nazmKuch Alfaaz

رات رات بڑی خراب ہے ہر رات خراب کر دیتی ہے رات بھر جاگ کر ہر صبح صبح کو دے دیتی ہے کچھ اونگھتے ہوئے خواب کچھ گزری راتوں کے قصے کچھ بجھی ہوئے یادوں کی خاک اور سرہانے پر ماضی کے خارے دھبے رات بڑی خراب ہے دن بھر کے مرجھائے زخموں کو پھروں ہرا کر دیتی ہے اور مہکنے دیتی ہے رات بھر کسی رات رانی کی طرح موقع دیتی ہے کہ سمبھل جاؤں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اور پھروں لے جاتی ہے اپنے ساتھ پہلے سے زیادہ غضب والی جگہ پر رات بڑی خراب ہے پر ایک رات ہی تو ہے جو ساتھ ہوتی ہے رات بھر خموشی سے سنتی ہے مری ہر خموشی کو سمجھتی ہے مری ہر بات کو مری ہر رات کو رات

Related Nazm

بھلی سی ایک شکل تھی بھلے دنوں کی بات ہے بھلی سی ایک شکل تھی نہ یہ کہ حسن تام ہوں نہ دیکھنے ہے وہ ہے وہ آم سی نہ یہ کہ حقیقت چلے تو کہکشاں سی رہگزر لگے مگر حقیقت ساتھ ہوں تو پھروں بھلا بھلا سفر لگے کوئی بھی رت ہوں اس کا کی چھب فضا کا رنگ روپ تھی حقیقت گرمیوں کی چھاؤں تھی حقیقت سردیوں کی دھوپ تھی نہ مدتوں جدا رہے نہ ساتھ صبح و شام ہوں نہ رشتہ وفا پہ ضد نہ یہ کہ اجازت عام ہوں نہ ایسی خوش لباسیاں کہ سادگی گلہ کرے نہ اتنی بے تکلفی کہ آئینہ حیا کرے نہ اختلاط ہے وہ ہے وہ حقیقت رم کہ بد مزہ ہوں خواہشیں نہ اس کا دودمان سپردگی کہ زچ کریں نوازشیں نہ کرنے والے جنون کی کہ زندگی عذاب ہوں نہ اس کا دودمان کٹھور پن کہ دوستی خراب ہوں کبھی تو بات بھی خفی کبھی سکوت بھی سخن کبھی تو کشت زعفران کبھی اداسیوں کا بن سنا ہے ایک عمر ہے معاملات دل کی بھی وصال جاں فزا تو کیا فراق جاں گسل کی بھی سو ایک روز کیا ہوا وفا پہ بحث چھڑ گئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ عشق کو فدا کہوں حقیقت

Ahmad Faraz

111 likes

مرشد مرشد پلیز آج مجھے سمے دیجئے مرشد ہے وہ ہے وہ آج آپ کو دکھڑے سناؤںگا مرشد ہمارے ساتھ بڑا ظلم ہوں گیا تو مرشد ہمارے دیش ہے وہ ہے وہ اک جنگ چھڑ گئی مرشد سبھی غنیم شرافت سے مر گئے مرشد ہمارے ذہن گرفتار ہوں گئے مرشد ہماری سوچ بھی بازاری ہوں گئی مرشد ہماری فوج کیا لڑتی حریف سے مرشد اسے تو ہم سے ہی فرصت نہیں ملی مرشد بے حد سے مار کے ہم خود بھی مر گئے مرشد ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جرح نہیں تلوار دی گئی مرشد ہماری ذات پہ بہتان چڑھ گئے مرشد ہماری ذات پلاندوں ہے وہ ہے وہ دب گئی مرشد ہمارے واسطے ب سے ایک بے وجہ تھا مرشد حقیقت ایک بے وجہ بھی تقدیر لے اڑی مرشد خدا کی ذات پہ اندھا یقین تھا افسو سے اب یقین بھی اندھا نہیں رہا مرشد محبتوں کے نتائج ک ہاں گئے مرشد مری تو زندگی برباد ہوں گئی مرشد ہمارے گاؤں کے بچوں نے بھی کہا مرشد کوں آخہ آ کے صدا حال دیکھ وجہ مرشد ہمارا کوئی نہیں ایک آپ ہیں یہ ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں کے اچھا نہیں ہوا مرشد ہے وہ ہے وہ جل رہا ہوں ہوائیں لگ دیجئے مرشد ازالہ کیجیے دعائیں لگ دیجئے مرشد خاموش رہ

