اندھیرا سر پہ چڑھتا جا رہا ہے گزرتی عمر ڈھلتی جا رہی ہے ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پاؤں نگلتی جا رہی ہے اندھیرا سر پہ چڑھتا جا رہا ہے پری آگے نکلتی جا رہی ہے ستارے تم تم باری باری بجھ رہے ہیں ہوا مؤثر ہوتی جا رہی ہے چمکتی ہوئی جا رہی ہے کوئی مچھلی سمندر برف کرتی جا رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنی ناو ہے وہ ہے وہ بیک سے پڑا ہوں افکتی نبض ڈوبی جا رہی ہے اندھیرا سر پہ چڑھتا جا رہا ہے اندھیرا ہی سمندر کا خدا ہے خدا مچھلی پکڑنا چاہتا ہے
Related Nazm
"हम मिलेंगे कहीं" हम मिलेंगे कहीं अजनबी शहर की ख़्वाब होती हुई शाहराओं पे और शाहराओं पे फैली हुई धूप में एक दिन हम कहीं साथ होगे वक़्त की आँधियों से अटी साहतों पर से मिट्टी हटाते हुए एक ही जैसे आँसू बहाते हुए हम मिलेंगे घने जंगलो की हरी घास पर और किसी शाख़-ए-नाज़ुक पर पड़ते हुए बोझ की दास्तानों में खो जाएँगे हम सनोबर के पेड़ों की नोकीले पत्तों से सदियों से सोए हुए देवताओं की आँखें चभो जाएँगे हम मिलेंगे कहीं बर्फ़ के बाजुओं में घिरे पर्वतों पर बाँझ क़ब्रो में लेटे हुए कोह पेमाओं की याद में नज़्म कहते हुए जो पहाड़ों की औलाद थे, और उन्हें वक़्त आने पर माँ बाप ने अपनी आग़ोश में ले लिया हम मिलेंगे कही शाह सुलेमान के उर्स में हौज़ की सीढियों पर वज़ू करने वालो के शफ़्फ़ाफ़ चेहरों के आगे संगेमरमर से आरस्ता फ़र्श पर पैर रखते हुए आह भरते हुए और दरख़्तों को मन्नत के धागो से आज़ाद करते हुए हम मिलेंगे हम मिलेंगे कहीं नार मेंडी के साहिल पे आते हुए अपने गुम गश्तरश्तो की ख़ाक-ए-सफ़र से अटी वर्दियों के निशाँ देख कर मराकिस से पलटे हुए एक जर्नेल की आख़िरी बात पर मुस्कुराते हुए इक जहाँ जंग की चोट खाते हुए हम मिलेंगे हम मिलेंगे कहीं रूस की दास्ताओं की झूठी कहानी पे आँखों में हैरत सजाए हुए, शाम लेबनान बेरूत की नरगिसी चश्मूरों की आमद के नोहू पे हँसते हुए, ख़ूनी कज़ियो से मफ़लूह जलबानियाँ के पहाड़ी इलाक़ों में मेहमान बन कर मिलेंगे हम मिलेंगे एक मुर्दा ज़माने की ख़ुश रंग तहज़ीब में ज़स्ब होने के इमकान में इक पुरानी इमारत के पहलू में उजड़े हुए लाँन में और अपने असीरों की राह देखते पाँच सदियों से वीरान ज़िंदान में हम मिलेंगे तमन्नाओं की छतरियों के तले, ख़्वाहिशों की हवाओं के बेबाक बोसो से छलनी बदन सौंपने के लिए रास्तों को हम मिलेंगे ज़मीं से नमूदार होते हुए आठवें बर्रे आज़म में उड़ते हुए कालीन पर हम मिलेंगे किसी बार में अपनी बकाया बची उम्र की पायमाली के जाम हाथ में लेंगे और एक ही घूंट में हम ये सैयाल अंदर उतारेंगे और होश आने तलक गीत गायेंगे बचपन के क़िस्से सुनाता हुआ गीत जो आज भी हम को अज़बर है बेड़ी बे बेड़ी तू ठिलदी तपईये पते पार क्या है पते पार क्या है? हम मिलेंगे बाग़ में, गाँव में, धूप में, छाँव में, रेत में, दश्त में, शहर में, मस्जिदों में, कलीसो में, मंदिर में, मेहराब में, चर्च में, मूसलाधार बारिश में, बाज़ार में, ख़्वाब में, आग में, गहरे पानी में, गलियों में, जंगल में और आसमानों में कोनो मकाँ से परे गैर आबद सैयाराए आरज़ू में सदियों से ख़ाली पड़ी बेंच पर जहाँ मौत भी हम से दस्तो गरेबाँ होगी, तो बस एक दो दिन की मेहमान होगी
Tehzeeb Hafi
236 likes
