nazmKuch Alfaaz

تنہائی ہے تنہائی ہے تنہائی ہے گل ہے گلاب ہیں ہر طرف بہار ہے کھوکھلا ہے وہ ہے وہ بھی رنگت آئی ہے نا جانے پھروں بھی کیوں بیتابی چھائی ہے تنہائی ہے تنہائی ہے تنہائی ہے ان کی یاد آنا چنو سان سے لینا ہے یہ بات معاف ہے ان کی تصویر کچھ ایسی بسی ہے ہم نے ا نہیں بند آنکھوں سے پہچان لینا ہے یادوں نے ان کی ہماری بے قراری اور بڑھائی ہے تنہائی ہے تنہائی ہے تنہائی ہے یادوں ہے وہ ہے وہ ان کی ہم روئے جا رہے ہیں بے پناہ پلکیں بھیگوئے جا رہے ہیں جو کبھی ہمارے تھے ہی نہیں ہم ان کے ہوئے جا رہے ہیں کیا کریں اپنی موت ہم نے خود بلائی ہے تنہائی ہے تنہائی ہے تنہائی ہے

Prit4 Likes

Related Nazm

مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب لگ مانگ مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب لگ مانگ ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے سمجھا تھا کہ تو ہے تو درخشاں ہے حیات تیرا غم ہے تو غم دہر کا جھگڑا کیا ہے تیری صورت سے ہے عالم ہے وہ ہے وہ بہاروں کو ثبات تیری آنکھوں کے سوا دنیا ہے وہ ہے وہ رکھا کیا ہے تو جو مل جائے تو تقدیر نگوں ہوں جائے یوں لگ تھا ہے وہ ہے وہ نے فقط چاہا تھا یوں ہوں جائے اور بھی دکھ ہیں زمانے ہے وہ ہے وہ محبت کے سوا راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا ان گنت صدیوں کے تاریک بہیما لگ طلسم ریشم و اطلَ سے و کمخواب ہے وہ ہے وہ بنوائے ہوئے جا بجا بکتے ہوئے کوچہ و بازار ہے وہ ہے وہ جسم خاک ہے وہ ہے وہ لُتھڑے ہوئے خون ہے وہ ہے وہ نہلائے ہوئے جسم نکلے ہوئے امراض کے تنوروں سے پیپ بہتی ہوئی گلتے ہوئے ناسوروں سے لوٹ جاتی ہے ادھر کو بھی نظر کیا کیجے اب بھی دلکش ہے ترا حسن م گر کیا کیجے اور بھی دکھ ہیں زمانے ہے وہ ہے وہ محبت کے سوا راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب لگ مانگ

Faiz Ahmad Faiz

73 likes

سفید بیک سمے تھی جاناں سیڑھیوں پہ بیٹھے تھے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جب کلا سے سے نکلی تھی مسکراتے ہوئے ہماری پہلی ملاقات یاد ہے نا تمہیں اشارے کرتے تھے جاناں مجھ کو آتے جاتے ہوئے تمام رات کو آنکھیں لگ بھولتی تھیں مجھے کہ جن ہے وہ ہے وہ ہے وہ مری لیے عزت اور نظیر و دیکھے مجھے یہ دنیا بیابان تھی م گر اک دن جاناں ایک بار دیکھے اور بےشمار دیکھے مجھے یہ ڈر تھا کہ جاناں بھی کہی حقیقت ہی تو نہیں جو جسم پر ہی تمنا کے داغ چھوڑتے ہیں خدا کا شکر کہ جاناں ان سے مختلف نکلے جو پھول توڑ کے نبھائیے ہے وہ ہے وہ باغ چھوڑتے ہیں زیادہ سمے لگ گزرا تھا ا سے مقدم کو کہ ا سے کے بعد حقیقت لمحہ کریں کریں آیا چھوا تھا جاناں نے مجھے اور مجھے محبت پر یقین آیا تھا لیکن کبھی نہیں آیا پھروں ا سے کے بعد میرا نقشہ سکوت گیا تو ہے وہ ہے وہ ہے وہ کش مکش ہے وہ ہے وہ تھی جاناں مری کون لگتے ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ امرتا تمہیں سوچوں تو مری ساحر ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ فاریحہ تمہیں دیکھوں تو جان لگتے ہوں ہم ایک ساتھ رہے اور ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پتا لگ چلا تعلقات کی حد بندیاں

