nazmKuch Alfaaz

جاناں پوچھتے ہوں کہ حقیقت کیا ہے جاناں پوچھتے ہوں کہ حقیقت کیا ہے کیوں ا سے پر دل میرا یوں فدا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کرتا ہوں ب سے باتیں اسی کی جانے مجھے یہ ہوں کیا گیا تو ہے مری غزل شاعری ہے وہ ہے وہ ب سے نام اسی کا حقیقت رادھا اور ہے وہ ہے وہ ب سے شیام اسی کا لگے ہے جگ جھوٹا ب سے حقیقت ہی ایک سچی صورت کہ چنو کوئی معصوم سی بچی حقیقت ہنسے تو ہونٹوں سے پھول جھرے نگاہیں ب سے اسی کو ڈھونڈا کریں حقیقت دیکھے تو لگتے حسین لمحات ہیں سنواردے جب زلفیں تو کیا بات ہے حقیقت جان ہے مری حقیقت مری چھڑکو ہے تعریفیں جتنی بھی کروں ا سے کی کم ہیں حقیقت ستاروں کا آ سماں حقیقت بہاروں کا گلستاں حقیقت پونم کی چاندنی کوئی دلکش سی راگنی حقیقت جاڑے کی دھوپ حقیقت اپسرا کا سروپ حقیقت تاکتے کی غزل حقیقت رادھا سی سہل حقیقت سرسوتی کی وینا اور میرا کا ایکتارا حقیقت گنگا سی پاون اور یمنا کی دھارا حقیقت پریوں کی رانی حقیقت سنگم کا پانی حقیقت تلسی سی پوتر ا سے کا سیتا سا چریتر حقیقت ذرہ سر زمین گوکول کی تان حقیقت ویدوں کا گیان حقیقت پھولوں سی

Rehaan2 Likes

Related Nazm

جذبات جو یہ آنکھوں سے بہ رہا ہے کتنے ہم لاچار ہے جاناں سمجھو تو انتظار ہے ورنا کوئی انتظار نہیں تمہاری یاد ہے وہ ہے وہ ایسے ڈوبا چنو کوئی بیمار ہے جاناں سمجھو تو بے قرار ہے ورنا کوئی بے قرار نہیں جو مری دھڑکن چل رہی ہے ان ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے تمہارا نام ہے جاناں سمجھو تو یہ پکار ہے ورنا کوئی پکار نہیں ان ہاتھوں سے تمہاری زلفیں سنو ارنی ہیں ہر شام تمہارے ساتھ گزار لگ ہے جاناں سمجھو تو یہ دلار ہے ورنا کوئی دلار نہیں تمہارے ب سے دل ہے وہ ہے وہ جگہ نہیں تمہاری روح سے رشتہ چاہیے جاناں سمجھو تو یہ آر پار ہے ورنا کچھ آر پار نہیں تمہیں مل تو جائےگا مجھ سے اچھا سامنے تمہارے تو قطار ہے تمہیں پتا ہے نا تمہاری چاہت کا ب سے ایک حق دار ہے باقی کوئی حق دار نہیں تمہاری بان ہوں ہے وہ ہے وہ ہی سکون ملےگا مجھے سچ ک ہوں تو درکار ہے جاناں سمجھو تو یہ بہار ہے ورنا کہی بہار نہیں تمہاری گود ہے وہ ہے وہ آرام چاہیے تمہاری آواز ہے وہ ہے وہ ب سے اپنا نام چاہیے جاناں سمجھو تو یہ قرار ہے<br

Divya 'Kumar Sahab'

