nazmKuch Alfaaz

زبان دراز ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنی بیماری بتانے سے معذور ہوں مجھے زبان کی عجیب بیماری ہوں گئی ہے سو گفتگو سے پرہیز کرنے پر مجبور ہوں میرا لہجہ کرخت اور آواز بھاری ہوں گئی ہے زبان ہے وہ ہے وہ فی لفظ ایک انچ اضافہ ہوں رہا ہے پہلے بھی تو یہ کاندهوں پر پڑی تھی تمہیں مری مشکل کا اندازہ ہوں رہا ہے جاناں جو مجھ سے بات کرنے پر اڑی تھیں آخری تکرار کے بعد ہے وہ ہے وہ نے زبان سمیٹ لی ہے اب ہے وہ ہے وہ ایک لفظ بھی مزید نہیں بولوںگا کھینچ تان کر زبان اپنے بدن پر لپیٹ لی ہے دعا نہیں کروں گا گرہ نہیں کھولوںگا ہر پسلی دوسری پسلی ہے وہ ہے وہ دھنستی جا رہی ہے مری زبان مری بدن پر کشتی جا رہی ہے

Related Nazm

بھلی سی ایک شکل تھی بھلے دنوں کی بات ہے بھلی سی ایک شکل تھی نہ یہ کہ حسن تام ہوں نہ دیکھنے ہے وہ ہے وہ آم سی نہ یہ کہ حقیقت چلے تو کہکشاں سی رہگزر لگے مگر حقیقت ساتھ ہوں تو پھروں بھلا بھلا سفر لگے کوئی بھی رت ہوں اس کا کی چھب فضا کا رنگ روپ تھی حقیقت گرمیوں کی چھاؤں تھی حقیقت سردیوں کی دھوپ تھی نہ مدتوں جدا رہے نہ ساتھ صبح و شام ہوں نہ رشتہ وفا پہ ضد نہ یہ کہ اجازت عام ہوں نہ ایسی خوش لباسیاں کہ سادگی گلہ کرے نہ اتنی بے تکلفی کہ آئینہ حیا کرے نہ اختلاط ہے وہ ہے وہ حقیقت رم کہ بد مزہ ہوں خواہشیں نہ اس کا دودمان سپردگی کہ زچ کریں نوازشیں نہ کرنے والے جنون کی کہ زندگی عذاب ہوں نہ اس کا دودمان کٹھور پن کہ دوستی خراب ہوں کبھی تو بات بھی خفی کبھی سکوت بھی سخن کبھی تو کشت زعفران کبھی اداسیوں کا بن سنا ہے ایک عمر ہے معاملات دل کی بھی وصال جاں فزا تو کیا فراق جاں گسل کی بھی سو ایک روز کیا ہوا وفا پہ بحث چھڑ گئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ عشق کو فدا کہوں حقیقت

Ahmad Faraz

111 likes

مرشد مرشد پلیز آج مجھے سمے دیجئے مرشد ہے وہ ہے وہ آج آپ کو دکھڑے سناؤںگا مرشد ہمارے ساتھ بڑا ظلم ہوں گیا تو مرشد ہمارے دیش ہے وہ ہے وہ اک جنگ چھڑ گئی مرشد سبھی غنیم شرافت سے مر گئے مرشد ہمارے ذہن گرفتار ہوں گئے مرشد ہماری سوچ بھی بازاری ہوں گئی مرشد ہماری فوج کیا لڑتی حریف سے مرشد اسے تو ہم سے ہی فرصت نہیں ملی مرشد بے حد سے مار کے ہم خود بھی مر گئے مرشد ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جرح نہیں تلوار دی گئی مرشد ہماری ذات پہ بہتان چڑھ گئے مرشد ہماری ذات پلاندوں ہے وہ ہے وہ دب گئی مرشد ہمارے واسطے ب سے ایک بے وجہ تھا مرشد حقیقت ایک بے وجہ بھی تقدیر لے اڑی مرشد خدا کی ذات پہ اندھا یقین تھا افسو سے اب یقین بھی اندھا نہیں رہا مرشد محبتوں کے نتائج ک ہاں گئے مرشد مری تو زندگی برباد ہوں گئی مرشد ہمارے گاؤں کے بچوں نے بھی کہا مرشد کوں آخہ آ کے صدا حال دیکھ وجہ مرشد ہمارا کوئی نہیں ایک آپ ہیں یہ ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں کے اچھا نہیں ہوا مرشد ہے وہ ہے وہ جل رہا ہوں ہوائیں لگ دیجئے مرشد ازالہ کیجیے دعائیں لگ دیجئے مرشد خاموش رہ

