اپنے حاکم کی فقیری پہ تر سے آتا ہے جو غریبوں سے پسینے کی کمائی مانگے
Related Sher
کوئی حسین بدن جن کی دسترسی ہے وہ ہے وہ نہیں یہی کہی گے کہ کچھ فائدہ ہوں سے ہے وہ ہے وہ نہیں
Umair Najmi
109 likes
تیرا بنتا تھا کہ تو دشمن ہوں اپنے ہاتھوں سے کھلایا تھا تجھے تیری گالی سے مجھے یاد آیا کتنے تانوں سے بچایا تھا تجھے
Ali Zaryoun
114 likes
ا سے کے ہونٹوں پہ رکھ کے ہونٹ اپنے بات ہی ہم تمام کر رہے ہیں
Jaun Elia
128 likes
بے حد مزاق اڑاتے ہوں جاناں غریبوں کا مدد تو کرتے ہوں تصویر کھینچ لیتے ہوں
Nawaz Deobandi
113 likes
اپنے چہرے سے جو ظاہر ہے مطابق کیسے تیری مرضی کے مطابق نظر آئیں کیسے
Waseem Barelvi
97 likes
More from Rahat Indori
گزشتہ سال کے زخموں ہرے بھرے رہنا جلو سے اب کے بر سے بھی یہیں سے نکلےگا
Rahat Indori
10 likes
حقیقت چاہتا تھا کہ کاسا خرید لے میرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے تاج کی قیمت لگا کے لوٹ آیا
Rahat Indori
29 likes
ماں کے قدموں کے نشان ہیں کہ دیے روشن ہیں غور سے دیکھ یہیں پر کہی جنت ہوں گی
Rahat Indori
35 likes
ہے وہ ہے وہ حقیقت دریا ہوں کہ ہر بوند بھنور ہے ج سے کی جاناں نے اچھا ہی کیا مجھ سے کنارہ کر کے
Rahat Indori
29 likes
اب تو ہر ہاتھ کا پتھر ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہچانتا ہے عمر گزری ہے تری شہر ہے وہ ہے وہ آتے جاتے
Rahat Indori
30 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Rahat Indori.
Similar Moods
More moods that pair well with Rahat Indori's sher.







