nazmKuch Alfaaz

آسمانی خواب یہ بھی اک نعمتوں میں نعمت ہے آدمی خواب دیکھ سکتا ہے زبان دنیا کے رنج سے تھک کر نیند کے والدین سے بستر پر اپنی دنیا سے میلوں دور کہیں نئی دنیا فروَل سکتا ہے ہاں مگر خواب ہیں کئی سارے خواب جھوٹے بھی خواب سچے بھی خواب بدتر ہیں خواب اچھے بھی کچھ تو ہیں خواب کچی نیندوں کے کچھ ہیں گہرائیوں میں ڈوبے ہوئے ان میں کچھ ہیں فضول بے بنیاد اور کچھ قیمتی ہیں ہیروں سے کچھ میں امید صاف دکھتی ہے یار کی دید صاف دکھتی ہے کچھ دھندلکوں میں ڈوبے ہیں جیسے کسی دیرینہ عشق کے بل عکس لوٹ جانے کا سایہ دار دیتے ہیں پھروں نہ آنے کا سایہ دار دیتے ہیں میں سناتا ہوں اک نشانی خواب خواب تھا ایک آسمانی خواب میں نے دیکھا کہ مر گیا ہوں میں اور پھروں سے اٹھایا جا چکا ہوں ایک میدان ہے عدالت کا میں کٹھہرے میں لایا جا چکا ہوں مضطرب ہوں مگر ڈرا ہوا سا خوف سے جسم ہے مرا ہوا سا سامنے زندگی کا خاکہ ہے اسی اسنہ میں آسماں سے کہیں ایک آواز گونجتی ہے وہاں یہ فلان ہے نہ اور ابن فلان اس سے پوچھو کہاں سے آیا ہے کون سی

Related Nazm

بھلی سی ایک شکل تھی بھلے دنوں کی بات ہے بھلی سی ایک شکل تھی نہ یہ کہ حسن تام ہوں نہ دیکھنے ہے وہ ہے وہ آم سی نہ یہ کہ حقیقت چلے تو کہکشاں سی رہگزر لگے مگر حقیقت ساتھ ہوں تو پھروں بھلا بھلا سفر لگے کوئی بھی رت ہوں اس کا کی چھب فضا کا رنگ روپ تھی حقیقت گرمیوں کی چھاؤں تھی حقیقت سردیوں کی دھوپ تھی نہ مدتوں جدا رہے نہ ساتھ صبح و شام ہوں نہ رشتہ وفا پہ ضد نہ یہ کہ اجازت عام ہوں نہ ایسی خوش لباسیاں کہ سادگی گلہ کرے نہ اتنی بے تکلفی کہ آئینہ حیا کرے نہ اختلاط ہے وہ ہے وہ حقیقت رم کہ بد مزہ ہوں خواہشیں نہ اس کا دودمان سپردگی کہ زچ کریں نوازشیں نہ کرنے والے جنون کی کہ زندگی عذاب ہوں نہ اس کا دودمان کٹھور پن کہ دوستی خراب ہوں کبھی تو بات بھی خفی کبھی سکوت بھی سخن کبھی تو کشت زعفران کبھی اداسیوں کا بن سنا ہے ایک عمر ہے معاملات دل کی بھی وصال جاں فزا تو کیا فراق جاں گسل کی بھی سو ایک روز کیا ہوا وفا پہ بحث چھڑ گئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ عشق کو فدا کہوں حقیقت

Ahmad Faraz

111 likes

تمہیں اک بات کہنی تھی اجازت ہوں تو کہ دوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ بھیگا بھیگا سا موسم یہ تتلی پھول اور شبنم چمکتے چاند کی باتیں یہ بوندیں اور برساتیں یہ کالی رات کا آنچل ہوا ہے وہ ہے وہ ناچتے بادل دھڑکتے موسموں کا دل مہکتی سرسرا کا دل یہ سب جتنے نظارے ہیں کہو ک سے کے اشارے ہیں سبھی باتیں سنی جاناں نے پھروں آنکھیں پھیر لیں جاناں نے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تب جا کر کہی سمجھا کہ جاناں نے کچھ نہیں سمجھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ قصہ بڑھوا کر کے ذرا نیچی نظر کر کے یہ کہتا ہوں ابھی جاناں سے محبت ہوں گئی جاناں سے