37 likes

بھلی سی ایک شکل تھی بھلے دنوں کی بات ہے بھلی سی ایک شکل تھی نہ یہ کہ حسن تام ہوں نہ دیکھنے ہے وہ ہے وہ آم سی نہ یہ کہ حقیقت چلے تو کہکشاں سی رہگزر لگے مگر حقیقت ساتھ ہوں تو پھروں بھلا بھلا سفر لگے کوئی بھی رت ہوں اس کا کی چھب فضا کا رنگ روپ تھی حقیقت گرمیوں کی چھاؤں تھی حقیقت سردیوں کی دھوپ تھی نہ مدتوں جدا رہے نہ ساتھ صبح و شام ہوں نہ رشتہ وفا پہ ضد نہ یہ کہ اجازت عام ہوں نہ ایسی خوش لباسیاں کہ سادگی گلہ کرے نہ اتنی بے تکلفی کہ آئینہ حیا کرے نہ اختلاط ہے وہ ہے وہ حقیقت رم کہ بد مزہ ہوں خواہشیں نہ اس کا دودمان سپردگی کہ زچ کریں نوازشیں نہ کرنے والے جنون کی کہ زندگی عذاب ہوں نہ اس کا دودمان کٹھور پن کہ دوستی خراب ہوں کبھی تو بات بھی خفی کبھی سکوت بھی سخن کبھی تو کشت زعفران کبھی اداسیوں کا بن سنا ہے ایک عمر ہے معاملات دل کی بھی وصال جاں فزا تو کیا فراق جاں گسل کی بھی سو ایک روز کیا ہوا وفا پہ بحث چھڑ گئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ عشق کو فدا کہوں حقیقت

Ahmad Faraz

111 likes

تمہارا فون آیا ہے عجب سی اوب شامل ہوں گئی ہے روز جینے ہے وہ ہے وہ ہے وہ پلوں کو دن ہے وہ ہے وہ دن کو کاٹ کر جینا مہینے ہے وہ ہے وہ ہے وہ محض مایوسیاں جگتی ہیں اب کیسی بھی آہٹ پر ہزاروں الجھنوں کے گھونسلے لٹکے ہیں چوکھٹ پر اچانک سب کی سب یہ چپپیاں اک ساتھ پگھلی ہیں امیدیں سب سمٹ کر ہاتھ بن جانے کو مچلی ہیں میرے کمرے کے سناٹے نے انگڑائی سی دکھتی ہے میری خاموشیوں نے ایک نغمہ گنگنایا ہے تمہارا فون آیا ہے تمہارا فون آیا ہے ستی کا چیترا دکھ جائے چنو روپ باڑی ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہ چنو چھٹھ کے موقعے پر جگہ مل جائے گاڑی ہے وہ ہے وہ ہے وہ میری آواز سے جاگے تمہارے بام و در چنو یہ ناممکن سی حسرت ہے خیالی ہے مگر چنو بڑی ناکامیوں کے بعد ہمت کی لہر چنو بڑی بےچینیوں کے بعد راحت کا پہر چنو بڑی گمنامیوں کے بعد شہرت کی مہر چنو صبح اور شام کو سادھے ہوئے اک دوپہر چنو بڑے عنوان کو باندھے ہوئے چھوٹی بہر چنو نئی دلہن کے شرماتے ہوئے شام و سحر چنو ہتھیلی پر رچی مہندی اچانک مسکرائی ہے میری آنکھوں ہے وہ ہے وہ آنسو کا ستارہ جگمگایا ہے تمہارا

Kumar Vishwas

81 likes

اک خط مجھے لکھنا ہے دہلی ہے وہ ہے وہ بسے دل کو اک دن مجھے چکھنا ہے خاجہ تیری نگری کا خسرو تیری چوکھٹ سے اک شب مجھے پینی ہے لذت سخنوالی خوشبو اے وطن والی تاکتے تری مرقد کو اک شعر سنہانا ہے اک سانولی رنگت کو چپکے سے بتانا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ دل بھی ہوں دہلی بھی اردو بھی ہوں ہم رہی بھی اک خط مجھے لکھنا ہے ممکن ہے کبھی لکھوں ممکن ہے ابھی لکھوں

