nazmKuch Alfaaz

کیا لکھ دوں کیا لکھ دوں ا سے کاغذ پر کہ جب جاناں تک یہ پہنچے تو محسو سے کر سکو صرف پڑھو نہیں کیا لکھ دوں کہ یہ خط صرف خط نا رہ جائے جاناں سے جھگڑے اور فقیر کر پائے ان باتوں کے لیے جو تمہارے لیے شاید صرف باتیں ہوں گی حقیقت سارے لمحات جو تمہارے لیے قاف یوں کچھ دن اور کچھ راتیں ہوں گی کیا لکھ دوں حقیقت شکایتی طنز جو ہے وہ ہے وہ جانتا ہوں دلائیں کر دوگے جاناں یا اپنی ساری یادیں سیاہی ہے وہ ہے وہ باندھ کر ایک پڑیا سی بنا دوں کہ جب جاناں اسے کھولو تو تمہارا ذہن بھی مہکنے لگے ان سے مری طرح

Related Nazm

मैं पल-दो-पल का शाइ'र हूँ, पल-दो-पल मेरी कहानी है पल-दो-पल मेरी हस्ती है, पल-दो-पल मेरी जवानी है मुझ से पहले कितने शाइ'र आए और आ कर चले गए कुछ आहें भर कर लौट गए, कुछ नग़ में गा कर चले गए वे भी एक पल का क़िस्सा थे, मैं भी एक पल का क़िस्सा हूँ कल तुम से जुदा हो जाऊँगा गो आज तुम्हारा हिस्सा हूँ मैं पल-दो-पल का शाइ'र हूँ, पल-दो-पल मेरी कहानी है पल-दो-पल मेरी हस्ती है, पल-दो-पल मेरी जवानी है कल और आएँगे नग़मों की खिलती कलियाँ चुनने वाले मुझ सेे बेहतर कहने वाले, तुम सेे बेहतर सुनने वाले कल कोई मुझ को याद करे, क्यूँ कोई मुझ को याद करे मसरुफ़ ज़माना मेरे लिए, क्यूँ वक़्त अपना बर्बाद करे मैं पल-दो-पल का शाइ'र हूँ, पल-दो-पल मेरी कहानी है पल-दो-पल मेरी हस्ती है, पल-दो-पल मेरी जवानी है मैं हर इक पल का शाइ'र हूँ हर इक पल मेरी कहानी है हर इक पल मेरी हस्ती है हर इक पल मेरी जवानी है रिश्तों का रूप बदलता है, बुनियादें ख़त्म नहीं होतीं ख़्वाबों और उमँगों की मियादें ख़त्म नहीं होतीं इक फूल में तेरा रूप बसा, इक फूल में मेरी जवानी है इक चेहरा तेरी निशानी है, इक चेहरा मेरी निशानी है मैं हर इक पल का शाइ'र हूँ हर इक पल मेरी कहानी है हर इक पल मेरी हस्ती है हर इक पल मेरी जवानी है तुझ को मुझ को जीवन अमृत अब इन हाथों से पीना है इन की धड़कन में बसना है, इन की साँसों में जीना है तू अपनी अदाएं बक्ष इन्हें, मैं अपनी वफ़ाएँ देता हूँ जो अपने लिए सोचीं थी कभी, वो सारी दुआएँ देता हूँ मैं हर इक पल का शाइ'र हूँ हर इक पल मेरी कहानी है हर इक पल मेरी हस्ती है हर इक पल मेरी जवानी है

Sahir Ludhianvi

52 likes

حال دل میری دلربا جاناں خوبصورت ہوں صورت سے نہیں سیرت سے مجھے تمہاری سیرت سے محبت ہے اسیلیے سیرت کا جانتا ہوں شرم دہشت پریشانی جنہیں سخن وروں کویوں نے عشق کی لذت بتایا ہے فیلحال یہ میرے درمیان آ رہے ہیں بہرحال میری چاہتیں تمہارے نفس ہے وہ ہے وہ دھڑکتی ہیں زندہ رہتی ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے تمہیں دیکھا ہے دیکھتے ہوئے مجھے چاہتے ہوئے مجھے سوچتے ہوئے اور میرے لیے پریشان ہوتے ہوئے ویسے چاہت ہوں تو کہنا لازمی ہوتا ہے ضروری ہوتا ہے لیکن عشق کی ان میں ہے وہ ہے وہ لفظ خاموش رہتے ہیں اور نگاہیں بات کر لیتی ہیں مجھے پتا ہے ایک دن جاناں میری نگاہوں سے بات کر لوگی پوچھ لوگی اور تمہیں جواب ملےگا ہاں ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی چاہتا ہوں خوب چاہتا ہوں ویسے ہے وہ ہے وہ بھی اپنے جاؤں گا اپنی غزلوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ محبت خوب لکھتا ہوں حالانکہ اپناپن یہ ہے کہ ہے وہ ہے وہ بھی کہنے ہے وہ ہے وہ خوف تقاضا ہوں ویسے برا نہ ماننا کہ ہے وہ ہے وہ نے جاناں سے کبھی اظہار نہیں کیا سوچ لینا کہ تھی