دوست کے نام خط جاناں نے حال پوچھا ہے حالت محبت ہے وہ ہے وہ ہے وہ حال کا بتانا کیا دل سسک رہا ہوں تو زخم کا چھپانا کیا جاناں جو پوچھ بیٹھے ہوں کچھ تو اب بتانا ہے بات ایک بہانا ہے جاناں نے حال پوچھا ہے اک دیا جلاتا ہوں ٹھیک ہے بتاتا ہوں روز ا سے کی یادوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ دور تک چلے جانا جو بھی تھا کہا ا سے نے اپنے ساتھ دہرانا سان سے جب گردشیں تو پھروں اپنی مرتی آنکھوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کی شکل لے آنا اور زندگی پانا روز ایسے ہوتا ہے کچھ پرانی میسج ہیں جن ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کی باتیں ہیں کچھ طویل صبحے ہیں کچھ اچھی اچھی راتیں ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے کی باتوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ زندگی گزاری ہے زندگی مٹانے کا حوصلہ نہیں مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایک ایک لفظ ا سے کا سان سے ہے وہ ہے وہ فقط ہے روح ہے وہ ہے وہ سمویا ہے ا سے کے جتنے میسج ہے روز کھول لیتا ہوں ا سے سے کہ نہیں پاتا خود سے بول لیتا ہوں ا سے کے پیج پر جا کر روز دیکھتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ آج ک
Ali Zaryoun
70 likes
تو کسی اور ہی دنیا ہے وہ ہے وہ ملی تھی مجھ سے تو کسی اور ہی موسم کی مہک لائی تھی ڈر رہا تھا کہ کہی زخم لگ بھر جائیں مری اور تو مٹھیاں بھر بھر کے نمک لائی تھی اور ہی طرح کی آنکھیں تھی تری چہرے پر تو کسی اور ستارے تم سے چمک لائی تھی تیری آواز ہی سب کچھ تھی مجھے مون سے جاں کیا کروں ہے وہ ہے وہ کہ تو بولی ہی بے حد کم مجھ سے تیری چپ سے ہی یہی محسو سے کیا تھا ہے وہ ہے وہ نے جیت جائےگا تیرا غم کسی روز مجھ سے شہر آوازیں لگاتا تھا م گر تو چپ تھی یہ تعلق مجھے تقاضا تھا م گر تو چپ تھی وہی انجام تھا جو عشق کا آغاز سے ہے تجھ کو پایا بھی نہیں تھا کہ تجھے کھونا تھا چلی آتی ہے یہی رسم کئی صدیوں سے یہی ہوتا ہے یہی ہوگا یہی ہونا تھا پوچھتا رہتا تھا تجھ سے کہ بتا کیا دکھ ہے اور مری آنکھ ہے وہ ہے وہ آنسو بھی نہیں ہوتے تھے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے اندازے لگائے کے سبب کیا ہوگا پر مری تیر ترازو بھی نہیں ہوتے تھے جس کا ڈر تھا مجھے معلوم پڑا لوگوں سے پھروں حقیقت خوش بخت پلٹ آیا تیری دنیا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ج سے کے جانے پہ مجھے تو نے جگہ دی دل ہے
Tehzeeb Hafi
180 likes
ا سے کی خوشیاں ساری جھیلیں سوکھ گئی ہیں ا سے کی آنکھیں سوکھ گئی ہیں پیڑوں پر پنچھی بھی چپ ہیں اس کا کا کو کوئی دکھ ہے شاید رستے سونے سونے ہیں سب ا سے نے ٹہلنا چھوڑ دیا ہے ساری غزلیں بے معنی ہیں ا سے نے پڑھنا چھوڑ دیا ہے حقیقت بھی ہنسنا بھول چکی ہے گلوں نے کھلنا چھوڑ دیا ہے ساون کا موسم جاری ہے زبان ا سے کا غم جاری ہے باقی موسم ٹال دیے ہیں سکھ کوئیں ہے وہ ہے وہ ڈال دیے ہیں چاند کو چھٹی دے دی گئی ہے تاروں کو شاہد و ساقی رکھا ہے آتش دان ہے وہ ہے وہ پھینک دی خوشیاں دل ہے وہ ہے وہ ب سے اک غم رکھا ہے خا لگ پینا چھوڑ دیا ہے سب سے رشتہ توڑ دیا ہے ہاں یہ خوشگوار آنے کو ہے ا سے نے جینا چھوڑ دیا ہے ہر دل خوش ہر چہرہ خوش ہوں حقیقت ہوں خوش تو دنیا خوش ہوں حقیقت اچھی تو سب اچھا ہے اور دنیا ہے وہ ہے وہ کیا رکھا ہے یہ سب سن کر خدا نے بولا بول تیری اب خواہش کیا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بولا مری خواہش مری خواہش ا سے کی خوشیاں خدا نے بولا تیری خواہش ہے وہ ہے وہ ہے وہ پھروں بولا ا سے کی خوشیاں ا سے کے علا
Varun Anand
30 likes