Ali Zaryoun

25 likes

جاناں ہوں جاناں سکون ہوں پر سکون ہوں مری عشق کا جاناں جنون ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہوش ہے وہ ہے وہ باہوش ہے وہ ہے وہ ہے وہ مری جسم کا جاناں خون ہوں جاناں سرد ہوں برسات بھی مری گرمیوں کی جاناں نومبر ہوں جاناں غزل ہوں ہوں جاناں شاعری مری لکھی نجم کی دھن ہوں مری ہنسی بھی جاناں مری خوشی بھی جاناں مری ای سے حیات کی ممنون ہوں جاناں دھوپ ہوں مری چھاؤں بھی جاناں سیاہ رات کا مون ہوں جاناں سن ہوں جاناں کاف بھی جاناں واو کے بعد کی نون ہوں جاناں سکون ہوں پر سکون ہوں مری عشق کا جاناں جنون ہوں

ZafarAli Memon

25 likes

More from Rehaan

"अफ़सोस-2" मोहब्बत में तुम्हें जब उम्र भर का साथ चुभता है अगर ये इश्क़ भी मेरा महज़ इक झूठ लगता है तुम अपनी शाइरी को भी मेरी ग़लती बताते हो तो फिर बोलो कि मुझ से तुम मोहब्बत क्यूँ जताते हो कहो किस हक़ से अब मुझ से कोई भी चाह है तुमको बताओ क्यूँ मेरी ख़ुशियों की यूँ परवाह है तुम को चलो छोड़ो कहा तुम ने जो सब कुछ मानती हूँ मैं मेरा जो हाल होना है ब-ख़ूबी जानती हूँ मैं मुबारक हो तुम्हारी याद में मैं रोज़ जलती हूँ मोहब्बत वाकई अफ़सोस है अब मैं समझती हूँ

Rehaan

0 likes

سنو ہے وہ ہے وہ گھر واپ سے آ رہا ہوں اچھا تمہیں ایک خبر سنا رہا ہوں سنو ہے وہ ہے وہ گھر واپ سے آ رہا ہوں ملائے گا نو دنوں کی چھٹیاں ملی ہیں م گر چھٹیاں تو قاف یوں ایک بہانا ہے اصل ہے وہ ہے وہ تو جاناں سے ملنا چاہتا ہوں تمہیں رو برو دیکھنا چاہتا ہوں اک دفع پھروں با ہوں ہے وہ ہے وہ بھرنا چاہتا ہوں اصل ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ تھوڑا سا تھک گیا تو ہوں تمہاری گود ہے وہ ہے وہ کچھ دیر سونا چاہتا ہوں سفر کی دھوپ ہے وہ ہے وہ بے حد جل چکا ہوں ذرا زلفوں کی پناہ ہے وہ ہے وہ رہنا چاہتا ہوں انجان را ہوں پہ بڑا بھٹک لیا ہوں تمہارے دل کے مکان ہے وہ ہے وہ ٹھہرنا چاہتا ہوں ب سے نو ہی دن ملے ہیں مجھے مریم ہر پل تمہارے ساتھ گزار لگ چاہتا ہوں اور چاہتا ہوں کہ میرا انتظار کرنا ٹھیک ویسے ہی ان حسین شاموں کی طرح اسی سفید بڑھاؤں گا اور کرتی ہے وہ ہے وہ سنورنا اور گلے ہے وہ ہے وہ لہراتا وہی سرخ دوپٹہ اپنی چھت کی منڈیر پر جاناں کھڑی رہنا گزرونگا جب ہے وہ ہے وہ گلی سے تمہاری تو روکنا لگ خود کو جاناں مسکرانے سے م گر ا سے بار پھیر لوں گا نظ

