تمام رات ستاروں سے بات رہتی تھی کہ صبح ہوتے ہی گھر سے پھول آتے تھے حقیقت ک سے کے نقش ابھرتے تھے تیغ پر اپنی حقیقت ک سے خیال ہے وہ ہے وہ ہم جنگ جیت جاتے تھے ہمیں بھی قحط ہے وہ ہے وہ ایک چشمہ زر میسر تھی کوئی ہتھیلیاں بھر بھر کے مے پلاتا تھا بھرا ہوا تھا سمندر انہی خزانو سے نکال لیتے تھے جو خواب را سے آتا تھا حقیقت مری ساتھ رہا کرتا خوشدلی سے بے حد کہ ان دنوں میرا دنیا پر ہاتھ پڑتا تھا ہماری جیب بھری رہتی داستانو سے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ خیال کا جنگل بھی ساتھ پڑتا تھا حقیقت سارے دن کا تھکا خوابگاہ ہے وہ ہے وہ آتا تھپک تھپک کے سلاتا تو ہاتھ سو جاتے نسیم صبح کسی لہر ہے وہ ہے وہ جگاتی ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اور اٹھتے اٹھتے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ دن کے ایک ہوں جاتے سروں سے کھینچ لیا سمے نے وفا کا لحاف حقیقت پردے اٹھ گئے جو تاینات رہتے تھے بچھڑ گیا تو ہے حقیقت سنگین موسموں ہے وہ ہے وہ کہی حقیقت مری دل پر صدا ج سے کے ہاتھ رہتے تھے حقیقت بو گل ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ج سے گلستاں ہے وہ ہے وہ لائی تھی و ہاں بھی جا کے ا سے کا نشان دیکھ لیا<b
Related Nazm
کیوں ہے جاناں نہیں ہوں ی ہاں پر پھروں بھی تمہارے ہونے کا احسا سے کیوں ہے کچھ ہے نہیں مری ہاتھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پھروں بھی کچھ ہونے کی یہ آ سے کیوں ہے بڑی حیرانی ہے مجھے کی حقیقت دور ہوکر بھی اتنا پا سے کیوں ہے سب نے کہا کہ حقیقت تو پرایا ہے حقیقت پرایا ہوکر بھی اتنا خاص کیوں ہے جتنا حقیقت دور ہے مجھ سے حقیقت اتنا ہی مجھ کو را سے کیوں ہے بیٹھا ہوں بلکل اکانت ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پھروں بھی کانوں ہے وہ ہے وہ ا سے کی آواز کیوں ہے کھل کے نہیں کہتی حقیقت کچھ بھی ا سے کی آنکھوں ہے وہ ہے وہ اتنے راز کیوں ہیں بسی ہے دل ہے وہ ہے وہ حقیقت مری یہ میرا دل ا سے کا سمپتی کیوں ہے اس کا کا کو نہیں بھلا سکتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ ا سے کے نام کی ہر شوا سے کیوں ہے پوری کائنات ا سے کی یاد دلاتی ہے یہ تن من ہے وہ ہے وہ ا سے کا وا سے کیوں ہے حقیقت مری ہوئی نہیں ہے ابھی اس کا کا کو کھونے کے ڈر سے من اتنا بدحوا سے کیوں ہے دوریاں لکھی ہیں چنو درمیان میرا نصیب مجھ سے اتنا ناراض کیوں ہے ایسے شبد ک ہاں سے لاؤں کی حقیقت سمجھے
Divya 'Kumar Sahab'
37 likes
تمہیں اک بات کہنی تھی اجازت ہوں تو کہ دوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ بھیگا بھیگا سا موسم یہ تتلی پھول اور شبنم چمکتے چاند کی باتیں یہ بوندیں اور برساتیں یہ کالی رات کا آنچل ہوا ہے وہ ہے وہ ناچتے بادل دھڑکتے موسموں کا دل مہکتی سرسرا کا دل یہ سب جتنے نظارے ہیں کہو ک سے کے اشارے ہیں سبھی باتیں سنی جاناں نے پھروں آنکھیں پھیر لیں جاناں نے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تب جا کر کہی سمجھا کہ جاناں نے کچھ نہیں سمجھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ قصہ بڑھوا کر کے ذرا نیچی نظر کر کے یہ کہتا ہوں ابھی جاناں سے محبت ہوں گئی جاناں سے
