ایک بات کیا تمہیں بھی سکھا دوں حقیقت ہنر ج سے سے پڑھ لیا کرتا ہوں تمہاری آنکھوں کو ان سب باتوں کو جو دبی رہتی ہیں تمہاری پلکوں کی قطاروں ہے وہ ہے وہ ہے وہ تب بھی جب لب خاموش ہوتے ہیں تمہارے یا تب جب ب سے یوں ہی مسکرا دیتی ہوں مجھ سے بات کرتے کرتے اور تب جب ہونٹ تمہارے کچھ اور ہی کہتے ہیں اور کہتے کہتے رک جایا کرتے ہیں ایک بات نہیں بتائی تمہیں کے تب ہے وہ ہے وہ چپکے سے پڑھ لیا کرتا ہوں تمہاری آنکھوں کو پوچھ لیتا ہوں حال تمہارا کہتا کچھ نہیں ہاں آنکھیں بات کرتی ہیں مری بھی ہزاروں سوالات بھی تمہاری ہی طرح پھروں کیوں جواب نہیں دے پاتیں تمہاری آنکھیں کیا تمہیں بھی سکھا دوں حقیقت ہنر ج سے سے پڑھ لیا کرتا ہوں تمہاری آنکھوں کو کہ جاناں بھی پڑھ لو حقیقت باتیں جن ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہونٹ خاموش رہتے ہیں اور حقیقت ساری باتیں جو اب تک نہیں کہی جاناں سے یا مجھے بھی سکھا دو اپنا آنکھوں سے جھوٹ بولنے کا ہنر
Related Nazm
تمہیں اک بات کہنی تھی اجازت ہوں تو کہ دوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ بھیگا بھیگا سا موسم یہ تتلی پھول اور شبنم چمکتے چاند کی باتیں یہ بوندیں اور برساتیں یہ کالی رات کا آنچل ہوا ہے وہ ہے وہ ناچتے بادل دھڑکتے موسموں کا دل مہکتی سرسرا کا دل یہ سب جتنے نظارے ہیں کہو ک سے کے اشارے ہیں سبھی باتیں سنی جاناں نے پھروں آنکھیں پھیر لیں جاناں نے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تب جا کر کہی سمجھا کہ جاناں نے کچھ نہیں سمجھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ قصہ بڑھوا کر کے ذرا نیچی نظر کر کے یہ کہتا ہوں ابھی جاناں سے محبت ہوں گئی جاناں سے
Zubair Ali Tabish
117 likes
دوست کے نام خط جاناں نے حال پوچھا ہے حالت محبت ہے وہ ہے وہ ہے وہ حال کا بتانا کیا دل سسک رہا ہوں تو زخم کا چھپانا کیا جاناں جو پوچھ بیٹھے ہوں کچھ تو اب بتانا ہے بات ایک بہانا ہے جاناں نے حال پوچھا ہے اک دیا جلاتا ہوں ٹھیک ہے بتاتا ہوں روز ا سے کی یادوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ دور تک چلے جانا جو بھی تھا کہا ا سے نے اپنے ساتھ دہرانا سان سے جب گردشیں تو پھروں اپنی مرتی آنکھوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کی شکل لے آنا اور زندگی پانا روز ایسے ہوتا ہے کچھ پرانی میسج ہیں جن ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کی باتیں ہیں کچھ طویل صبحے ہیں کچھ اچھی اچھی راتیں ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے کی باتوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ زندگی گزاری ہے زندگی مٹانے کا حوصلہ نہیں مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایک ایک لفظ ا سے کا سان سے ہے وہ ہے وہ فقط ہے روح ہے وہ ہے وہ سمویا ہے ا سے کے جتنے میسج ہے روز کھول لیتا ہوں ا سے سے کہ نہیں پاتا خود سے بول لیتا ہوں ا سے کے پیج پر جا کر روز دیکھتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ آج ک
Ali Zaryoun
70 likes
راجا بولا رات ہے رانی بولی رات ہے چھپا کے بولا رات ہے منتری بولا رات ہے یہ صبح صبح کی بات ہے
Gorakh Pandey
48 likes