Zubair Ali Tabish

117 likes

مجھ کو اتنے سے کام پہ رکھ لو جب بھی سینے ہے وہ ہے وہ جھولتا لاکٹ الٹا ہوں جائے تو ہے وہ ہے وہ ہاتھوں سے سیدھا کرتا رہوں اس کا کو جب بھی آویزہ الجھ بالوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ مسکرا کے بس اتنا سا کہ دو آہ چبھتا ہے یہ الگ کر دو جب غرارے ہے وہ ہے وہ پاؤں قبلہ حاجات جائے یا دوپٹہ کسی کواڑ سے اٹکے اک نظر دیکھ لو تو کافی ہے پلیز کہ دو تو اچھا ہے لیکن مسکرانے کی شرط پکی ہے مسکراہٹ معاوضہ ہے میرا مجھ کو اتنے سے کام پہ رکھ لو

Gulzar

68 likes

دوست کے نام خط جاناں نے حال پوچھا ہے حالت محبت ہے وہ ہے وہ ہے وہ حال کا بتانا کیا دل سسک رہا ہوں تو زخم کا چھپانا کیا جاناں جو پوچھ بیٹھے ہوں کچھ تو اب بتانا ہے بات ایک بہانا ہے جاناں نے حال پوچھا ہے اک دیا جلاتا ہوں ٹھیک ہے بتاتا ہوں روز ا سے کی یادوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ دور تک چلے جانا جو بھی تھا کہا ا سے نے اپنے ساتھ دہرانا سان سے جب گردشیں تو پھروں اپنی مرتی آنکھوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کی شکل لے آنا اور زندگی پانا روز ایسے ہوتا ہے کچھ پرانی میسج ہیں جن ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کی باتیں ہیں کچھ طویل صبحے ہیں کچھ اچھی اچھی راتیں ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے کی باتوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ زندگی گزاری ہے زندگی مٹانے کا حوصلہ نہیں مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایک ایک لفظ ا سے کا سان سے ہے وہ ہے وہ فقط ہے روح ہے وہ ہے وہ سمویا ہے ا سے کے جتنے میسج ہے روز کھول لیتا ہوں ا سے سے کہ نہیں پاتا خود سے بول لیتا ہوں ا سے کے پیج پر جا کر روز دیکھتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ آج ک

Ali Zaryoun

70 likes

تمہارا فون آیا ہے عجب سی اوب شامل ہوں گئی ہے روز جینے ہے وہ ہے وہ ہے وہ پلوں کو دن ہے وہ ہے وہ دن کو کاٹ کر جینا مہینے ہے وہ ہے وہ ہے وہ محض مایوسیاں جگتی ہیں اب کیسی بھی آہٹ پر ہزاروں الجھنوں کے گھونسلے لٹکے ہیں چوکھٹ پر اچانک سب کی سب یہ چپپیاں اک ساتھ پگھلی ہیں امیدیں سب سمٹ کر ہاتھ بن جانے کو مچلی ہیں میرے کمرے کے سناٹے نے انگڑائی سی دکھتی ہے میری خاموشیوں نے ایک نغمہ گنگنایا ہے تمہارا فون آیا ہے تمہارا فون آیا ہے ستی کا چیترا دکھ جائے چنو روپ باڑی ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہ چنو چھٹھ کے موقعے پر جگہ مل جائے گاڑی ہے وہ ہے وہ ہے وہ میری آواز سے جاگے تمہارے بام و در چنو یہ ناممکن سی حسرت ہے خیالی ہے مگر چنو بڑی ناکامیوں کے بعد ہمت کی لہر چنو بڑی بےچینیوں کے بعد راحت کا پہر چنو بڑی گمنامیوں کے بعد شہرت کی مہر چنو صبح اور شام کو سادھے ہوئے اک دوپہر چنو بڑے عنوان کو باندھے ہوئے چھوٹی بہر چنو نئی دلہن کے شرماتے ہوئے شام و سحر چنو ہتھیلی پر رچی مہندی اچانک مسکرائی ہے میری آنکھوں ہے وہ ہے وہ آنسو کا ستارہ جگمگایا ہے تمہارا