Afkar Alvi

78 likes

ہم لڑکے ہیں آج آپ کو سب سچ سچ بتاتے ہیں ہم کہ سے لیے اتنا مسکراتے ہیں ہم کو رونا بھی آئی تو کہاں رو پاتے ہیں کوئی دیکھ نہ لے روتا ہوا یہ سوچ کر ڈر جاتے ہیں درد سہتے ہیں اور اپنے آنسوؤں کو پی جاتے ہیں ہم حقیقت ہیں جنہیں اپنے اشک بہانے سے روکا جاتا ہے جنہیں اپنا درد سنہانے سے روکا جاتا ہے ہم حقیقت ہیں جو خود ہی خود کا مزاق بناتے ہیں اور پھروں ایک دوجے سے سچ چھپاتے ہیں ہم سب کچھ کر سکتے ہیں مگر کبھی کھل کر رو نہیں سکتے ہمارا درد ہمارے سوا ای سے دنیا ہے وہ ہے وہ کہاں کوئی سمجھ پاتا ہے سکھ ہے وہ ہے وہ کھل کے ہنستے ہیں اور دکھ ہے وہ ہے وہ جھوٹ موٹھ کا مسکرانا آتا ہے ہم لڑکے ہیں صاحب ہمیں بچپن سے بس یہی سکھایا گیا تو ہے لڑکے روتے نہیں ہیں یہ بول بول کر پتھر دل بنایا گیا تو ہے اپنے من کی کرنے والا ای سے سماج کی نظر ہے وہ ہے وہ ہر لڑکا برا ہے اپنے آنسوؤں کو پی جاؤ دوستوں ہم لڑکے ہیں ہمیں رونا منا ہے

ABhishek Parashar

11 likes

ایک بات کیا تمہیں بھی سکھا دوں حقیقت ہنر ج سے سے پڑھ لیا کرتا ہوں تمہاری آنکھوں کو ان سب باتوں کو جو دبی رہتی ہیں تمہاری پلکوں کی قطاروں ہے وہ ہے وہ ہے وہ تب بھی جب لب خاموش ہوتے ہیں تمہارے یا تب جب ب سے یوں ہی مسکرا دیتی ہوں مجھ سے بات کرتے کرتے اور تب جب ہونٹ تمہارے کچھ اور ہی کہتے ہیں اور کہتے کہتے رک جایا کرتے ہیں ایک بات نہیں بتائی تمہیں کے تب ہے وہ ہے وہ چپکے سے پڑھ لیا کرتا ہوں تمہاری آنکھوں کو پوچھ لیتا ہوں حال تمہارا کہتا کچھ نہیں ہاں آنکھیں بات کرتی ہیں مری بھی ہزاروں سوالات بھی تمہاری ہی طرح پھروں کیوں جواب نہیں دے پاتیں تمہاری آنکھیں کیا تمہیں بھی سکھا دوں حقیقت ہنر ج سے سے پڑھ لیا کرتا ہوں تمہاری آنکھوں کو کہ جاناں بھی پڑھ لو حقیقت باتیں جن ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہونٹ خاموش رہتے ہیں اور حقیقت ساری باتیں جو اب تک نہیں کہی جاناں سے یا مجھے بھی سکھا دو اپنا آنکھوں سے جھوٹ بولنے کا ہنر

Saurabh Mehta 'Alfaaz'

