آنچ آتی ہے ترے جسم کی عریانی سے پیرہن ہے کہ سلگتی ہوئی شب ہے کوئی
Related Sher
ہم پہ احسان ہیں اداسی کے مسکرائیں تو شرم آتی ہے
Varun Anand
87 likes
کتنا آساں تھا تری ہجر ہے وہ ہے وہ مرنا جاناں پھروں بھی اک عمر لگی جان سے جاتے جاتے
Ahmad Faraz
61 likes
جب چاہیں سو جاتے تھے ہم جاناں سے باتیں کر کے تب الٹی گنتی گننے سے بھی نیند نہیں آتی ہے اب عشق محبت پر تاکتے کے شعر سنائے اس کا کو جب پہلے تھوڑا شرمائی حقیقت پھروں بولی ا سے زار
Tanoj Dadhich
58 likes
تمہارے آنے کی امید بر معین نہیں آتی ہے وہ ہے وہ ہے وہ راکھ ہونے لگا ہوں دیے جلاتے ہوئے
Azhar Iqbal
57 likes
ہر ملاقات پہ سینے سے لگانے والے کتنے پیاری ہیں مجھے چھوڑ کے جانے والے زندگی بھر کی محبت کا صلہ لے ڈوبے کیسے نادان تھے تری جان سے جانے والے
Vipul Kumar
53 likes
More from Nasir Kazmi
दिन भर तो मैं दुनिया के धंदों में खोया रहा जब दीवारों से धूप ढली तुम याद आए
Nasir Kazmi
0 likes
حقیقت دل نواز ہے لیکن نظر شنا سے نہیں میرا علاج مری چارہ گر کے پا سے نہیں
Nasir Kazmi
34 likes
کون اچھا ہے ا سے زمانے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیوں کسی کو برا کہے کوئی
Nasir Kazmi
17 likes
ک ہاں ہے تو کہ تری انتظار ہے وہ ہے وہ اے دوست تمام رات دستور ہیں دل کے ویرانے
Nasir Kazmi
21 likes
ب سے یوں ہی دل کو توقع سی ہے تجھ سے ور لگ جانتا ہوں کہ مقدر ہے میرا تنہائی
Nasir Kazmi
7 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Nasir Kazmi.
Similar Moods
More moods that pair well with Nasir Kazmi's sher.