Rakesh Mahadiuree

25 likes

تمہارا فون آیا ہے عجب سی اوب شامل ہوں گئی ہے روز جینے ہے وہ ہے وہ ہے وہ پلوں کو دن ہے وہ ہے وہ دن کو کاٹ کر جینا مہینے ہے وہ ہے وہ ہے وہ محض مایوسیاں جگتی ہیں اب کیسی بھی آہٹ پر ہزاروں الجھنوں کے گھونسلے لٹکے ہیں چوکھٹ پر اچانک سب کی سب یہ چپپیاں اک ساتھ پگھلی ہیں امیدیں سب سمٹ کر ہاتھ بن جانے کو مچلی ہیں میرے کمرے کے سناٹے نے انگڑائی سی دکھتی ہے میری خاموشیوں نے ایک نغمہ گنگنایا ہے تمہارا فون آیا ہے تمہارا فون آیا ہے ستی کا چیترا دکھ جائے چنو روپ باڑی ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہ چنو چھٹھ کے موقعے پر جگہ مل جائے گاڑی ہے وہ ہے وہ ہے وہ میری آواز سے جاگے تمہارے بام و در چنو یہ ناممکن سی حسرت ہے خیالی ہے مگر چنو بڑی ناکامیوں کے بعد ہمت کی لہر چنو بڑی بےچینیوں کے بعد راحت کا پہر چنو بڑی گمنامیوں کے بعد شہرت کی مہر چنو صبح اور شام کو سادھے ہوئے اک دوپہر چنو بڑے عنوان کو باندھے ہوئے چھوٹی بہر چنو نئی دلہن کے شرماتے ہوئے شام و سحر چنو ہتھیلی پر رچی مہندی اچانک مسکرائی ہے میری آنکھوں ہے وہ ہے وہ آنسو کا ستارہ جگمگایا ہے تمہارا

Kumar Vishwas

81 likes

بہت خوبصورت ہوں جاناں بہت خوبصورت ہوں جاناں کبھی ہے وہ ہے وہ جو کہ دوں محبت ہے جاناں سے تو مجھ کو خدارا غلط مت سمجھنا کہ میری ضرورت ہوں جاناں بہت خوبصورت ہوں جاناں ہیں پھولوں کی ڈالی پہ بانہیں تمہاری ہیں خاموش جادو نگاہیں تمہاری جو کانٹے ہوں سب اپنے دامن ہے وہ ہے وہ رکھ لوں سجاؤں ہے وہ ہے وہ کلیوں سے راہیں تمہاری نظر سے زمانے کی خود کو بچانا کسی اور سے دیکھو دل مت لگانا کہ میری امانت ہوں جاناں بہت خوبصورت ہوں جاناں کبھی نڈھال کی قطاروں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا چمکتے ہوئے چاند تاروں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا خزاؤں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا بہاروں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا مچلتے ہوئے آبشاروں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا حقیقت ہے وہ ہے وہ دیکھا فسانے ہے وہ ہے وہ دیکھا نہ جاناں سا ہنسی ای سے زمانے دیکھا نہ دنیا کی رنگین محفل ہے وہ ہے وہ پایا جو پایا تمہیں اپنا ہی دل ہے وہ ہے وہ پایا ایک ایسی مسرت ہوں جاناں بہت خوبصورت ہوں جاناں ہے چہرہ تمہارا کہ دن ہے سنہرا ہے چہرہ تمہارا کہ دن ہے سنہرا اور ای سے پر یہ کالی گھٹاؤں کا پہرہ گلابوں س