12 likes

بھارت کے اے سپوتو ہمت د کھائے جاؤ دنیا کے دل پہ اپنا سکہ بٹھائے جاؤ مردہ دلی کا اڑے پھینکو زمین پر جاناں زندہ دلی کا ہر سو پرچم زلف یار جاؤ لاؤ لگ بھول کر بھی دل ہے وہ ہے وہ خیال پستی خوش حالی وطن کا بیڑا اٹھائے جاؤ تن من مٹائے جاؤ جاناں نام قومیت پر راہ وطن ہے وہ ہے وہ اپنی جانیں لڑائے جاؤ کم ہمتی کا دل سے نام و نشاں مٹا دو جرأت کا لوح دل پر نقشہ جمائے جاؤ اے ہندوو مسلماناں آپ سے ہے وہ ہے وہ ان دنوں جاناں خوبصورت گھٹائے جاؤ الفت دیش دروہی جاؤ بکرم کی راج نیتی یاد خدا کی پالیسی کی سارے ج ہاں کے دل پر عظمت بٹھائے جاؤ ج سے کش مکش نے جاناں کو ہے ا سے دودمان مٹایا جاناں سے ہوں ج سے دودمان جاناں ا سے کو مٹائے جاؤ جن خا لگ جنگیوں نے یہ دن تمہیں د کھائے اب ان کی یاد اپنے دل ہے وہ ہے وہ بھلائے جاؤ بے خوف گائے جاؤ ہندوستان ہمارا اور وندے ماترم کے نعرے لگائے جاؤ جن دیش سیوکوں سے حاصل ہے فیض جاناں کو ان دیش سیوکوں کی جے جے منائے جاؤ ج سے ملک کا ہوں کھاتے دن رات آب و دا لگ ا سے ملک پر سروں کی بھیٹیں چڑھائے جاؤ پھانسی کا جیل کا

Lal Chand Falak

14 likes

More from Saurabh Mehta 'Alfaaz'

کب تک خیر مناتے ہم الفت کے کوچوں سے ثابت کیسے بچکر آتے ہم ہم ٹھہرے بکرے کی اماں کب تک خیر مناتے ہم بڑی بڑی باتیں کر دی تھیں ان پر جان لٹائیں گے حکم کریں حقیقت آسمان سے تارے بھی لے آئیں گے پر قسمت اور قدرت اک تھالی کے چٹے بٹے کھٹے تھے کوشش اپنی پوری رہتی پر انگور تو بےوقوف تھے بگڑا ڈھائیں جو ان کے منا کا ان کو چٹنی کھانی تھی بیچارا دل بیوقوف تھا کچھ اپنی نادانی تھی آزمائش سے دل کی خاطر کیا جگت سے ڈر جاتے ہم ہم ٹھہرے بکرے کی اماں کب تک خیر مناتے ہم ہم نے پوری چھیڑی لگائی م گر مئی نا مل پائی پھروں ہم نے امید چھوڑ دی خود سے نینسکھ ایک لڑائی اب باتوں ہے وہ ہے وہ نا آئیں گے ان چنو ہی بن جائیں گے ان کی جانب نا سر و ساماں نام اندھیرا کہ لائیں گے لیکن ہم تھے ساون والے اور اوپر سے دل کے چھالے چھوڑ ریوڑی ان کی خاطر ہم نے روکھی سوکھی کھائی اونٹ سو گیا تو الٹی کروٹ جمکے لی ا سے نے جمائی پڑتے اولوں ہے وہ ہے وہ اب دیکھو اپنا سر منڈواتے ہم ہم ٹھہرے بکرے کی اماں کب تک خیر مناتے ہم ادھر پری

Saurabh Mehta 'Alfaaz'

10 likes

ایک بات کیا تمہیں بھی سکھا دوں حقیقت ہنر ج سے سے پڑھ لیا کرتا ہوں تمہاری آنکھوں کو ان سب باتوں کو جو دبی رہتی ہیں تمہاری پلکوں کی قطاروں ہے وہ ہے وہ ہے وہ تب بھی جب لب خاموش ہوتے ہیں تمہارے یا تب جب ب سے یوں ہی مسکرا دیتی ہوں مجھ سے بات کرتے کرتے اور تب جب ہونٹ تمہارے کچھ اور ہی کہتے ہیں اور کہتے کہتے رک جایا کرتے ہیں ایک بات نہیں بتائی تمہیں کے تب ہے وہ ہے وہ چپکے سے پڑھ لیا کرتا ہوں تمہاری آنکھوں کو پوچھ لیتا ہوں حال تمہارا کہتا کچھ نہیں ہاں آنکھیں بات کرتی ہیں مری بھی ہزاروں سوالات بھی تمہاری ہی طرح پھروں کیوں جواب نہیں دے پاتیں تمہاری آنکھیں کیا تمہیں بھی سکھا دوں حقیقت ہنر ج سے سے پڑھ لیا کرتا ہوں تمہاری آنکھوں کو کہ جاناں بھی پڑھ لو حقیقت باتیں جن ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہونٹ خاموش رہتے ہیں اور حقیقت ساری باتیں جو اب تک نہیں کہی جاناں سے یا مجھے بھی سکھا دو اپنا آنکھوں سے جھوٹ بولنے کا ہنر