رات رات بڑی خراب ہے ہر رات خراب کر دیتی ہے رات بھر جاگ کر ہر صبح صبح کو دے دیتی ہے کچھ اونگھتے ہوئے خواب کچھ گزری راتوں کے قصے کچھ بجھی ہوئے یادوں کی خاک اور سرہانے پر ماضی کے خارے دھبے رات بڑی خراب ہے دن بھر کے مرجھائے زخموں کو پھروں ہرا کر دیتی ہے اور مہکنے دیتی ہے رات بھر کسی رات رانی کی طرح موقع دیتی ہے کہ سمبھل جاؤں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اور پھروں لے جاتی ہے اپنے ساتھ پہلے سے زیادہ غضب والی جگہ پر رات بڑی خراب ہے پر ایک رات ہی تو ہے جو ساتھ ہوتی ہے رات بھر خموشی سے سنتی ہے مری ہر خموشی کو سمجھتی ہے مری ہر بات کو مری ہر رات کو رات
Saurabh Mehta 'Alfaaz'
12 likes
More from Ammar Iqbal
زبان دراز ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنی بیماری بتانے سے معذور ہوں مجھے زبان کی عجیب بیماری ہوں گئی ہے سو گفتگو سے پرہیز کرنے پر مجبور ہوں میرا لہجہ کرخت اور آواز بھاری ہوں گئی ہے زبان ہے وہ ہے وہ فی لفظ ایک انچ اضافہ ہوں رہا ہے پہلے بھی تو یہ کاندهوں پر پڑی تھی تمہیں مری مشکل کا اندازہ ہوں رہا ہے جاناں جو مجھ سے بات کرنے پر اڑی تھیں آخری تکرار کے بعد ہے وہ ہے وہ نے زبان سمیٹ لی ہے اب ہے وہ ہے وہ ایک لفظ بھی مزید نہیں بولوںگا کھینچ تان کر زبان اپنے بدن پر لپیٹ لی ہے دعا نہیں کروں گا گرہ نہیں کھولوںگا ہر پسلی دوسری پسلی ہے وہ ہے وہ دھنستی جا رہی ہے مری زبان مری بدن پر کشتی جا رہی ہے
Ammar Iqbal
6 likes
ہیلو سینیشن ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنے بند کمرے ہے وہ ہے وہ پڑا ہوں اور اک دیوار پر نظریں جمائے مناظر کے عجوبے دیکھتا ہوں اسی دیوار ہے وہ ہے وہ کوئی خلا ہے مجھے جو غار جیسا لگ رہا ہے و ہاں مکڑی نے جال بُن لیا ہے اور اب اپنے ہی جال ہے وہ ہے وہ پھسی ہے وہیں پر ایک مردہ چھپکلی ہے کئی صدیوں سے جو ساکت پڑی ہے اب ا سے پر کائی جمتی جا رہی ہے اور ا سے ہے وہ ہے وہ ایک جنگل دکھ رہا ہے درختوں سے پرندے گر رہے ہیں کلہاڑی شاخ پر لٹکی ہوئی ہے لکڑہارے پہ گیدڑ ہن سے رہے مسلسل تیز بارش ہوں رہی ہے کسی پتے سے گر کر ایک اللہ ری اچانک ایک سمندر بن گیا تو ہے سمندر ناو سے لڑنے لگا ہے مچھیرہ مچھلیوں ہے وہ ہے وہ گھر گیا تو ہے اور اب پتوار سینے سے لگا کر حقیقت نیلے آ سماں کو دیکھتا ہے جو یک دم زرد پڑتا جا رہا ہے حقیقت کیسے ریت بنتا جا رہا ہے مجھے اب صرف صحرا دکھ رہا ہے اور ا سے ہے وہ ہے وہ دھوم کی چادر بچھی ہے م گر حقیقت ایک جگہ سے پھٹ رہی ہے و ہاں پر ایک سایہ ناچتا ہے ج ہاں بھی پیر دھرتا ہے و ہاں پر سنہرے پھول کھلتے جا رہے ہے
Ammar Iqbal
13 likes
میرا رنگ اڑ رہا ہے مری بال جھڑ رہے ہیں میرا رنگ اڑ رہا ہے مری بال جھڑ رہے ہیں مری پیچ کھل چکے ہیں مری خم بگڑ رہے ہیں کہی چپکے چپکے چپکے مری بات چل رہی ہے کہی کچھ عزیز مری مری پاؤں پڑ رہے ہیں میرا کام کر چکا ہے میرا خواب مر چکا ہے مری خشک خشک آنکھوں ہے وہ ہے وہ سراب گڑ رہے ہیں مری پسلیاں چٹک کر مری منا کو آ گئی ہیں غم تشنہ لبی کے مارے مری دانت جھڑ رہے ہیں مری آستین پھٹی ہے مجھے چوٹ لگ رہی ہے مری دھجیاں اڑی ہیں مری تار ادھڑ رہے ہیں مری خون کی سفی گرا تمہیں کیا بتا رہی ہے یہ مجھے جتا رہی ہے مری زخم سڑ رہے ہیں مری سر پہ چڑھ کے اب تک وہی خوف ناچتا ہے کہ تو کب کا جا چکا ہے کہ تو کب کا جا چکا ہے
Ammar Iqbal
17 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Ammar Iqbal.
Similar Moods
More moods that pair well with Ammar Iqbal's nazm.