Tahir Faraz

54 likes

محبوبہ کے نام تو اپنی چٹھیوں ہے وہ ہے وہ میر کے اشعار لکھتی ہے محبت کے بنا ہے زندگی بیکار لکھتی ہے تیرے خط تو عبارت ہیں وفاداری کی قسموں سے جنہیں ہے وہ ہے وہ پیسہ ڈرتا ہوں وہی ہر بار لکھتی ہے تو پیروکار لیلیٰ کی ہے شیریں کی پجارن ہے مگر تو جس پہ بیٹھی ہے حقیقت سونے کا سنگھاسن ہے تیری پلکوں کے مسکارے تیرے ہونٹوں کی یہ لالی یہ تیرے ریشمی کپڑے یہ تیرے کان کی بالی گلے کا یہ چمکتا ہار ہاتھوں کے تیرے کنگن یہ سب کے سب ہے میرے دل میرے احساس کے دشمن کہ ان کے سامنے کچھ بھی نہیں ہے پیار کی قیمت وفا کا مول کیا کیا ہے اعتبار کی قیمت شکستہ کشتیوں ٹوٹی ہوئی پتوار کی قیمت ہے میری جیت سے بڑھکر تو تیری ہار کی قیمت حقیقت خون کے آنسو تجھے جنگل پرستی جاناں تو اپنے فیصلے پر بعد ہے وہ ہے وہ پچھتائےگی جاناں میرے کندھے پہ چھوٹے بھائیوں کی ذمہ داری ہے میرے ماں باپ بوڑھے ہے بہن بھی تو کنواری ہے برہنہ موسموں کے وار کو تو سہ نہ بدلی حویلی چھوڑ کر تو جھونپڑی ہے وہ ہے وہ رہ نہ بدلی بیگانہ غم تیری میری مفلسی کو

Abrar Kashif

50 likes

More from Saurabh Mehta 'Alfaaz'

وجہیں سنو جانے سے اعتراض نہیں مجھے پر جاؤ تو لوٹ آنے کی وجہیں چھوڑ جانا آج نہ صحیح کل گتھی پابندی کیا صحیح ہے نہ کھینچ کر توڑ دینا یا بہتر ہے گرہیں رہنے دینا اور وقت پر چھوڑ دینا عدد رابطوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ لازم ہیں رسوائیاں بھی جب منائے کوئی تو اور روٹھنا فقیر کرنا پھروں مان جانا بات بگڑ جاتی ہے چپ رہنے سے بھی سب چپ چاپ سہنے سے بھی کہنا کہ دینا کہنے دینا خاموشیوں کے بھروسے مت رہنا اب جاؤ پر لوٹ آنے کی وجہیں چھوڑ جانا

Saurabh Mehta 'Alfaaz'

11 likes

کب تک خیر مناتے ہم الفت کے کوچوں سے ثابت کیسے بچکر آتے ہم ہم ٹھہرے بکرے کی اماں کب تک خیر مناتے ہم بڑی بڑی باتیں کر دی تھیں ان پر جان لٹائیں گے حکم کریں حقیقت آسمان سے تارے بھی لے آئیں گے پر قسمت اور قدرت اک تھالی کے چٹے بٹے کھٹے تھے کوشش اپنی پوری رہتی پر انگور تو بےوقوف تھے بگڑا ڈھائیں جو ان کے منا کا ان کو چٹنی کھانی تھی بیچارا دل بیوقوف تھا کچھ اپنی نادانی تھی آزمائش سے دل کی خاطر کیا جگت سے ڈر جاتے ہم ہم ٹھہرے بکرے کی اماں کب تک خیر مناتے ہم ہم نے پوری چھیڑی لگائی م گر مئی نا مل پائی پھروں ہم نے امید چھوڑ دی خود سے نینسکھ ایک لڑائی اب باتوں ہے وہ ہے وہ نا آئیں گے ان چنو ہی بن جائیں گے ان کی جانب نا سر و ساماں نام اندھیرا کہ لائیں گے لیکن ہم تھے ساون والے اور اوپر سے دل کے چھالے چھوڑ ریوڑی ان کی خاطر ہم نے روکھی سوکھی کھائی اونٹ سو گیا تو الٹی کروٹ جمکے لی ا سے نے جمائی پڑتے اولوں ہے وہ ہے وہ اب دیکھو اپنا سر منڈواتے ہم ہم ٹھہرے بکرے کی اماں کب تک خیر مناتے ہم ادھر پری

Saurabh Mehta 'Alfaaz'