Afkar Alvi

78 likes

مجھ کو اتنے سے کام پہ رکھ لو جب بھی سینے ہے وہ ہے وہ جھولتا لاکٹ الٹا ہوں جائے تو ہے وہ ہے وہ ہاتھوں سے سیدھا کرتا رہوں اس کا کو جب بھی آویزہ الجھ بالوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ مسکرا کے بس اتنا سا کہ دو آہ چبھتا ہے یہ الگ کر دو جب غرارے ہے وہ ہے وہ پاؤں قبلہ حاجات جائے یا دوپٹہ کسی کواڑ سے اٹکے اک نظر دیکھ لو تو کافی ہے پلیز کہ دو تو اچھا ہے لیکن مسکرانے کی شرط پکی ہے مسکراہٹ معاوضہ ہے میرا مجھ کو اتنے سے کام پہ رکھ لو

Gulzar

68 likes

مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب لگ مانگ مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب لگ مانگ ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے سمجھا تھا کہ تو ہے تو درخشاں ہے حیات تیرا غم ہے تو غم دہر کا جھگڑا کیا ہے تیری صورت سے ہے عالم ہے وہ ہے وہ بہاروں کو ثبات تیری آنکھوں کے سوا دنیا ہے وہ ہے وہ رکھا کیا ہے تو جو مل جائے تو تقدیر نگوں ہوں جائے یوں لگ تھا ہے وہ ہے وہ نے فقط چاہا تھا یوں ہوں جائے اور بھی دکھ ہیں زمانے ہے وہ ہے وہ محبت کے سوا راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا ان گنت صدیوں کے تاریک بہیما لگ طلسم ریشم و اطلَ سے و کمخواب ہے وہ ہے وہ بنوائے ہوئے جا بجا بکتے ہوئے کوچہ و بازار ہے وہ ہے وہ جسم خاک ہے وہ ہے وہ لُتھڑے ہوئے خون ہے وہ ہے وہ نہلائے ہوئے جسم نکلے ہوئے امراض کے تنوروں سے پیپ بہتی ہوئی گلتے ہوئے ناسوروں سے لوٹ جاتی ہے ادھر کو بھی نظر کیا کیجے اب بھی دلکش ہے ترا حسن م گر کیا کیجے اور بھی دکھ ہیں زمانے ہے وہ ہے وہ محبت کے سوا راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب لگ مانگ

Faiz Ahmad Faiz

73 likes

مری زخم نہیں بھرتے یاروں مری ناخون بڑھتے جاتے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ تنہا پیڑ ہوں جنگل کا مری پتے جھڑتے جاتے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کون ہوں کیا ہوں کب کی ہوں ایک تیری کب ہوں سب کی ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کوئل ہوں شہراو کی مجھے تاب نہیں ہے چھاؤں کی ایک دلدل ہے تری وعدوں کی مری پیر اکھڑتے جاتے ہیں مری زخم نہیں بھرتے یاروں مری ناخون بڑھتے جاتے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ک سے بچے کی گڑیا تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ک سے پنجرے کی چڑیا تھی مری کھیلنے والے ک ہاں گئے مجھے چومنے والے ک ہاں گئے مری بالیاں گروی مت رکھنا مری کنگن توڑ نا دینا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بنجر ہوتی جاتی ہوں کہی دریا موڑ نا دینا کبھی ملنا ا سے پر سوچیںگے ہم کیا منزل پر پہنچیں گے راستوں ہے وہ ہے وہ ہی لڑتے جاتے ہیں مری زخم نہیں بھرتے یاروں مری ناخون بڑھتے جاتے ہیں

