ہاتھ مری بھول بیٹھے دستکیں دینے کا فن بند مجھ پر جب سے ا سے کے گھر کا دروازہ ہوا
Related Sher
مت پوچھ کہ کیا حال ہے میرا تری پیچھے تو دیکھ کہ کیا رنگ ہے تیرا مری آگے
Mirza Ghalib
180 likes
زبان جاناں حقیقت ہوں واقعی حد ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو سچ مچ سبھی کو بھول گیا تو
Jaun Elia
172 likes
ہے وہ ہے وہ ا گر اپنی جوانی کے سنا دوں قصے یہ جو افلاطون ہیں مری پاؤں دبانے لگ جائے
Mehshar Afridi
136 likes
ہاتھ خالی ہے تری شہر سے جاتے جاتے جان ہوتی تو مری جان لٹاتے جاتے
Rahat Indori
118 likes
یہ مت بھولو کہ یہ لمحات ہم کو چیزیں کے لیے ملوا رہے ہیں
Jaun Elia
143 likes
More from Parveen Shakir
ا سے سے اک بار تو روٹھوں ہے وہ ہے وہ اسی کی مانند اور مری طرح سے حقیقت مجھ کو منانے آئی
Parveen Shakir
9 likes
حقیقت مسافر ہی کھلی دھوپ کا تھا سائے پھیلا کے شجر کیا کرتے
Parveen Shakir
18 likes
ک سے طرح مری روح خا لگ وحدت پسند کر گیا تو آخر حقیقت زہر جسے جسم ہے وہ ہے وہ کھلتے نہیں دیکھا
Parveen Shakir
28 likes
مر بھی جاؤں تو ک ہاں لوگ بھلا ہی دیں گے لفظ مری مری ہونے کی گواہی دیں گے
Parveen Shakir
15 likes
یہ کیا کہ حقیقت جب چاہے مجھے چھین لے مجھ سے اپنے لیے حقیقت بے وجہ تڑپتا بھی تو دیکھوں
Parveen Shakir
16 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Parveen Shakir.
Similar Moods
More moods that pair well with Parveen Shakir's sher.







