہا تھا ساتھ چلو تو پورے سفر تک مر جانے کی اگلی خبر تک سمجھو یار خدا تک ہوگا سارا پیار وفا تک ہوگا پھروں یہ بندھن توڑ نہ جانا چھوڑ گئے تو پھروں نہ آنا چھوڑ دیا جو تیرا نہیں ہے چلا گیا جو میرا نہیں ہے یاد ہے پہلے روز کہا تھا یا تو ٹوٹ کے پیار نہ کرنا یا پھروں پیٹھ پہ وار نہ کرنا جب نادانی ہو جاتی ہے نئی کہانی ہو جاتی ہے نئی کہانی لکھ لاوں گا اگلے روز میں بک جاؤں گا تیرے گل جب کھیل جائیں گے مجھ کو پیسے مل جائیں گے یاد ہے پہلے روز کہا تھا بچھڑ گئے تو موج اڑانا واپس میرے پاس نہ آنا جب کوئی جا کر واپس آئے روئے تڑپے یا پچھتائے میں پھروں اس کو ملتا نہیں ہوں ساتھ دوبارہ چلتا نہیں ہوں گم جاتا ہوں کھو جاتا ہوں میں پتھر کا ہو جاتا ہوں
Khalil Ur Rehman Qamar
191 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Zehra Nigaah.
Similar Moods
More moods that pair well with Zehra Nigaah's nazm.