Kumar Vishwas

81 likes

More from Dharmesh bashar

گدا گر کل سڑک پر اک گدا گر دفعتن جو دکھ گیا تو چند سکے بھیک دے کر ہے وہ ہے وہ نے ا سے سے یہ کہا بھائی جاناں مرضی کے اپنی مالک و مختار ہوں اک گزارش ہے م گر جو سننے کو تیار ہوں دور پیری ہے م گر اعضا تو چلتے ہیں ابھی بھیک ہے وہ ہے وہ ذلت ہے راہ منزل کام دھندہ جاناں کوئی ہاتھ پھیلانا کسی کے سامنے اچھا نہیں جاناں سے سالم بے وجہ پر پیشہ یہ کچھ جنتا نہیں ایک ٹھنڈی آہ بھر کر مسکرایا حقیقت ذرا چند لمحے سوچ کر کچھ ا سے نے بولا صاحبہ ک سے کو ہے مرضی پہ اپنی ا سے ج ہاں ہے وہ ہے وہ اختیار ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کب چاہا تھا ہوں پامال یوں میرا نظیر و ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہنر رکھتا تھا صاحب ہے وہ ہے وہ بھی اک فنکار تھا اور فن میرا فانو سے خاص کا سردار تھا شعر کہتا تھا غضب کے نام تھا ہر سو میرا سننے والوں پہ چلا کرتا تھا کیا جادو میرا شہرت و عزت بھی تھی اور زر بھی تھا حاصل مجھے زندگی لگتی تھی مثل نعمت کامل مجھے پھروں ہوا کچھ یوں کہ یہ دنیا مشینی ہوں گئی اور شعر و نغمہ کی رفتار دھیمی ہوں گئی اب نہیں سجت

Dharmesh bashar

3 likes

تصویر کشی جاں اب تری تصویر ہے وہ ہے وہ جو آنے لگی ہے گل پوش حسین شام کو بہکانے لگی ہے تصویر تری دل میرا بہلانے لگی ہے اجڑے ہوئے دل ناشاد کو مہکانے لگی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بات جو کرتا تھا تو ہوں جاتی تھی ناراض اب آنکھ جھکا لیتی ہے شرمانے لگی ہے جو مجھ سے لگاتار بچاتی رہی نظریں اب مجھ پہ نظر ڈال کے مسکانے لگی ہے جو ہاتھ لگانے پہ رہا کرتی تھی خاموش اب شعر سناتی ہے غزل گانے لگی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کی اداؤں پہ رہا مست ہمیشہ اب یہ مری اشعار پہ لہرانے لگی ہے جو پیار کے لمحات تری ساتھ گزارے تصویر تری بارہا دہرانے لگی ہے کل تک جو بنی رہتی تھی دیوار کی ظفر اب دل کے ہر اک گوشے کو گرمانے لگی ہے آنکھوں ہے وہ ہے وہ مری دیکھ کے تصویر خود اپنی کیا جانیے ک سے بات پہ اترانے لگی ہے سینے کو ڈھکے رکھتا تھا جو ریشمی آنچل دو چار دنوں سے اسے سرکانے لگی ہے اک روز اسے یوں ہی کہی چھیڑ دیا تھا یہ مجھ کو اسی روز سے اکسانے لگی ہے اب ا سے پہ بھی کچھ رنگ ترا چڑھنے لگا تو بل کھا کے مری سامنے ا