Rehaan

4 likes

ग़लत-फ़हमी भले दिनों की बात है भला सा एक शहर था ग़मों के उस दयार में फ़लक से उतरी अप्सरा थी शक्ल से बहार वो गुलाब जैसे गाल थे थी चाल उस की नदियों सी कि रेशमी से बाल थे अदब था उस में इस-क़दर कि शर्म भी हया करे वो आए सज के सामने तो चाँद भी गिला करे वो जिस दिशा भी चल पड़े हज़ार भॅंवरे हम-सफ़र कि हर रक़ीब लड़ पड़े वो देख ले पलट के गर ग़मों के उस दयार से ग़मों ने फिर विदा लिया कि दिल-कशी सी छा गई यूँँ इश्क़ ने असर किया ये उन दिनों की बात है मैं बे-ख़बर था इश्क़ से वो दोस्तों की दास्ताँ मज़ाक़ थी मेरे लिए मगर मेरे नसीब में थीं बद-दुआएँ इश्क़ की सो एक रोज़ यूँँ हुआ कि रू-ब-रू वो मिल गई भली सी इक वो शाम थी गुज़र रहा था मोड़ से न जाने क्या सितम हुआ कि आ गई वो सामने नज़र से यूँँ नज़र लड़ी कि वक़्त जैसे खो गया मैं क्या बताऊँ हाल-ए-दिल कि इल्म-ए-इश्क़ हो गया गली में उस की रात-दिन यही बस एक काम था कि उस के आशिक़ों में फिर मेरा भी एक नाम था पलट के उस को देखूँ मैं तो खुल के मुस्कुराए वो मैं भाने लग गया उसे मुझे भी रास आए वो ख़ुदा ने यूँँ ग़ज़ब किया कि बात होने लग गई मैं शे'र कहने लग गया वो ख़्वाब बोने लग गई मगर हुआ ये इल्म फिर कि हम थे इख़्तिलाफ़ में मैं इश्क़ के ख़ुमार में वो इश्क़ के ख़िलाफ़ में थी उस को चश्म-ए-दोस्ती मैं इश्क़ का नशा लिए तो कोशिशें शुरू हुईं कि रिश्ता ये बचा रहे मगर है सच ये बात भी कि कब तलक फ़िज़ूल में यूँँ इश्क़ के दरख़्त पे ये दोस्ती के गुल खिलें सो एक रोज़ क्या हुआ कि बात इस-क़दर हुई मैं इश्क़ पे अड़ा रहा कि दोस्ती बिखर गई मैं इश्क़ का दलाल था वो दोस्ती को रब कहे हर इक मेरी दलील को वो जिस्म की तलब कहे ये इश्क़-विश्क़ जाल है कि मुझ को इनसे बख़्श दो अगर क़ुबूल हो तुम्हें तो दोस्ती के ख़त लिखो है इश्क़ की तलब तुम्हें मैं हूँ अलग मिज़ाज की न शौक़ कुछ तबाही का मैं लड़की काम-काज की मैं दोस्ती निभाऊँगी ख़ुदा की है क़सम मुझे मगर जो ज़िद हो इश्क़ की तो भूल जाओ तुम मुझे न उस के दिल में इश्क़ था न मेरे दिल में दोस्ती मैं मोड़ पर खड़ा रहा वो छोड़ कर चली गई थी आँख नम अगर मेरी उसे भी कुछ मलाल था मिलेंगे फिर कभी न हम ये उस को भी ख़याल था सो यूँँ हुआ कि फिर हमें नसीब ने जुदा किया वो दोस्त के बिना रही मैं इश्क़ के बिना जिया वो क्या ख़बर कहाँ गई कि कुछ पता नहीं चला मैं उस की याद में मगर हज़ार शब जगा रहा मैं अपने ग़म की दास्ताँ सुनाता ही चला गया सुख़न थे जो फ़िराक़ के वो गाता ही चला गया ये आजकल की बात है हज़ार ग़म हैं सहने को क़लम अगर उठाऊँ तो न कुछ बचा है कहने को न क़ाफ़िए बचे हैं कुछ न कुछ रदीफ़ें रह गईं थीं ग़ज़लें जो भी पास में वो आँसुओं में बह गईं है बहर की समझ कहाँ जो नज़्म कोई कह सकूँ है शा'इरी कि बेबसी मैं क्या कहूँ मैं क्या लिखूँ सो अब कुछ ऐसा हाल है कि कोई चारा-गर नहीं भला हूँ या बुरा हूँ मैं किसी को कुछ ख़बर नहीं न अब किसी से इश्क़ है न है किसी से दोस्ती है उस की शक्ल ज़ेहन में पता नहीं कभी-कभी