10 likes

رات رات بڑی خراب ہے ہر رات خراب کر دیتی ہے رات بھر جاگ کر ہر صبح صبح کو دے دیتی ہے کچھ اونگھتے ہوئے خواب کچھ گزری راتوں کے قصے کچھ بجھی ہوئے یادوں کی خاک اور سرہانے پر ماضی کے خارے دھبے رات بڑی خراب ہے دن بھر کے مرجھائے زخموں کو پھروں ہرا کر دیتی ہے اور مہکنے دیتی ہے رات بھر کسی رات رانی کی طرح موقع دیتی ہے کہ سمبھل جاؤں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اور پھروں لے جاتی ہے اپنے ساتھ پہلے سے زیادہ غضب والی جگہ پر رات بڑی خراب ہے پر ایک رات ہی تو ہے جو ساتھ ہوتی ہے رات بھر خموشی سے سنتی ہے مری ہر خموشی کو سمجھتی ہے مری ہر بات کو مری ہر رات کو رات

Saurabh Mehta 'Alfaaz'

12 likes

ایک بات کیا تمہیں بھی سکھا دوں حقیقت ہنر ج سے سے پڑھ لیا کرتا ہوں تمہاری آنکھوں کو ان سب باتوں کو جو دبی رہتی ہیں تمہاری پلکوں کی قطاروں ہے وہ ہے وہ ہے وہ تب بھی جب لب خاموش ہوتے ہیں تمہارے یا تب جب ب سے یوں ہی مسکرا دیتی ہوں مجھ سے بات کرتے کرتے اور تب جب ہونٹ تمہارے کچھ اور ہی کہتے ہیں اور کہتے کہتے رک جایا کرتے ہیں ایک بات نہیں بتائی تمہیں کے تب ہے وہ ہے وہ چپکے سے پڑھ لیا کرتا ہوں تمہاری آنکھوں کو پوچھ لیتا ہوں حال تمہارا کہتا کچھ نہیں ہاں آنکھیں بات کرتی ہیں مری بھی ہزاروں سوالات بھی تمہاری ہی طرح پھروں کیوں جواب نہیں دے پاتیں تمہاری آنکھیں کیا تمہیں بھی سکھا دوں حقیقت ہنر ج سے سے پڑھ لیا کرتا ہوں تمہاری آنکھوں کو کہ جاناں بھی پڑھ لو حقیقت باتیں جن ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہونٹ خاموش رہتے ہیں اور حقیقت ساری باتیں جو اب تک نہیں کہی جاناں سے یا مجھے بھی سکھا دو اپنا آنکھوں سے جھوٹ بولنے کا ہنر

Saurabh Mehta 'Alfaaz'

12 likes

چلو بچپن اگاتے ہیں چلو بھلی عادت بناتے ہیں چلو خود کو سکھاتے ہیں چلو بچپن اگاتے ہیں تجربے زرد سے لگنے لگے ہیں کوور ان پر چڑھاتے ہیں چلو بچپن اگاتے ہیں چلو سینچیں حقیقت بیتا کل چھیڑی سے چلو کھیلیں وہی سب کھیل کل کے چلو ان گرمیوں کی قلفیوں کو پھروں مناتے ہیں چلو بچپن اگاتے ہیں کے چٹکی ایک لے کر مسکراہٹ کی ملاتے ہیں سمے کی آنچ پر یادوں کی ہانڈی پھروں چڑھاتے ہیں ملاتے ہیں حقیقت اک چھوٹا سا چمچ بچپنے کا چلو مل کر کے پھروں سے حقیقت ہی نادانی پکاتے ہیں سنہرا ایک اور سکہ صبح کی دھوپ کا چھلکا چلو شیشے کے ٹکڑے سے اسے گھر بھر گھماتے ہیں یا حقیقت چھوٹا سا سابن کا غبارہ پھونک سے ہلکا انگوٹھے اور انگلی کو ملا کر پھروں پھلاتے ہیں یا ڈبے سے چرا کر گڑ کے لڈو جیب ہے وہ ہے وہ رکھ کر یاروں کو دکھا کر کھاکے سب کو پھروں جلاتے ہیں چلو بچپن اگاتے ہیں کسی کے د سے کے گنتے ہی کہی کونے ہے وہ ہے وہ چھپ کر کے کبھی چپکے سے ا سے کی پیٹھ پر دھپہ جماتے ہیں چلو بچپن اگاتے ہیں

Saurabh Mehta 'Alfaaz'

11 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Saurabh Mehta 'Alfaaz'.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Saurabh Mehta 'Alfaaz''s nazm.