اب بھی برسات کی راتوں میں بدن ٹوٹتا ہے جاگ اٹھتی ہیں عجب خواہشیں انگڑائی کی
Related Sher
شاخوں سے ٹوٹ جائیں حقیقت پتے نہیں ہیں ہم آندھی سے کوئی کہ دے کہ اوقات ہے وہ ہے وہ رہے
Rahat Indori
435 likes
تیری صورت سے ہے عالم ہے وہ ہے وہ بہاروں کو ثبات تیری آنکھوں کے سوا دنیا ہے وہ ہے وہ رکھا کیا ہے
Faiz Ahmad Faiz
401 likes
کوئی دقت نہیں ہے گر تمہیں الجھا سا لگتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہلی مرتبہ ملنے ہے وہ ہے وہ سب کو ایسا لگتا ہوں ضروری تو نہیں ہم ساتھ ہیں تو کوئی چکر ہوں حقیقت مری دوست ہے اور ہے وہ ہے وہ اسے ب سے اچھا لگتا ہوں
Ali Zaryoun
521 likes
بنسری سب سر تیاغے ہے ایک ہی سر ہے وہ ہے وہ باجے ہے حال لگ پوچھو موہن کا سب کچھ رادھے رادھے ہے
Zubair Ali Tabish
325 likes
سوچوں تو ساری عمر محبت ہے وہ ہے وہ کٹ گئی دیکھوں تو ایک بے وجہ بھی میرا نہیں ہوا
Jaun Elia
545 likes
More from Parveen Shakir
مر بھی جاؤں تو ک ہاں لوگ بھلا ہی دیں گے لفظ مری مری ہونے کی گواہی دیں گے
Parveen Shakir
15 likes
کل رات جو ایندھن کے لیے کٹ کے گرا ہے چڑیوں کو بے حد پیار تھا ا سے بوڑھے شجر سے
Parveen Shakir
8 likes
یہ کیا کہ حقیقت جب چاہے مجھے چھین لے مجھ سے اپنے لیے حقیقت بے وجہ تڑپتا بھی تو دیکھوں
Parveen Shakir
16 likes
ہاتھ مری بھول بیٹھے دستکیں دینے کا فن بند مجھ پر جب سے ا سے کے گھر کا دروازہ ہوا
Parveen Shakir
25 likes
کیا کرے مری مسیحائی بھی کرنے والا زخم ہی یہ مجھے لگتا نہیں بھرنے والا
Parveen Shakir
26 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Parveen Shakir.
Similar Moods
More moods that pair well with Parveen Shakir's sher.