Tehzeeb Hafi

92 likes

تمہیں اک بات کہنی تھی اجازت ہوں تو کہ دوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ بھیگا بھیگا سا موسم یہ تتلی پھول اور شبنم چمکتے چاند کی باتیں یہ بوندیں اور برساتیں یہ کالی رات کا آنچل ہوا ہے وہ ہے وہ ناچتے بادل دھڑکتے موسموں کا دل مہکتی سرسرا کا دل یہ سب جتنے نظارے ہیں کہو ک سے کے اشارے ہیں سبھی باتیں سنی جاناں نے پھروں آنکھیں پھیر لیں جاناں نے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تب جا کر کہی سمجھا کہ جاناں نے کچھ نہیں سمجھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ قصہ بڑھوا کر کے ذرا نیچی نظر کر کے یہ کہتا ہوں ابھی جاناں سے محبت ہوں گئی جاناں سے

Zubair Ali Tabish

117 likes

حال دل میری دلربا جاناں خوبصورت ہوں صورت سے نہیں سیرت سے مجھے تمہاری سیرت سے محبت ہے اسیلیے سیرت کا جانتا ہوں شرم دہشت پریشانی جنہیں سخن وروں کویوں نے عشق کی لذت بتایا ہے فیلحال یہ میرے درمیان آ رہے ہیں بہرحال میری چاہتیں تمہارے نفس ہے وہ ہے وہ دھڑکتی ہیں زندہ رہتی ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے تمہیں دیکھا ہے دیکھتے ہوئے مجھے چاہتے ہوئے مجھے سوچتے ہوئے اور میرے لیے پریشان ہوتے ہوئے ویسے چاہت ہوں تو کہنا لازمی ہوتا ہے ضروری ہوتا ہے لیکن عشق کی ان میں ہے وہ ہے وہ لفظ خاموش رہتے ہیں اور نگاہیں بات کر لیتی ہیں مجھے پتا ہے ایک دن جاناں میری نگاہوں سے بات کر لوگی پوچھ لوگی اور تمہیں جواب ملےگا ہاں ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی چاہتا ہوں خوب چاہتا ہوں ویسے ہے وہ ہے وہ بھی اپنے جاؤں گا اپنی غزلوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ محبت خوب لکھتا ہوں حالانکہ اپناپن یہ ہے کہ ہے وہ ہے وہ بھی کہنے ہے وہ ہے وہ خوف تقاضا ہوں ویسے برا نہ ماننا کہ ہے وہ ہے وہ نے جاناں سے کبھی اظہار نہیں کیا سوچ لینا کہ تھی

Rakesh Mahadiuree

25 likes

دوست کے نام خط جاناں نے حال پوچھا ہے حالت محبت ہے وہ ہے وہ ہے وہ حال کا بتانا کیا دل سسک رہا ہوں تو زخم کا چھپانا کیا جاناں جو پوچھ بیٹھے ہوں کچھ تو اب بتانا ہے بات ایک بہانا ہے جاناں نے حال پوچھا ہے اک دیا جلاتا ہوں ٹھیک ہے بتاتا ہوں روز ا سے کی یادوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ دور تک چلے جانا جو بھی تھا کہا ا سے نے اپنے ساتھ دہرانا سان سے جب گردشیں تو پھروں اپنی مرتی آنکھوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کی شکل لے آنا اور زندگی پانا روز ایسے ہوتا ہے کچھ پرانی میسج ہیں جن ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کی باتیں ہیں کچھ طویل صبحے ہیں کچھ اچھی اچھی راتیں ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے کی باتوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ زندگی گزاری ہے زندگی مٹانے کا حوصلہ نہیں مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایک ایک لفظ ا سے کا سان سے ہے وہ ہے وہ فقط ہے روح ہے وہ ہے وہ سمویا ہے ا سے کے جتنے میسج ہے روز کھول لیتا ہوں ا سے سے کہ نہیں پاتا خود سے بول لیتا ہوں ا سے کے پیج پر جا کر روز دیکھتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ آج ک

Ali Zaryoun

70 likes

More from Prit

ہے وہ ہے وہ محبت ہوں میرے بعد دنیا کا کیا ہوگا کہ ہے وہ ہے وہ تو محبت ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شبری کے جھوٹے لبوں سے رام کے پیٹ تک جاتا بیر ہوں جس کے لیے کرشن نے شاہی بوجن ٹھکرایا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ودور کا کوبیر ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہر بار آتا ہوں پر جہاں مجھے پہچان نہیں پاتا اگر پہچان بھی لے پریت تو ٹھیک سے جان نہیں پاتا کہیں رومیو جولیٹ کے مرکز کی دیوار ہوں جسے کھودتا ہوا فرہاد مر گیا تو نہر کا حقیقت پار ہوں جس کے کناروں پر ساجر صحرا ہے جس ہے وہ ہے وہ ہے وہ کوئی قیس مجنوں ہوں کر گام ب گام بھٹک رہا ہے لیلیٰ کی کلائی ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ خیام کی رباعی ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نظم فیض ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سب سے تیز ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ صیاد ہوں چاک قفس ہوں جسم و دل کے درمیان ہوں عشق ہوں ہوس ہوں بے وفائی کا خدا ہوں وفاداروں کا پیر ہوں سب مجھ سے رہائش پذیر ہیں اور ہے وہ ہے وہ سبکا ہم نوا ہوں مجھ سے سب کی یہ حالت ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ حالات سے پشیمان ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ دست زلیخا بھی ہوں<b