Dharmesh bashar

5 likes

سودائی غضب دل ہے لگ جیتا ہے لگ مرتا ہے لگ سینے ہے وہ ہے وہ ٹھہرتا ہے لگ باہر ہی نکلتا ہے غضب جاں ہے مشین ہے کہ تو آئی جھجھکتی ہے کہ تو آئی تو نامعلوم کیا ہوگا پریشاں ہے کہ دنیا کیا کہے گی پشیمان ہے کہ اپنے با ہمی رشتے ہے وہ ہے وہ حقیقت دم ہے لگ حقیقت خم ہے م گر پھروں بھی بلکتی ہے کہ تنہائی نے ایسا مار رکھا ہے لگ تو آئی تو میرا کیا بنےگا غضب تو ہے لگ اپنوں ہے وہ ہے وہ لگ غیروں ہے وہ ہے وہ ہے وہ لگ غم اندوز خلوت ہے وہ ہے وہ لگ جان افروز جلوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ مجھے ڈر ہے کہ تجھ سے میل ہوگا تو ک ہاں ہوگا کسی سرسبز وا گرا ہے وہ ہے وہ کے ا سے ویران کوٹیا ہے وہ ہے وہ ہے وہ اسی دنیا ہے وہ ہے وہ یا پھروں تراشتے کے پار عقبہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ غضب ہے وہ ہے وہ ہوں مفکر بھی محقق بھی مصنف بھی م گر افسو سے عاشق بھی گیا تو گزرا سا شاعر بھی بعید از عقل بھی اور رسم دنیا سے بھی بے گانا جو انجانے ہے وہ ہے وہ تجھ سے ڈھیر سارا پیار کر بیٹھا ب ہر صورت ا گر کچھ واقعہ ہے تو فقط یہ ہے میرا دل تجھ پہ شیدا ہے مری

Dharmesh bashar

11 likes

تلاش حق تلاش حق ہے گر تجھ کو نظر کو تیروں کے رکھ پر لگا دے تو ہدف کو دیکھ دنیا کے اسے پہچان ا سے کی جستجو ہے وہ ہے وہ رات دن لگ جا تجھے حق بھی ملےگا ا سے تلک جانے کا رستہ بھی م گر حقیقت راستہ چن لے تو پھروں تو زخم خانے کو ج گر بھی ساتھ لے آنا ستم پر مسکرانے کا ہنر بھی ساتھ لے آنا یہی ہے انتہا ا سے کی یہی انجام ہوتا ہے کہ ا سے رستے پہ چلنے کا یہی انعام ہوتا ہے م گر ا سے راستے پر زخم خانے کا مزہ کچھ اور ہے سن لے ی ہاں پر جان دینے کی جزا کچھ اور ہے سن لے ا گر تو عزم کر لے ب سے ذرا سا حوصلہ کر لے تو پھروں کل کیا پتا جب پھروں کوئی حق کا ہوں جوئندہ نشان رستے لہو کے تری کوئی نقش پا کر لے کہ یہ دنیا تو فانی ہے یہ جاں تو یوں بھی جانی ہے تلاش حق ہے گر تجھ کو نظر کو تیروں کے رکھ پر لگا دے تو

Dharmesh bashar

7 likes

کھلونا جاناں کو ا سے دل سے شکایت تھی کہ بیکار ہے یہ ہر حسی لگ کی محبت کا گرفتار ہے یہ حسن کے فیض کا ہر سمے طلب گار ہے یہ دوڑتے پھرتا ہے پر اصل ہے وہ ہے وہ بیمار ہے یہ ہم کو اچھی نظر آتی نہیں حالت ا سے کی جاؤ اور جلد کرا لاؤ مرمت ا سے کی سن کے یہ حکم سر شوق جھکایا ہے وہ ہے وہ نے صندل صندل طبیبوں کو دکھایا ہے وہ ہے وہ نے حال نا ساز ب تفصیل سنایا ہے وہ ہے وہ نے ا سے کے فرمانوں کو سینے سے لگایا ہے وہ ہے وہ نے بولے ا سے دل سے تمہیں ہاتھ لگ دھونے دیں گے اک جواں سال کو مرحوم لگ ہونے دیں گے دیکھتے دیکھتے تختے پہ لٹایا مجھ کو پھروں ہدف اپنی جراحت کا بنایا مجھ کو عالم خواب ہے وہ ہے وہ کیا کیا لگ ستایا مجھ کو ہوش آ جانے پہ مژدہ یہ سنایا مجھ کو آپ کے پہلو ہے وہ ہے وہ اب ایک دل کامل ہے ج سے کے اوصاف حمیدہ کا بیاں مشکل ہے ساز کہیے تو ہر اک تار ہے عمدہ ا سے آئی لگ کہیے تو ہر عک سے ہے اجلا ا سے ہے کھلونا تو ہر اک کھیل انوکھا ا سے گویا ہر رنگ زمانے سے نرالا ا سے قیا سے ناکامی سے جاناں ساتھ اسے لے جاؤ جن کو شکوہ تھا

Dharmesh bashar

3 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Dharmesh bashar.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Dharmesh bashar's nazm.