سودائی غضب دل ہے لگ جیتا ہے لگ مرتا ہے لگ سینے ہے وہ ہے وہ ٹھہرتا ہے لگ باہر ہی نکلتا ہے غضب جاں ہے مشین ہے کہ تو آئی جھجھکتی ہے کہ تو آئی تو نامعلوم کیا ہوگا پریشاں ہے کہ دنیا کیا کہے گی پشیمان ہے کہ اپنے با ہمی رشتے ہے وہ ہے وہ حقیقت دم ہے لگ حقیقت خم ہے م گر پھروں بھی بلکتی ہے کہ تنہائی نے ایسا مار رکھا ہے لگ تو آئی تو میرا کیا بنےگا غضب تو ہے لگ اپنوں ہے وہ ہے وہ لگ غیروں ہے وہ ہے وہ ہے وہ لگ غم اندوز خلوت ہے وہ ہے وہ لگ جان افروز جلوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ مجھے ڈر ہے کہ تجھ سے میل ہوگا تو ک ہاں ہوگا کسی سرسبز وا گرا ہے وہ ہے وہ کے ا سے ویران کوٹیا ہے وہ ہے وہ ہے وہ اسی دنیا ہے وہ ہے وہ یا پھروں تراشتے کے پار عقبہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ غضب ہے وہ ہے وہ ہوں مفکر بھی محقق بھی مصنف بھی م گر افسو سے عاشق بھی گیا تو گزرا سا شاعر بھی بعید از عقل بھی اور رسم دنیا سے بھی بے گانا جو انجانے ہے وہ ہے وہ تجھ سے ڈھیر سارا پیار کر بیٹھا ب ہر صورت ا گر کچھ واقعہ ہے تو فقط یہ ہے میرا دل تجھ پہ شیدا ہے مری
Related Nazm
بھلی سی ایک شکل تھی بھلے دنوں کی بات ہے بھلی سی ایک شکل تھی نہ یہ کہ حسن تام ہوں نہ دیکھنے ہے وہ ہے وہ آم سی نہ یہ کہ حقیقت چلے تو کہکشاں سی رہگزر لگے مگر حقیقت ساتھ ہوں تو پھروں بھلا بھلا سفر لگے کوئی بھی رت ہوں اس کا کی چھب فضا کا رنگ روپ تھی حقیقت گرمیوں کی چھاؤں تھی حقیقت سردیوں کی دھوپ تھی نہ مدتوں جدا رہے نہ ساتھ صبح و شام ہوں نہ رشتہ وفا پہ ضد نہ یہ کہ اجازت عام ہوں نہ ایسی خوش لباسیاں کہ سادگی گلہ کرے نہ اتنی بے تکلفی کہ آئینہ حیا کرے نہ اختلاط ہے وہ ہے وہ حقیقت رم کہ بد مزہ ہوں خواہشیں نہ اس کا دودمان سپردگی کہ زچ کریں نوازشیں نہ کرنے والے جنون کی کہ زندگی عذاب ہوں نہ اس کا دودمان کٹھور پن کہ دوستی خراب ہوں کبھی تو بات بھی خفی کبھی سکوت بھی سخن کبھی تو کشت زعفران کبھی اداسیوں کا بن سنا ہے ایک عمر ہے معاملات دل کی بھی وصال جاں فزا تو کیا فراق جاں گسل کی بھی سو ایک روز کیا ہوا وفا پہ بحث چھڑ گئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ عشق کو فدا کہوں حقیقت
Ahmad Faraz
111 likes
بہت خوبصورت ہوں جاناں بہت خوبصورت ہوں جاناں کبھی ہے وہ ہے وہ جو کہ دوں محبت ہے جاناں سے تو مجھ کو خدارا غلط مت سمجھنا کہ میری ضرورت ہوں جاناں بہت خوبصورت ہوں جاناں ہیں پھولوں کی ڈالی پہ بانہیں تمہاری ہیں خاموش جادو نگاہیں تمہاری جو کانٹے ہوں سب اپنے دامن ہے وہ ہے وہ رکھ لوں سجاؤں ہے وہ ہے وہ کلیوں سے راہیں تمہاری نظر سے زمانے کی خود کو بچانا کسی اور سے دیکھو دل مت لگانا کہ میری امانت ہوں جاناں بہت خوبصورت ہوں جاناں کبھی نڈھال کی قطاروں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا چمکتے ہوئے چاند تاروں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا خزاؤں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا