اپنی زبان سے کچھ لگ کہی گے چپ ہی رہیں گے عاشق لوگ جاناں سے تو اتنا ہوں سکتا ہے پوچھو حال بےچاروں کا
Related Sher
ہے وہ ہے وہ ا گر اپنی جوانی کے سنا دوں قصے یہ جو افلاطون ہیں مری پاؤں دبانے لگ جائے
Mehshar Afridi
136 likes
سیر کر دنیا کی غافل زندگانی پھروں ک ہاں زندگی گر کچھ رہی تو یہ جوانی پھروں ک ہاں
Khwaja Meer Dard
127 likes
ا گر ہے عشق سچا تو نگا ہوں سے بیاں ہوگا زبان سے بولنا بھی کیا کوئی اظہار ہوتا ہے
Bhaskar Shukla
130 likes
مری آنسو نہیں تھم رہے کہ حقیقت مجھ سے جدا ہوں گیا تو اور جاناں کہ رہے ہوں کہ چھوڑو اب ایسا بھی کیا ہوں گیا تو مے کدوں ہے وہ ہے وہ مری لائنیں پیسہ پھرتے ہیں لوگ ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے جو کچھ بھی پی کر کہا فلسفہ ہوں گیا تو
Tehzeeb Hafi
388 likes
کچھ بات ہے کہ ہستی مٹتی نہیں ہماری صدیوں رہا ہے دشمن دور زماں ہمارا
Allama Iqbal
354 likes
More from Ibn E Insha
بے تری کیا وحشت ہم کو تجھ بن کیسا دل پامال و سکون تو ہی اپنا شہر ہے جانی تو ہی اپنا صحرا ہے
Ibn E Insha
18 likes
جو موتیوں کی طلب نے کبھی ادا سے کیا تو ہم بھی راہ سے کنکر سمیٹ لائے بے حد
Ibn E Insha
9 likes
آن کے ا سے بیمار کو دیکھے تجھ کو بھی توفیق ہوئی لب پر ا سے کے نام تھا تیرا جب بھی درد شدید ہوا
Ibn E Insha
18 likes
دل ہجر کے درد سے بوجھل ہے اب آن ملو تو بہتر ہوں ا سے بات سے ہم کو کیا زار یہ کیسے ہوں یہ کیونکر ہوں
Ibn E Insha
17 likes
دیدہ و دل نے درد کی اپنے بات بھی کی تو ک سے سے کی حقیقت تو درد کا بانی ٹھہرا حقیقت کیا درد بتائےگا
Ibn E Insha
20 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Ibn E Insha.
Similar Moods
More moods that pair well with Ibn E Insha's sher.