Saurabh Mehta 'Alfaaz'

12 likes

وجہیں سنو جانے سے اعتراض نہیں مجھے پر جاؤ تو لوٹ آنے کی وجہیں چھوڑ جانا آج نہ صحیح کل گتھی پابندی کیا صحیح ہے نہ کھینچ کر توڑ دینا یا بہتر ہے گرہیں رہنے دینا اور وقت پر چھوڑ دینا عدد رابطوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ لازم ہیں رسوائیاں بھی جب منائے کوئی تو اور روٹھنا فقیر کرنا پھروں مان جانا بات بگڑ جاتی ہے چپ رہنے سے بھی سب چپ چاپ سہنے سے بھی کہنا کہ دینا کہنے دینا خاموشیوں کے بھروسے مت رہنا اب جاؤ پر لوٹ آنے کی وجہیں چھوڑ جانا

Saurabh Mehta 'Alfaaz'

11 likes

کیا لکھ دوں کیا لکھ دوں ا سے کاغذ پر کہ جب جاناں تک یہ پہنچے تو محسو سے کر سکو صرف پڑھو نہیں کیا لکھ دوں کہ یہ خط صرف خط نا رہ جائے جاناں سے جھگڑے اور فقیر کر پائے ان باتوں کے لیے جو تمہارے لیے شاید صرف باتیں ہوں گی حقیقت سارے لمحات جو تمہارے لیے قاف یوں کچھ دن اور کچھ راتیں ہوں گی کیا لکھ دوں حقیقت شکایتی طنز جو ہے وہ ہے وہ جانتا ہوں دلائیں کر دوگے جاناں یا اپنی ساری یادیں سیاہی ہے وہ ہے وہ باندھ کر ایک پڑیا سی بنا دوں کہ جب جاناں اسے کھولو تو تمہارا ذہن بھی مہکنے لگے ان سے مری طرح

Saurabh Mehta 'Alfaaz'

11 likes

چلو بچپن اگاتے ہیں چلو بھلی عادت بناتے ہیں چلو خود کو سکھاتے ہیں چلو بچپن اگاتے ہیں تجربے زرد سے لگنے لگے ہیں کوور ان پر چڑھاتے ہیں چلو بچپن اگاتے ہیں چلو سینچیں حقیقت بیتا کل چھیڑی سے چلو کھیلیں وہی سب کھیل کل کے چلو ان گرمیوں کی قلفیوں کو پھروں مناتے ہیں چلو بچپن اگاتے ہیں کے چٹکی ایک لے کر مسکراہٹ کی ملاتے ہیں سمے کی آنچ پر یادوں کی ہانڈی پھروں چڑھاتے ہیں ملاتے ہیں حقیقت اک چھوٹا سا چمچ بچپنے کا چلو مل کر کے پھروں سے حقیقت ہی نادانی پکاتے ہیں سنہرا ایک اور سکہ صبح کی دھوپ کا چھلکا چلو شیشے کے ٹکڑے سے اسے گھر بھر گھماتے ہیں یا حقیقت چھوٹا سا سابن کا غبارہ پھونک سے ہلکا انگوٹھے اور انگلی کو ملا کر پھروں پھلاتے ہیں یا ڈبے سے چرا کر گڑ کے لڈو جیب ہے وہ ہے وہ رکھ کر یاروں کو دکھا کر کھاکے سب کو پھروں جلاتے ہیں چلو بچپن اگاتے ہیں کسی کے د سے کے گنتے ہی کہی کونے ہے وہ ہے وہ چھپ کر کے کبھی چپکے سے ا سے کی پیٹھ پر دھپہ جماتے ہیں چلو بچپن اگاتے ہیں

Saurabh Mehta 'Alfaaz'

11 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Saurabh Mehta 'Alfaaz'.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Saurabh Mehta 'Alfaaz''s nazm.