بہاروں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا مچلتے ہوئے آبشاروں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا حقیقت ہے وہ ہے وہ دیکھا فسانے ہے وہ ہے وہ دیکھا نہ جاناں سا ہنسی ای سے زمانے دیکھا نہ دنیا کی رنگین محفل ہے وہ ہے وہ پایا جو پایا تمہیں اپنا ہی دل ہے وہ ہے وہ پایا ایک ایسی مسرت ہوں جاناں بہت خوبصورت ہوں جاناں ہے چہرہ تمہارا کہ دن ہے سنہرا ہے چہرہ تمہارا کہ دن ہے سنہرا اور ای سے پر یہ کالی گھٹاؤں کا پہرہ گلابوں س
Tahir Faraz
54 likes
تمہارا فون آیا ہے عجب سی اوب شامل ہوں گئی ہے روز جینے ہے وہ ہے وہ ہے وہ پلوں کو دن ہے وہ ہے وہ دن کو کاٹ کر جینا مہینے ہے وہ ہے وہ ہے وہ محض مایوسیاں جگتی ہیں اب کیسی بھی آہٹ پر ہزاروں الجھنوں کے گھونسلے لٹکے ہیں چوکھٹ پر اچانک سب کی سب یہ چپپیاں اک ساتھ پگھلی ہیں امیدیں سب سمٹ کر ہاتھ بن جانے کو مچلی ہیں میرے کمرے کے سناٹے نے انگڑائی سی دکھتی ہے میری خاموشیوں نے ایک نغمہ گنگنایا ہے تمہارا فون آیا ہے تمہارا فون آیا ہے ستی کا چیترا دکھ جائے چنو روپ باڑی ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہ چنو چھٹھ کے موقعے پر جگہ مل جائے گاڑی ہے وہ ہے وہ ہے وہ میری آواز سے جاگے تمہارے بام و در چنو یہ ناممکن سی حسرت ہے خیالی ہے مگر چنو بڑی ناکامیوں کے بعد ہمت کی لہر چنو بڑی بےچینیوں کے بعد راحت کا پہر چنو بڑی گمنامیوں کے بعد شہرت کی مہر چنو صبح اور شام کو سادھے ہوئے اک دوپہر چنو بڑے عنوان کو باندھے ہوئے چھوٹی بہر چنو نئی دلہن کے شرماتے ہوئے شام و سحر چنو ہتھیلی پر رچی مہندی اچانک مسکرائی ہے میری آنکھوں ہے وہ ہے وہ آنسو کا ستارہ جگمگایا ہے تمہارا
Kumar Vishwas
81 likes
مجھ کو اتنے سے کام پہ رکھ لو جب بھی سینے ہے وہ ہے وہ جھولتا لاکٹ الٹا ہوں جائے تو ہے وہ ہے وہ ہاتھوں سے سیدھا کرتا رہوں اس کا کو جب بھی آویزہ الجھ بالوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ مسکرا کے بس اتنا سا کہ دو آہ چبھتا ہے یہ الگ کر دو جب غرارے ہے وہ ہے وہ پاؤں قبلہ حاجات جائے یا دوپٹہ کسی کواڑ سے اٹکے اک نظر دیکھ لو تو کافی ہے پلیز کہ دو تو اچھا ہے لیکن مسکرانے کی شرط پکی ہے مسکراہٹ معاوضہ ہے میرا مجھ کو اتنے سے کام پہ رکھ لو
Gulzar
68 likes
محبوبہ کے نام تو اپنی چٹھیوں ہے وہ ہے وہ میر کے اشعار لکھتی ہے محبت کے بنا ہے زندگی بیکار لکھتی ہے تیرے خط تو عبارت ہیں وفاداری کی قسموں سے جنہیں ہے وہ ہے وہ پیسہ ڈرتا ہوں وہی ہر بار لکھتی ہے تو پیروکار لیلیٰ کی ہے شیریں کی پجارن ہے مگر تو جس پہ بیٹھی ہے حقیقت سونے کا سنگھاسن ہے تیری پلکوں کے مسکارے تیرے ہونٹوں کی یہ لالی یہ تیرے ریشمی کپڑے یہ تیرے کان کی بالی گلے کا یہ چمکتا ہار ہاتھوں کے تیرے کنگن یہ سب کے سب ہے میرے دل میرے احساس کے دشمن کہ ان کے سامنے کچھ بھی نہیں ہے پیار کی قیمت وفا کا مول کیا کیا ہے اعتبار کی قیمت شکستہ کشتیوں ٹوٹی ہوئی پتوار کی قیمت ہے میری جیت سے بڑھکر تو تیری ہار کی قیمت حقیقت خون کے آنسو تجھے جنگل پرستی جاناں تو اپنے فیصلے پر بعد ہے وہ ہے وہ پچھتائےگی جاناں میرے کندھے پہ چھوٹے بھائیوں کی ذمہ داری ہے میرے ماں باپ بوڑھے ہے بہن بھی تو کنواری ہے برہنہ موسموں کے وار کو تو سہ نہ بدلی حویلی چھوڑ کر تو جھونپڑی ہے وہ ہے وہ رہ نہ بدلی بیگانہ غم تیری میری مفلسی کو
