میرا رنگ اڑ رہا ہے مری بال جھڑ رہے ہیں میرا رنگ اڑ رہا ہے مری بال جھڑ رہے ہیں مری پیچ کھل چکے ہیں مری خم بگڑ رہے ہیں کہی چپکے چپکے چپکے مری بات چل رہی ہے کہی کچھ عزیز مری مری پاؤں پڑ رہے ہیں میرا کام کر چکا ہے میرا خواب مر چکا ہے مری خشک خشک آنکھوں ہے وہ ہے وہ سراب گڑ رہے ہیں مری پسلیاں چٹک کر مری منا کو آ گئی ہیں غم تشنہ لبی کے مارے مری دانت جھڑ رہے ہیں مری آستین پھٹی ہے مجھے چوٹ لگ رہی ہے مری دھجیاں اڑی ہیں مری تار ادھڑ رہے ہیں مری خون کی سفی گرا تمہیں کیا بتا رہی ہے یہ مجھے جتا رہی ہے مری زخم سڑ رہے ہیں مری سر پہ چڑھ کے اب تک وہی خوف ناچتا ہے کہ تو کب کا جا چکا ہے کہ تو کب کا جا چکا ہے
Related Nazm
پیڑ سترہ اٹھارہ سال کی تھی حقیقت جب حقیقت دنیا چھوڑ گئی تھی آخری سانسیں گنتی لڑکی مجھ سے ہمت بانٹ رہی تھی ہاتھ پکڑ کے ڈانٹ رہی تھی ایسے تھوڑی کرتے ہیں عاشق تھوڑی مرتے ہیں جسم تو ایک کہانی ہے سانسیں آنی جانی ہیں ا سے نے کہا تھا پیارے لڑکے سب سے ملنا ہن سے کے ملنا میری یاد ہے وہ ہے وہ پیڑ لگانا پاگل لڑکے عشق کے حامی میرے پیچھے مر مت جانا عشق کیا تھا عشق نبھانا
Rishabh Sharma
20 likes
تمام رات ستاروں سے بات رہتی تھی کہ صبح ہوتے ہی گھر سے پھول آتے تھے حقیقت ک سے کے نقش ابھرتے تھے تیغ پر اپنی حقیقت ک سے خیال ہے وہ ہے وہ ہم جنگ جیت جاتے تھے ہمیں بھی قحط ہے وہ ہے وہ ایک چشمہ زر میسر تھی کوئی ہتھیلیاں بھر بھر کے مے پلاتا تھا بھرا ہوا تھا سمندر انہی خزانو سے نکال لیتے تھے جو خواب را سے آتا تھا حقیقت مری ساتھ رہا کرتا خوشدلی سے بے حد کہ ان دنوں میرا دنیا پر ہاتھ پڑتا تھا ہماری جیب بھری رہتی داستانو سے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ خیال کا جنگل بھی ساتھ پڑتا تھا حقیقت سارے دن کا تھکا خوابگاہ ہے وہ ہے وہ آتا تھپک تھپک کے سلاتا تو ہاتھ سو جاتے نسیم صبح کسی لہر ہے وہ ہے وہ جگاتی ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اور اٹھتے اٹھتے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ دن کے ایک ہوں جاتے سروں سے کھینچ لیا سمے نے وفا کا لحاف حقیقت پردے اٹھ گئے جو تاینات رہتے تھے بچھڑ گیا تو ہے حقیقت سنگین موسموں ہے وہ ہے وہ کہی حقیقت مری دل پر صدا ج سے کے ہاتھ رہتے تھے حقیقت بو گل ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ج سے گلستاں ہے وہ ہے وہ لائی تھی و ہاں بھی جا کے ا سے کا نشان دیکھ لیا<b
Tehzeeb Hafi
46 likes
مری حیات یہ ہے اور یہ تمہاری قضا زیادہ ک سے سے ک ہوں اور ک سے کو کم بولو جاناں اہل خا لگ رہے اور ہے وہ ہے وہ یتیم ہوا تمہارا درد بڑا ہے یا میرا غم بولو تمہارا دور تھا گھر ہے وہ ہے وہ بہار ہنستی تھی ابھی تو در پہ فقط رنج و غم کی دستک ہے تمہارے ساتھ کا موسم بڑا حسین رہا تمہارے بعد کا موسم بڑا بھيانک ہے ہزاروں قرض تھے مجھ پر تمہاری الفت کے مجھے حقیقت قرض چکانے کا موقع تو دیتے تمہارا خون مری جسم ہے وہ ہے وہ مچلتا رہا ذرا سے قطرے بہانے کا موقع تو دیتے بڑے سکون سے جاناں سو گئے و ہاں جا کر یہ کیسے نیند تمہیں آ گئی نئے گھر ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہر ایک شب ہے وہ ہے وہ فقط کروٹیں بدلتا ہوں تمہاری قبر کے کنکر ہوں چنو بستر ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ بوجھ کاندهوں پہ ایسے اٹھا کے چلتا ہوں تمہارا چنو جنازہ اٹھا کے چلتا تھا ی ہاں پہ مری پریشانی صرف مری ہے و ہاں کوئی لگ کوئی کانده تو بدلتا تھا تمہاری شم تمنا ب سے ایک رات بجھی چراغ مری توقع کے روز بجھتے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سان سے لوں بھی تو کیسے کہ مری سانسوں ہے
Zubair Ali Tabish
19 likes