Prit

0 likes

"ख़्वाब" सौ सदियों में सिर्फ़ इक दफ़ा जब तुम मुझ सेे मिलने आई थी अचानक से गुल खिलने लगे थे सहरा में बारिश छाई थी उस दिन आफ़ताब शब में रौशन हुआ था क़मर आग की लपटों में जल रहा था जैसे हमारा इश्क़ जल रहा था जिस ने पिघला दिया था सारे हिमालय को और सारे समंदरों को ख़ुश्क कर दिया था ये प्रलय का दिन था ये हक़ीक़त का दिन था उस दिन पहली मर्तबा सब जागे हुए थे पहली बार था कि सब अपने ख़्वाब से बाहर आए थे या रब ये ख़्वाब कितना हसीन था

Prit

0 likes

گمشدہ ان پہاڑوں کے پیچھے دور گھنے جنگلوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے دریا کے ا سے پار کالی اندھیری غفاؤں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایک پری رہتی تھی جو اب و ہاں نہیں ہے اب حقیقت مری دل ہے وہ ہے وہ ہے اور میرا دل اب بھی وہیں ہے ج ہاں حقیقت پری رہتی تھی لگ دل کی خبر اب لگ پری کا پتا ہے دونوں ہی گمشدہ ہیں

Prit

0 likes

اظہار تو ہی مری کائنات ہے خوشگوار تک تیرا انتظار ہے مری الفاظ کی ترنم تجھ ہی پہ قربان ہیں بے سبب تجھ سے الفت ہے ہر دم لبوں پر تیرا ہی نام ہے تو مری سحر تو ہی شام ہے حیا ہے عشق ظاہر نہیں کرتے الجھ ہوئے سے جذبات ہیں کشش ہے تجھ سے اور تو ہی انجان ہے بڑھوا ہی صحیح ملاقات ہوں رب سے یہی پڑنا ہے دل کا کیا کسی پر بھی آ جائے یہ پرندہ نادان ہے زما لگ چھیڑےگا مجھے زما لگ بڑا عیار ہے پر آج پھروں الفاظوں سے پریت کرتا اظہار ہے

Prit

5 likes

اب تو لوٹ آؤ یہ گھر اب مکان ہوں چکا ہے اب تو لوٹ آؤ سارا گاؤں ویراں ہوں چکا ہے اب تو لوٹ آؤ گاؤں کے آخر ہے وہ ہے وہ ایک دریا تھا یہ کہوں کہ میرا نظریہ تھا شیتل تھا جل اس کا کا شاہد و ساقی شاہد و ساقی بہتا تھا آ کر میرے کانوں ہے وہ ہے وہ کوئی غزل کہتا تھا حقیقت میٹھا جل اب سوکھ چکا ہے کہیں سمندر ہے وہ ہے وہ جا کر مل چکا ہے حقیقت دریا اب دریا نہیں رہا خارے پانی کی دکان ہوں چکا ہے اب تو لوٹ آؤ دریا کنارے حقیقت پیپل کا پیڑ شیتل چھاؤں دیتا تھا ہوا سنگ لہراتا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ملائے گا دن بس وہیں رہتا تھا ایک ہوا کا جھونکا تھا سکون بھرا سادگی بھرا تن کو من کو جو کرتا ہرا صبح کو جاتا تھا شام ہوئے لوٹ کر آتا تھا اب حقیقت جھونکا بھی کئی دنوں سے لوٹا نہیں معلوم ہوا بھینکر طوفاں ہوں چکا ہے اب تو لوٹ آؤ حقیقت گاؤں کا چبوترہ حقیقت برگد کا پیڑ اس کا کا کے بازو ہے وہ ہے وہ حقیقت مٹی کا ڈھیر بچے جہاں سیلاب ہوس بنا کر کھیلتے تھے اس کا کا پیڑ کے سائے ہے وہ ہے وہ کچھ پنچھی رہتے تھے حقیقت بوڑھا باز میرا درد میرے دل

Prit

3 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Prit.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Prit's nazm.