Abrar Kashif
50 likes
More from Dharmesh bashar
تصویر کشی جاں اب تری تصویر ہے وہ ہے وہ جو آنے لگی ہے گل پوش حسین شام کو بہکانے لگی ہے تصویر تری دل میرا بہلانے لگی ہے اجڑے ہوئے دل ناشاد کو مہکانے لگی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بات جو کرتا تھا تو ہوں جاتی تھی ناراض اب آنکھ جھکا لیتی ہے شرمانے لگی ہے جو مجھ سے لگاتار بچاتی رہی نظریں اب مجھ پہ نظر ڈال کے مسکانے لگی ہے جو ہاتھ لگانے پہ رہا کرتی تھی خاموش اب شعر سناتی ہے غزل گانے لگی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کی اداؤں پہ رہا مست ہمیشہ اب یہ مری اشعار پہ لہرانے لگی ہے جو پیار کے لمحات تری ساتھ گزارے تصویر تری بارہا دہرانے لگی ہے کل تک جو بنی رہتی تھی دیوار کی ظفر اب دل کے ہر اک گوشے کو گرمانے لگی ہے آنکھوں ہے وہ ہے وہ مری دیکھ کے تصویر خود اپنی کیا جانیے ک سے بات پہ اترانے لگی ہے سینے کو ڈھکے رکھتا تھا جو ریشمی آنچل دو چار دنوں سے اسے سرکانے لگی ہے اک روز اسے یوں ہی کہی چھیڑ دیا تھا یہ مجھ کو اسی روز سے اکسانے لگی ہے اب ا سے پہ بھی کچھ رنگ ترا چڑھنے لگا تو بل کھا کے مری سامنے ا
Dharmesh bashar
5 likes
تلاش حق تلاش حق ہے گر تجھ کو نظر کو تیروں کے رکھ پر لگا دے تو ہدف کو دیکھ دنیا کے اسے پہچان ا سے کی جستجو ہے وہ ہے وہ رات دن لگ جا تجھے حق بھی ملےگا ا سے تلک جانے کا رستہ بھی م گر حقیقت راستہ چن لے تو پھروں تو زخم خانے کو ج گر بھی ساتھ لے آنا ستم پر مسکرانے کا ہنر بھی ساتھ لے آنا یہی ہے انتہا ا سے کی یہی انجام ہوتا ہے کہ ا سے رستے پہ چلنے کا یہی انعام ہوتا ہے م گر ا سے راستے پر زخم خانے کا مزہ کچھ اور ہے سن لے ی ہاں پر جان دینے کی جزا کچھ اور ہے سن لے ا گر تو عزم کر لے ب سے ذرا سا حوصلہ کر لے تو پھروں کل کیا پتا جب پھروں کوئی حق کا ہوں جوئندہ نشان رستے لہو کے تری کوئی نقش پا کر لے کہ یہ دنیا تو فانی ہے یہ جاں تو یوں بھی جانی ہے تلاش حق ہے گر تجھ کو نظر کو تیروں کے رکھ پر لگا دے تو
Dharmesh bashar
7 likes
کھلونا جاناں کو ا سے دل سے شکایت تھی کہ بیکار ہے یہ ہر حسی لگ کی محبت کا گرفتار ہے یہ حسن کے فیض کا ہر سمے طلب گار ہے یہ دوڑتے پھرتا ہے پر اصل ہے وہ ہے وہ بیمار ہے یہ ہم کو اچھی نظر آتی نہیں حالت ا سے کی جاؤ اور جلد کرا لاؤ مرمت ا سے کی سن کے یہ حکم سر شوق جھکایا ہے وہ ہے وہ نے صندل صندل طبیبوں کو دکھایا ہے وہ ہے وہ نے حال نا ساز ب تفصیل سنایا ہے وہ ہے وہ نے ا سے کے فرمانوں کو سینے سے لگایا ہے وہ ہے وہ نے بولے ا سے دل سے تمہیں ہاتھ لگ دھونے دیں گے اک جواں سال کو