محبوبہ کے نام تو اپنی چٹھیوں ہے وہ ہے وہ میر کے اشعار لکھتی ہے محبت کے بنا ہے زندگی بیکار لکھتی ہے تیرے خط تو عبارت ہیں وفاداری کی قسموں سے جنہیں ہے وہ ہے وہ پیسہ ڈرتا ہوں وہی ہر بار لکھتی ہے تو پیروکار لیلیٰ کی ہے شیریں کی پجارن ہے مگر تو جس پہ بیٹھی ہے حقیقت سونے کا سنگھاسن ہے تیری پلکوں کے مسکارے تیرے ہونٹوں کی یہ لالی یہ تیرے ریشمی کپڑے یہ تیرے کان کی بالی گلے کا یہ چمکتا ہار ہاتھوں کے تیرے کنگن یہ سب کے سب ہے میرے دل میرے احساس کے دشمن کہ ان کے سامنے کچھ بھی نہیں ہے پیار کی قیمت وفا کا مول کیا کیا ہے اعتبار کی قیمت شکستہ کشتیوں ٹوٹی ہوئی پتوار کی قیمت ہے میری جیت سے بڑھکر تو تیری ہار کی قیمت حقیقت خون کے آنسو تجھے جنگل پرستی جاناں تو اپنے فیصلے پر بعد ہے وہ ہے وہ پچھتائےگی جاناں میرے کندھے پہ چھوٹے بھائیوں کی ذمہ داری ہے میرے ماں باپ بوڑھے ہے بہن بھی تو کنواری ہے برہنہ موسموں کے وار کو تو سہ نہ بدلی حویلی چھوڑ کر تو جھونپڑی ہے وہ ہے وہ رہ نہ بدلی بیگانہ غم تیری میری مفلسی کو
Abrar Kashif
50 likes
بہت خوبصورت ہوں جاناں بہت خوبصورت ہوں جاناں کبھی ہے وہ ہے وہ جو کہ دوں محبت ہے جاناں سے تو مجھ کو خدارا غلط مت سمجھنا کہ میری ضرورت ہوں جاناں بہت خوبصورت ہوں جاناں ہیں پھولوں کی ڈالی پہ بانہیں تمہاری ہیں خاموش جادو نگاہیں تمہاری جو کانٹے ہوں سب اپنے دامن ہے وہ ہے وہ رکھ لوں سجاؤں ہے وہ ہے وہ کلیوں سے راہیں تمہاری نظر سے زمانے کی خود کو بچانا کسی اور سے دیکھو دل مت لگانا کہ میری امانت ہوں جاناں بہت خوبصورت ہوں جاناں کبھی نڈھال کی قطاروں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا چمکتے ہوئے چاند تاروں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا خزاؤں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا بہاروں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا مچلتے ہوئے آبشاروں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا حقیقت ہے وہ ہے وہ دیکھا فسانے ہے وہ ہے وہ دیکھا نہ جاناں سا ہنسی ای سے زمانے دیکھا نہ دنیا کی رنگین محفل ہے وہ ہے وہ پایا جو پایا تمہیں اپنا ہی دل ہے وہ ہے وہ پایا ایک ایسی مسرت ہوں جاناں بہت خوبصورت ہوں جاناں ہے چہرہ تمہارا کہ دن ہے سنہرا ہے چہرہ تمہارا کہ دن ہے سنہرا اور ای سے پر یہ کالی گھٹاؤں کا پہرہ گلابوں س
Tahir Faraz
54 likes
More from Saurabh Mehta 'Alfaaz'
کب تک خیر مناتے ہم الفت کے کوچوں سے ثابت کیسے بچکر آتے ہم ہم ٹھہرے بکرے کی اماں کب تک خیر مناتے ہم بڑی بڑی باتیں کر دی تھیں ان پر جان لٹائیں گے حکم کریں حقیقت آسمان سے تارے بھی لے آئیں گے پر قسمت اور قدرت اک تھالی کے چٹے بٹے کھٹے تھے کوشش اپنی پوری رہتی پر انگور تو بےوقوف تھے بگڑا ڈھائیں جو ان کے منا کا ان کو چٹنی کھانی تھی بیچارا دل بیوقوف تھا کچھ اپنی نادانی تھی آزمائش سے دل کی خاطر کیا جگت سے ڈر جاتے ہم ہم ٹھہرے بکرے کی اماں کب تک خیر مناتے ہم ہم نے پوری چھیڑی لگائی م گر مئی نا مل پائی پھروں ہم نے امید چھوڑ دی خود سے نینسکھ ایک لڑائی اب باتوں ہے وہ ہے وہ نا آئیں گے ان چنو ہی بن جائیں گے ان کی جانب نا سر و ساماں نام اندھیرا کہ لائیں گے لیکن ہم تھے ساون والے اور اوپر سے دل کے چھالے چھوڑ ریوڑی ان کی خاطر ہم نے روکھی سوکھی کھائی اونٹ سو گیا تو الٹی کروٹ جمکے لی ا سے نے جمائی پڑتے اولوں ہے وہ ہے وہ اب دیکھو اپنا سر منڈواتے ہم ہم ٹھہرے بکرے کی اماں کب تک خیر مناتے ہم ادھر پری