ترک عشق سنو پریمکا اوئے انامیکا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تمہارے لیے نہیں لکھتا لکھتے ہوں گے جو لکھتے ہوں گے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نہیں لکھتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ لکھتا ہوں کیونکہ ہے وہ ہے وہ بنا ہوں لکھنے کے لیے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بکتا ہوں کیونکہ ہے وہ ہے وہ بنا ہوں بکنے کے لیے ہے وہ ہے وہ ہے وہ لکھتا ہوں کیونکہ میرا من کرتا ہے جاناں میری گیت ہے وہ ہے وہ کیسے ہوں جاناں جانو میری غزل ہے وہ ہے وہ کیسے ہوں جاناں جانو جاناں میری کویتا ہے وہ ہے وہ کیسے ہوں جاناں جانو جاناں میری نجم ہے وہ ہے وہ کیسے ہوں جاناں جانو ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیوں جانوں جب ہے وہ ہے وہ تمہیں نہیں لکھتا اور ہے وہ ہے وہ کیوں لکھوں تمہارے لیے کیا کیا ہے جاناں نے ہمارے لیے وہی سمجھداری بھری باتیں جو جاناں ہمیشہ سے کرتی آئی ہوں جب بھی ملتی سمجھداری بھری باتیں کرتی اور ہے وہ ہے وہ پاگلوں کی طرح تمہاری ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ 9 ہی چپ رہتا تھا کیونکہ کبھی تو جواب نہیں ہوتے تھے اور کبھی ہے وہ ہے وہ سنکوچ جاتا مگر جاناں کرتی تھی کیوں ن
Rakesh Mahadiuree
22 likes
حقیقت لوگ بے حد خوش قسمت تھے جو عشق کو کام سمجھتے تھے یا کام سے کرنے والے کرتے تھے ہم جیتے جی مصروف رہے کچھ عشق کیا کچھ کام کیا کام عشق کے آڑے آتا رہا اور عشق سے کام الجھتا رہا پھروں آخر تنگ آ کر ہم نے دونوں کو ادھورا چھوڑ دیا
Faiz Ahmad Faiz
160 likes
More from Ammar Iqbal
اندھیرا سر پہ چڑھتا جا رہا ہے گزرتی عمر ڈھلتی جا رہی ہے ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پاؤں نگلتی جا رہی ہے اندھیرا سر پہ چڑھتا جا رہا ہے پری آگے نکلتی جا رہی ہے ستارے تم تم باری باری بجھ رہے ہیں ہوا مؤثر ہوتی جا رہی ہے چمکتی ہوئی جا رہی ہے کوئی مچھلی سمندر برف کرتی جا رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنی ناو ہے وہ ہے وہ بیک سے پڑا ہوں افکتی نبض ڈوبی جا رہی ہے اندھیرا سر پہ چڑھتا جا رہا ہے اندھیرا ہی سمندر کا خدا ہے خدا مچھلی پکڑنا چاہتا ہے
Ammar Iqbal
13 likes
ہیلو سینیشن ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنے بند کمرے ہے وہ ہے وہ پڑا ہوں اور اک دیوار پر نظریں جمائے مناظر کے عجوبے دیکھتا ہوں اسی دیوار ہے وہ ہے وہ کوئی خلا ہے مجھے جو غار جیسا لگ رہا ہے و ہاں مکڑی نے جال بُن لیا ہے اور اب اپنے ہی جال ہے وہ ہے وہ پھسی ہے وہیں پر ایک مردہ چھپکلی ہے کئی صدیوں سے جو ساکت پڑی ہے اب ا سے پر کائی جمتی جا رہی ہے اور ا سے ہے وہ ہے وہ ایک جنگل دکھ رہا ہے درختوں سے پرندے گر رہے ہیں کلہاڑی شاخ پر لٹکی ہوئی ہے لکڑہارے پہ گیدڑ ہن سے رہے مسلسل تیز بارش ہوں رہی ہے کسی پتے سے گر کر ایک اللہ ری اچانک ایک سمندر بن گیا تو ہے سمندر ناو سے لڑنے لگا ہے مچھیرہ مچھلیوں ہے وہ ہے وہ گھر گیا تو ہے اور اب پتوار سینے سے لگا کر حقیقت نیلے آ سماں کو دیکھتا ہے جو یک دم زرد پڑتا جا رہا ہے حقیقت کیسے ریت بنتا جا رہا ہے مجھے اب صرف صحرا دکھ رہا ہے اور ا سے ہے وہ ہے وہ دھوم کی چادر بچھی ہے م گر حقیقت ایک جگہ سے پھٹ رہی ہے و ہاں پر ایک سایہ ناچتا ہے ج ہاں بھی پیر دھرتا ہے و ہاں پر سنہرے پھول کھلتے جا رہے ہے
Ammar Iqbal
13 likes
زبان دراز ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنی بیماری بتانے سے معذور ہوں مجھے زبان کی عجیب بیماری ہوں گئی ہے سو گفتگو سے پرہیز کرنے پر مجبور ہوں میرا لہجہ کرخت اور آواز بھاری ہوں گئی ہے زبان ہے وہ ہے وہ فی لفظ ایک انچ اضافہ ہوں رہا ہے پہلے بھی تو یہ کاندهوں پر پڑی تھی تمہیں مری مشکل کا اندازہ ہوں رہا ہے جاناں جو مجھ سے بات کرنے پر اڑی تھیں آخری تکرار کے بعد ہے وہ ہے وہ نے زبان سمیٹ لی ہے اب ہے وہ ہے وہ ایک لفظ بھی مزید نہیں بولوںگا کھینچ تان کر زبان اپنے بدن پر لپیٹ لی ہے دعا نہیں کروں گا گرہ نہیں کھولوںگا ہر پسلی دوسری پسلی ہے وہ ہے وہ دھنستی جا رہی ہے مری زبان مری بدن پر کشتی جا رہی ہے
Ammar Iqbal
6 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Ammar Iqbal.
Similar Moods
More moods that pair well with Ammar Iqbal's nazm.