Zubair Ali Tabish
117 likes
میرا سنسر میرے من کا سکون بھی جاناں ہوں جاناں ہی میری منزل اس کا کا کا جنون بھی جاناں ہوں میرا دن بھی جاناں ہوں میری رات بھی جاناں ہوں میری نیند بھی جاناں ہوں میرے جذبات بھی جاناں ہوں میرا ہر لمحہ جاناں ہوں میرے حالات بھی جاناں ہوں میرا جیون بھی جاناں ہوں اس کی مستی بھی جاناں ہوں ہوں اگر ہے وہ ہے وہ منجھدار تو پھروں اس کی کشتی بھی جاناں ہوں اگر ہوں ہے وہ ہے وہ شریر تو اس کی استھی بھی جاناں ہوں اور ہوں اگر ہے وہ ہے وہ آتما تو اس کی مکتی بھی جاناں ہوں میرا ویراغیا بھی جاناں ہوں میری آسکتی بھی جاناں ہوں میرا ایشور بھی جاناں ہوں میری بھکتی بھی جاناں ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اگر دل ہوں تو اس کی دھڑکن بھی جاناں ہوں میری ہر بات جاناں ہوں میری تڑپن بھی جاناں ہوں میری سوتنترتا بھی جاناں ہوں میرا بندھن بھی جاناں ہوں میرا سکھ بھی جاناں ہوں میری مسکان بھی جاناں ہوں میرا دکھ بھی جاناں ہوں میرا سممان بھی جاناں ہوں میرا بل بھی جاناں ہوں میرا سوابھیمان بھی جاناں ہوں میری پرارتھنا بھی جاناں ہ
Divya 'Kumar Sahab'
37 likes
بھلی سی ایک شکل تھی بھلے دنوں کی بات ہے بھلی سی ایک شکل تھی نہ یہ کہ حسن تام ہوں نہ دیکھنے ہے وہ ہے وہ آم سی نہ یہ کہ حقیقت چلے تو کہکشاں سی رہگزر لگے مگر حقیقت ساتھ ہوں تو پھروں بھلا بھلا سفر لگے کوئی بھی رت ہوں اس کا کی چھب فضا کا رنگ روپ تھی حقیقت گرمیوں کی چھاؤں تھی حقیقت سردیوں کی دھوپ تھی نہ مدتوں جدا رہے نہ ساتھ صبح و شام ہوں نہ رشتہ وفا پہ ضد نہ یہ کہ اجازت عام ہوں نہ ایسی خوش لباسیاں کہ سادگی گلہ کرے نہ اتنی بے تکلفی کہ آئینہ حیا کرے نہ اختلاط ہے وہ ہے وہ حقیقت رم کہ بد مزہ ہوں خواہشیں نہ اس کا دودمان سپردگی کہ زچ کریں نوازشیں نہ کرنے والے جنون کی کہ زندگی عذاب ہوں نہ اس کا دودمان کٹھور پن کہ دوستی خراب ہوں کبھی تو بات بھی خفی کبھی سکوت بھی سخن کبھی تو کشت زعفران کبھی اداسیوں کا بن سنا ہے ایک عمر ہے معاملات دل کی بھی وصال جاں فزا تو کیا فراق جاں گسل کی بھی سو ایک روز کیا ہوا وفا پہ بحث چھڑ گئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ عشق کو فدا کہوں حقیقت
Ahmad Faraz
111 likes
مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب لگ مانگ مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب لگ مانگ ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے سمجھا تھا کہ تو ہے تو درخشاں ہے حیات تیرا غم ہے تو غم دہر کا جھگڑا کیا ہے تیری صورت سے ہے عالم ہے وہ ہے وہ بہاروں کو ثبات تیری آنکھوں کے سوا دنیا ہے وہ ہے وہ رکھا کیا ہے تو جو مل جائے تو تقدیر نگوں ہوں جائے یوں لگ تھا ہے وہ ہے وہ نے فقط چاہا تھا یوں ہوں جائے اور بھی دکھ ہیں زمانے ہے وہ ہے وہ محبت کے سوا راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا ان گنت صدیوں کے تاریک بہیما لگ طلسم ریشم و اطلَ سے و کمخواب ہے وہ ہے وہ بنوائے ہوئے جا بجا بکتے ہوئے کوچہ و بازار ہے وہ ہے وہ جسم خاک ہے وہ ہے وہ لُتھڑے ہوئے خون ہے وہ ہے وہ نہلائے ہوئے جسم نکلے ہوئے امراض کے تنوروں سے پیپ بہتی ہوئی گلتے ہوئے ناسوروں سے لوٹ جاتی ہے ادھر کو بھی نظر کیا کیجے اب بھی دلکش ہے ترا حسن م گر کیا کیجے اور بھی دکھ ہیں زمانے ہے وہ ہے وہ محبت کے سوا راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب لگ مانگ