Rehaan

5 likes

بن تری مجھے جینا ہے بن تری یہ سچ اپنا نہیں سکتا بچھڑ کر تجھ سے واپ سے خود کو بھی اب پا نہیں سکتا محبت ایک ایسا غم ہے جو سب کو رلاتا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنا رویا تڑپا ہوں تجھے سمجھا نہیں سکتا تیری ہر یاد کانٹوں کی طرح دل کو دکھاتی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنے درد ہے وہ ہے وہ ہوں یہ تجھے بتلا نہیں سکتا تیرا چہرہ مری آنکھوں ہے وہ ہے وہ اب ہر پل جھلکتا ہے تری خوابوں ہے وہ ہے وہ ہی جاناں میرا ہر دن گزرتا ہے بھلے تجھ سے لگ کہ پایا ہے وہ ہے وہ اپنے دل کی باتیں پر ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنا چاہتا ہوں تجھ کو میرا دل سمجھتا ہے خدا سے اب یہ خواہش ہے کہ تو ب سے مری ہوں جائے تری بن جینا ناممکن یہ دل تجھ پہ ہی مرتا ہے

Rehaan

2 likes

अफ़सोस मुझे अफ़सोस है तुम को मोहब्बत हो गई मुझ सेे ये क्या जादू हुआ है जो मैं क़ाबिल हो गया हूँ आज तुम्हें तो कल शिकायत थी कि मुझ में बस बुराई है तुम्हें अब चाहिए दो ज़िन्दगी इक साथ में गुज़रे तो कल क्यूँँ सोचती थी तुम मोहब्बत इक तबाही है ये क्या मतलब कि कल तक थी फ़क़त तुम को ग़लत-फ़हमी ये तुम ने आज जाना है कि उल्फ़त में ही जन्नत है मैं कैसे मान जाऊँ अब तुम्हारा इश्क़ सच्चा है भला कैसे यक़ीं हो वाकई तुम को मोहब्बत है वो दिल का टूटना मेरा कहो कैसे भुला दूँ मैं कि इस बेज़ार दिल में अब कहाँ तुम को जगह दूँ मैं सुनो ये मत समझना तुम कि मैं नाराज़ हूँ तुम सेे न ही कुछ बात ऐसी है कि मुझ को तुम सेे नफ़रत है न है तुम सेे कोई रंजिश न कोई चाह बदले की मुझे तो आज भी तुम सेे सनम बेहद मोहब्बत है मेरा हँसना-हँसाना भी फ़क़त बस है अदाकारी अगर तुम आज भी चाहो मैं ख़ुद को ग़म-ज़दा कर लूँ मेरी जो नज़्म है वो सब तुम्हारी मेहरबानी है जो तुम इक मर्तबा कह दो क़लम तुम पर फ़ना कर दूँ मेरी नज़रों में तुम अब भी ख़ुदा की वो ही मूरत हो कि सूखे फूल खिल जाएँ तुम इतनी ख़ूब-सूरत हो मगर वो आशिक़ी जो बस मिलन की शाख़ पे पनपे मैं ऐसे उम्र भर के साथ से इनकार करता हूँ मैं वो आशिक़ नहीं हूँ अब जिसे थी आरज़ू-ए-वस्ल मैं तुम को हिज्र में भी ख़ुद से ज़्यादा प्यार करता हूँ कभी सोचो सबब इस एक-तरफ़ा आशिक़ी का तो तुम्हारी ही नज़र-अंदाज़ी की ये शुक्र-ए-नेमत है यूँँ शेर-ओ-शायरी ने इश्क़ के सब मायने बदले कि तुम सेे इश्क़ है पर साथ रहने में अज़िय्यत है बस इक एहसान कर दो मुझ सेे तुम नाराज़ हो जाओ तुम्हें मेरी क़सम तुम फिर से ख़ुश-अंदाज़ हो जाओ मुझे अफ़सोस है तुम को मोहब्बत हो गई मुझ सेे

Rehaan

2 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Rehaan.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Rehaan's nazm.