Saurabh Mehta 'Alfaaz'
10 likes
رات رات بڑی خراب ہے ہر رات خراب کر دیتی ہے رات بھر جاگ کر ہر صبح صبح کو دے دیتی ہے کچھ اونگھتے ہوئے خواب کچھ گزری راتوں کے قصے کچھ بجھی ہوئے یادوں کی خاک اور سرہانے پر ماضی کے خارے دھبے رات بڑی خراب ہے دن بھر کے مرجھائے زخموں کو پھروں ہرا کر دیتی ہے اور مہکنے دیتی ہے رات بھر کسی رات رانی کی طرح موقع دیتی ہے کہ سمبھل جاؤں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اور پھروں لے جاتی ہے اپنے ساتھ پہلے سے زیادہ غضب والی جگہ پر رات بڑی خراب ہے پر ایک رات ہی تو ہے جو ساتھ ہوتی ہے رات بھر خموشی سے سنتی ہے مری ہر خموشی کو سمجھتی ہے مری ہر بات کو مری ہر رات کو رات
Saurabh Mehta 'Alfaaz'
12 likes
وجہیں سنو جانے سے اعتراض نہیں مجھے پر جاؤ تو لوٹ آنے کی وجہیں چھوڑ جانا آج نہ صحیح کل گتھی پابندی کیا صحیح ہے نہ کھینچ کر توڑ دینا یا بہتر ہے گرہیں رہنے دینا اور وقت پر چھوڑ دینا عدد رابطوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ لازم ہیں رسوائیاں بھی جب منائے کوئی تو اور روٹھنا فقیر کرنا پھروں مان جانا بات بگڑ جاتی ہے چپ رہنے سے بھی سب چپ چاپ سہنے سے بھی کہنا کہ دینا کہنے دینا خاموشیوں کے بھروسے مت رہنا اب جاؤ پر لوٹ آنے کی وجہیں چھوڑ جانا
Saurabh Mehta 'Alfaaz'
11 likes
کیا لکھ دوں کیا لکھ دوں ا سے کاغذ پر کہ جب جاناں تک یہ پہنچے تو محسو سے کر سکو صرف پڑھو نہیں کیا لکھ دوں کہ یہ خط صرف خط نا رہ جائے جاناں سے جھگڑے اور فقیر کر پائے ان باتوں کے لیے جو تمہارے لیے شاید صرف باتیں ہوں گی حقیقت سارے لمحات جو تمہارے لیے قاف یوں کچھ دن اور کچھ راتیں ہوں گی کیا لکھ دوں حقیقت شکایتی طنز جو ہے وہ ہے وہ جانتا ہوں دلائیں کر دوگے جاناں یا اپنی ساری یادیں سیاہی ہے وہ ہے وہ باندھ کر ایک پڑیا سی بنا دوں کہ جب جاناں اسے کھولو تو تمہارا ذہن بھی مہکنے لگے ان سے مری طرح
Saurabh Mehta 'Alfaaz'
11 likes
چلو بچپن اگاتے ہیں چلو بھلی عادت بناتے ہیں چلو خود کو سکھاتے ہیں چلو بچپن اگاتے ہیں تجربے زرد سے لگنے لگے ہیں کوور ان پر چڑھاتے ہیں چلو بچپن اگاتے ہیں چلو سینچیں حقیقت بیتا کل چھیڑی سے چلو کھیلیں وہی سب کھیل کل کے چلو ان گرمیوں کی قلفیوں کو پھروں مناتے ہیں چلو بچپن اگاتے ہیں کے چٹکی ایک لے کر مسکراہٹ کی ملاتے ہیں سمے کی آنچ پر یادوں کی ہانڈی پھروں چڑھاتے ہیں ملاتے ہیں حقیقت اک چھوٹا سا چمچ بچپنے کا چلو مل کر کے پھروں سے حقیقت ہی نادانی پکاتے ہیں سنہرا ایک اور سکہ صبح کی دھوپ کا چھلکا چلو شیشے کے ٹکڑے سے اسے گھر بھر گھماتے ہیں یا حقیقت چھوٹا سا سابن کا غبارہ پھونک سے ہلکا انگوٹھے اور انگلی کو ملا کر پھروں پھلاتے ہیں یا ڈبے سے چرا کر گڑ کے لڈو جیب ہے وہ ہے وہ رکھ کر یاروں کو دکھا کر کھاکے سب کو پھروں جلاتے ہیں چلو بچپن اگاتے ہیں کسی کے د سے کے گنتے ہی کہی کونے ہے وہ ہے وہ چھپ کر کے کبھی چپکے سے ا سے کی پیٹھ پر دھپہ جماتے ہیں چلو بچپن اگاتے ہیں
Saurabh Mehta 'Alfaaz'
11 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Saurabh Mehta 'Alfaaz'.
Similar Moods
More moods that pair well with Saurabh Mehta 'Alfaaz''s nazm.