Faiz Ahmad Faiz
73 likes
More from Tehzeeb Hafi
ہے وہ ہے وہ سپنوں ہے وہ ہے وہ آکسیجن پلانٹ انسٹال کر رہا ہوں اور ہر مرنے والے کے ساتھ مر رہا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنے لفظوں کے ذریعے تمہیں سانسوں کے سلنڈر بھیجوں گا جو تمہیں ا سے جنگ ہے وہ ہے وہ ہارنے نہیں دیں گے اور تمہاری دیکھ بھال کرنے والوں کے ہاتھوں کو کانپنے نہیں دیں گے آکسیجن اسٹاک ختم ہونے کی خبریں گردش بھی کریں تو کیا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تمہارے لیے اپنی نظموں سے وینٹیلیٹر بناؤں گا اسپتالوں کے بستر بھر بھی جائیں کچھ لوگ جاناں سے بچھڑ بھی جائیں تو حوصلہ مت شفت کیونکہ رات چاہے جتنی مرضی کالی ہوں گزر جانے کے لیے ہوتی ہے رنگ اتر جانے کے لیے ہوتے ہیں اور زخم بھر جانے کے ہوتے ہیں
Tehzeeb Hafi
46 likes
مجھے بے حد ہے کے ہے وہ ہے وہ بھی شامل ہوں تیری زلفوں کی زائرینوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جو اماوَ سے کی کالی راتوں کا رزق بننے سے بچ گئے مجھے قسم ہے ادا سے راتوں ہے وہ ہے وہ ڈسنے والے یتیم سانپوں کی زہر آلود زندگی کی تری چھوئے جسم بستر مرگ پر پڑے ہیں تری لبوں کی خفيف جنبش سے زلزلوں نے ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ کا زیور اتار پھینکا تیری درخشاں ہتھیلیوں پر بدلتے موسم کے ذائقوں سے پتا چلا ہے کے ا سے تعلق کی سر ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پر خیزہ بے حد دیر تک رہےگی ہے وہ ہے وہ ہے وہ جانتا ہوں کے ہے وہ ہے وہ نے ممنوع جھونپڑیوں سے ہوں کے ایسے بے حد سے بابوں کی سیر کی ہے ج ہاں سے تو روکتی بے حد تھی یہ ہاتھ جن کو تری بدن کی چمک نے برسوں نڈھال رکھا حرام ہے کے ان ہوں نے شاخوں سے پھول گرفت ہوں یا کسی بھی پیڑ کے لچکدار حسن دلآویز سے کسی بھی موسم کا فل اتارا ہوں اور ا گر ایسا ہوں بھی جاتا تو پھروں بھی تیری شریشت ہے وہ ہے وہ انتقام کب ہے ابھی محبت کی صبح روشن ہے شام کب ہے یہ دل کے شیشے پر پڑھنے لگیں والی ملال کی دھول صاف کر دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھ سے چھپ کر ا گر کسی سے ملا تو مجھے
Tehzeeb Hafi
25 likes
صبحیں روشن تھی اور گرمیوں کی تھکا دینے والے دنوں میں ساری دنیا سے آزاد ہم مچھلیوں کی طرح میلی نہروں میں گوٹے لگاتے اپنے چہروں سے کیچڑ دیکھیں گے ڈراتے تھے ایک دوسرے کو کناروں پر بیٹھے ہوئے ہم نے جو عہد ایک دوسرے سے لیے تھے اس کے دھندلے سے نقشے آج بھی میرے دل پر کہیں نقش ہے خدا روز سورج کو تیار کر کے ہماری طرف بھیجتا تھا اور ہم سایہ کفر میں اک دوجے کے چہرے کی تابندگی کی دعا مانگتے تھے اس کا چہرہ کبھی میری آنکھوں سے اوجھل نہیں ہو سکا اس کا چہرہ اگر میری آنکھوں سے ہٹتا تو میں کائناتوں میں پھیلے ہوئے ان مظاہر