ماں کے قدموں کے نشان ہیں کہ دیے روشن ہیں غور سے دیکھ یہیں پر کہی جنت ہوں گی
Related Sher
ہے وہ ہے وہ ا گر اپنی جوانی کے سنا دوں قصے یہ جو افلاطون ہیں مری پاؤں دبانے لگ جائے
Mehshar Afridi
136 likes
بات کروں روٹھے یاروں سے سناٹوں سے ڈر جاتے ہیں پیار اکیلا جی لیتا ہے دوست اکیلے مر جاتے ہیں
Kumar Vishwas
141 likes
یہ ا پیش بات کہ خاموش کھڑے رہتے ہیں پھروں بھی جو لوگ بڑے ہیں حقیقت بڑے رہتے ہیں
Rahat Indori
484 likes
ا سے کی زلفیں ادا سے ہوں جائے ا سے دودمان روشنی بھی ٹھیک نہیں جاناں نے ناراض ہونا چھوڑ دیا اتنی ناراضگی بھی ٹھیک نہیں
Fahmi Badayuni
128 likes
کوئی دقت نہیں ہے گر تمہیں الجھا سا لگتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہلی مرتبہ ملنے ہے وہ ہے وہ سب کو ایسا لگتا ہوں ضروری تو نہیں ہم ساتھ ہیں تو کوئی چکر ہوں حقیقت مری دوست ہے اور ہے وہ ہے وہ اسے ب سے اچھا لگتا ہوں
Ali Zaryoun
521 likes
More from Rahat Indori
گزشتہ سال کے زخموں ہرے بھرے رہنا جلو سے اب کے بر سے بھی یہیں سے نکلےگا
Rahat Indori
10 likes
ہے وہ ہے وہ اہمیت بھی سمجھتا ہوں قہق ہوں کی م گر مزہ کچھ اپنا ا پیش ہے ادا سے ہونے کا
Rahat Indori
19 likes
بوتلیں کھول کر تو پی برسوں آج دل کھول کر بھی پی جائے
Rahat Indori
37 likes
بیمار کو مرض کی دوا دینی چاہیے ہے وہ ہے وہ ہے وہ پینا چاہتا ہوں پلا دینی چاہیے
Rahat Indori
42 likes
ہم سے پہلے بھی مسافر کئی گزرے ہوں گے کم سے کم راہ کے پتھر تو ہٹاتے جاتے
Rahat Indori
42 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Rahat Indori.
Similar Moods
More moods that pair well with Rahat Indori's sher.