مرحوم لگ ہونے دیں گے دیکھتے دیکھتے تختے پہ لٹایا مجھ کو پھروں ہدف اپنی جراحت کا بنایا مجھ کو عالم خواب ہے وہ ہے وہ کیا کیا لگ ستایا مجھ کو ہوش آ جانے پہ مژدہ یہ سنایا مجھ کو آپ کے پہلو ہے وہ ہے وہ اب ایک دل کامل ہے ج سے کے اوصاف حمیدہ کا بیاں مشکل ہے ساز کہیے تو ہر اک تار ہے عمدہ ا سے آئی لگ کہیے تو ہر عک سے ہے اجلا ا سے ہے کھلونا تو ہر اک کھیل انوکھا ا سے گویا ہر رنگ زمانے سے نرالا ا سے قیا سے ناکامی سے جاناں ساتھ اسے لے جاؤ جن کو شکوہ تھا
Dharmesh bashar
3 likes
گدا گر کل سڑک پر اک گدا گر دفعتن جو دکھ گیا تو چند سکے بھیک دے کر ہے وہ ہے وہ نے ا سے سے یہ کہا بھائی جاناں مرضی کے اپنی مالک و مختار ہوں اک گزارش ہے م گر جو سننے کو تیار ہوں دور پیری ہے م گر اعضا تو چلتے ہیں ابھی بھیک ہے وہ ہے وہ ذلت ہے راہ منزل کام دھندہ جاناں کوئی ہاتھ پھیلانا کسی کے سامنے اچھا نہیں جاناں سے سالم بے وجہ پر پیشہ یہ کچھ جنتا نہیں ایک ٹھنڈی آہ بھر کر مسکرایا حقیقت ذرا چند لمحے سوچ کر کچھ ا سے نے بولا صاحبہ ک سے کو ہے مرضی پہ اپنی ا سے ج ہاں ہے وہ ہے وہ اختیار ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کب چاہا تھا ہوں پامال یوں میرا نظیر و ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہنر رکھتا تھا صاحب ہے وہ ہے وہ بھی اک فنکار تھا اور فن میرا فانو سے خاص کا سردار تھا شعر کہتا تھا غضب کے نام تھا ہر سو میرا سننے والوں پہ چلا کرتا تھا کیا جادو میرا شہرت و عزت بھی تھی اور زر بھی تھا حاصل مجھے زندگی لگتی تھی مثل نعمت کامل مجھے پھروں ہوا کچھ یوں کہ یہ دنیا مشینی ہوں گئی اور شعر و نغمہ کی رفتار دھیمی ہوں گئی اب نہیں سجت
Dharmesh bashar
3 likes
آسمانی خواب یہ بھی اک نعمتوں میں نعمت ہے آدمی خواب دیکھ سکتا ہے زبان دنیا کے رنج سے تھک کر نیند کے والدین سے بستر پر اپنی دنیا سے میلوں دور کہیں نئی دنیا فروَل سکتا ہے ہاں مگر خواب ہیں کئی سارے خواب جھوٹے بھی خواب سچے بھی خواب بدتر ہیں خواب اچھے بھی کچھ تو ہیں خواب کچی نیندوں کے کچھ ہیں گہرائیوں میں ڈوبے ہوئے ان میں کچھ ہیں فضول بے بنیاد اور کچھ قیمتی ہیں ہیروں سے کچھ میں امید صاف دکھتی ہے یار کی دید صاف دکھتی ہے کچھ دھندلکوں میں ڈوبے ہیں جیسے کسی دیرینہ عشق کے بل عکس لوٹ جانے کا سایہ دار دیتے ہیں پھروں نہ آنے کا سایہ دار دیتے ہیں میں سناتا ہوں اک نشانی خواب خواب تھا ایک آسمانی خواب میں نے دیکھا کہ مر گیا ہوں میں اور پھروں سے اٹھایا جا چکا ہوں ایک میدان ہے عدالت کا میں کٹھہرے میں لایا جا چکا ہوں مضطرب ہوں مگر ڈرا ہوا سا خوف سے جسم ہے مرا ہوا سا سامنے زندگی کا خاکہ ہے اسی اسنہ میں آسماں سے کہیں ایک آواز گونجتی ہے وہاں یہ فلان ہے نہ اور ابن فلان اس سے پوچھو کہاں سے آیا ہے کون سی
Dharmesh bashar
5 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Dharmesh bashar.
Similar Moods
More moods that pair well with Dharmesh bashar's nazm.