کی تفہیم نظموں میں کرتا کہ جس پر بزید ہے یہ بیمار جن کو خود اپنی تمناؤں کی آتماوں نے اتنا ڈرایا کہ انکو ہوس کے قفس میں محبت کی کرنوں نے چھونے کی کوشش بھی کی تو یہ اس سے پرے ہو گئے ان کے بس میں نہیں کہ یہ محسوس کرتے ایک محبت بھرے ہاتھ کا لمس جن سے انکار کر کر کے ان کے بدن خوردورے ہو گئے ایک دن جو خدا اور محبت کی ایک قسط کو اگلے دن پر نہیں ٹال سکتے خدا اور محبت پر رائے زنی کرتے تھکتے نہیں اور اس پر بھی یہ چاہتے ہیں کہ میں ان کی مرضی کی نظمی
Tehzeeb Hafi
18 likes
کتنا عرصہ لگا نا امی گرا کے پربت سے پتھر ہٹاتے ہوئے ایک بفری ہوئی لہر کو رام کرتے ہوئے نا خداوں ہے وہ ہے وہ اب پیچھے کتنے بچے ہیں روشنی اور اندھیرے کی تفریق ہے وہ ہے وہ کتنے لوگوں نے آنکھیں گنوا دیں کتنی صدیاں سفر ہے وہ ہے وہ گزاری م گر آج پھروں ا سے جگہ ہیں ج ہاں سے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنی ماوں نے رخصت کیا تھا اپنے سب سے بڑے خواب کو اپنی آنکھوں کے آگے اجڑتے ہوئے دیکھنے سے برا کچھ نہیں ہے تیری قربت ہے وہ ہے وہ یا تجھ سے دوری پہ جتنی گزاری تیری چوڑیوں کی قسم زندگی دائروں کے سوا کچھ نہیں ہے کہنیوں سے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنا منا ڈھانپ کر کھانسنے کو بڑوں نے کہا تھا تو ہم ان پہ ہنستے تھے اور سوچتے تھے کہ ان کو ٹشو پیپروں کی مہک سے الرجی ہے لیکن ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ پتا ہی نہیں تھا کہ ان پہ حقیقت آفات ٹوٹی ہیں جن کا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اک ص گرا بعد پھروں سامنا ہے وبا کے دنوں ہے وہ ہے وہ کسے ہوش رہتا ہے ک سے ہاتھ کو کھڑکیاں ہے کسے تھامنا ہے اک ریاضی کے استاد نے اپنے ہاتھوں ہے وہ ہے وہ پرکار لے کر یہ
Tehzeeb Hafi
21 likes
مقرر کیا ہے صبح روشن تھی اور گرمیوں کے تھکا دینے والے دنوں میں ساری دنیا سے آزاد ہم مچھلیوں کی طرح میلی نہروں میں گوٹے لگاتے اپنے چہرے پہ کیچڑ لگا کر ڈراتے تھے ایک دوسرے کو کنارو پہ بیٹھے ہوئے ہم نے جو عہد ایک دوسرے سے لیے تھے اس کے دھندلے سے نقشے آج بھی میرے دل پر کہیں نقش ہیں خدا روز سورج کو تیار کر کے ہماری طرف بھیجتا تھا اور ہم سایہ کفر میں ایک دوجے کے چہرے کی تابندگی کی دعا مانگتے تھے اس کا چہرہ کبھی میری آنکھوں سے اوجھل نہیں ہو سکا اس کا چہرہ اگر میری آنکھوں سے ہٹتا تو میں کائنات میں پھیلے ہوئے ان مظاہر کی تفہیم نظموں میں کرتا کہ جس پر بزید نے یہ بیمار جن کو خود اپنی تمناؤں کی آتماوں نے اتنا ڈرایا کے انکو ہوس کے قفس میں محبت کی کرنوں نے چھونے کی کوشش بھی کی تو یہ اس سے پرے ہو گئے ان کے بس میں نہیں کہ یہ محسوس کرتے اک محبت بھرے ہاتھ کا لمس جس سے انکار کر کر کے ان کے بدن خوردری ہو گئے ایک دن جو خدا اور محبت کی اک قسط کو اگلے دن پر نہیں ٹال سکتے خدا اور محبت پہ رائزنی کرتے تھکتے نہیں اور اس پر بھی یہ چاہتے ہیں کہ میں ان کی مرضی کی نظمیں کہوں جن<
Tehzeeb Hafi
26 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Tehzeeb Hafi.
Similar Moods
More moods that pair well with Tehzeeb Hafi's nazm.