Tehzeeb Hafi

161 likes

More from Ammar Iqbal

اندھیرا سر پہ چڑھتا جا رہا ہے گزرتی عمر ڈھلتی جا رہی ہے ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پاؤں نگلتی جا رہی ہے اندھیرا سر پہ چڑھتا جا رہا ہے پری آگے نکلتی جا رہی ہے ستارے تم تم باری باری بجھ رہے ہیں ہوا مؤثر ہوتی جا رہی ہے چمکتی ہوئی جا رہی ہے کوئی مچھلی سمندر برف کرتی جا رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنی ناو ہے وہ ہے وہ بیک سے پڑا ہوں افکتی نبض ڈوبی جا رہی ہے اندھیرا سر پہ چڑھتا جا رہا ہے اندھیرا ہی سمندر کا خدا ہے خدا مچھلی پکڑنا چاہتا ہے

Ammar Iqbal

13 likes

میرا رنگ اڑ رہا ہے مری بال جھڑ رہے ہیں میرا رنگ اڑ رہا ہے مری بال جھڑ رہے ہیں مری پیچ کھل چکے ہیں مری خم بگڑ رہے ہیں کہی چپکے چپکے چپکے مری بات چل رہی ہے کہی کچھ عزیز مری مری پاؤں پڑ رہے ہیں میرا کام کر چکا ہے میرا خواب مر چکا ہے مری خشک خشک آنکھوں ہے وہ ہے وہ سراب گڑ رہے ہیں مری پسلیاں چٹک کر مری منا کو آ گئی ہیں غم تشنہ لبی کے مارے مری دانت جھڑ رہے ہیں مری آستین پھٹی ہے مجھے چوٹ لگ رہی ہے مری دھجیاں اڑی ہیں مری تار ادھڑ رہے ہیں مری خون کی سفی گرا تمہیں کیا بتا رہی ہے یہ مجھے جتا رہی ہے مری زخم سڑ رہے ہیں مری سر پہ چڑھ کے اب تک وہی خوف ناچتا ہے کہ تو کب کا جا چکا ہے کہ تو کب کا جا چکا ہے

Ammar Iqbal

17 likes

ہیلو سینیشن ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنے بند کمرے ہے وہ ہے وہ پڑا ہوں اور اک دیوار پر نظریں جمائے مناظر کے عجوبے دیکھتا ہوں اسی دیوار ہے وہ ہے وہ کوئی خلا ہے مجھے جو غار جیسا لگ رہا ہے و ہاں مکڑی نے جال بُن لیا ہے اور اب اپنے ہی جال ہے وہ ہے وہ پھسی ہے وہیں پر ایک مردہ چھپکلی ہے کئی صدیوں سے جو ساکت پڑی ہے اب ا سے پر کائی جمتی جا رہی ہے اور ا سے ہے وہ ہے وہ ایک جنگل دکھ رہا ہے درختوں سے پرندے گر رہے ہیں کلہاڑی شاخ پر لٹکی ہوئی ہے لکڑہارے پہ گیدڑ ہن سے رہے مسلسل تیز بارش ہوں رہی ہے کسی پتے سے گر کر ایک اللہ ری اچانک ایک سمندر بن گیا تو ہے سمندر ناو سے لڑنے لگا ہے مچھیرہ مچھلیوں ہے وہ ہے وہ گھر گیا تو ہے اور اب پتوار سینے سے لگا کر حقیقت نیلے آ سماں کو دیکھتا ہے جو یک دم زرد پڑتا جا رہا ہے حقیقت کیسے ریت بنتا جا رہا ہے مجھے اب صرف صحرا دکھ رہا ہے اور ا سے ہے وہ ہے وہ دھوم کی چادر بچھی ہے م گر حقیقت ایک جگہ سے پھٹ رہی ہے و ہاں پر ایک سایہ ناچتا ہے ج ہاں بھی پیر دھرتا ہے و ہاں پر سنہرے پھول کھلتے جا رہے ہے

Ammar Iqbal

13 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Ammar Iqbal.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Ammar Iqbal's nazm.