بوسہ جو رکھ کا دیتے نہیں لب کا دیجیے یہ ہے مثل کہ پھول نہیں پھکڑی صحیح
Related Sher
مہرباں ہم پہ ہر اک رات ہوا کرتی تھی آنکھ لگتے ہی ملاقات ہوا کرتی تھی ہجر کی رات ہے اور آنکھ ہے وہ ہے وہ آنسو بھی نہیں ایسے موسم ہے وہ ہے وہ تو برسات ہوا کرتی تھی
Ismail Raaz
140 likes
دل سے ثابت کروں کہ زندہ ہوں سان سے لینا کوئی ثبوت نہیں
Fahmi Badayuni
139 likes
طریقے اور بھی ہیں ا سے طرح پرکھا نہیں جاتا چراغوں کو ہوا کے سامنے رکھا نہیں جاتا محبت فیصلہ کرتی ہے پہلے چند لمحوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ج ہاں پر عشق ہوتا ہے و ہاں سوچا نہیں جاتا
Abrar Kashif
130 likes
ہمارے بعد تری عشق ہے وہ ہے وہ نئے لڑکے بدن تو چو ہے وہ ہے وہ ہے وہ گے زلفیں نہیں سنواریں گے
Vikram Gaur Vairagi
333 likes
مری آنسو نہیں تھم رہے کہ حقیقت مجھ سے جدا ہوں گیا تو اور جاناں کہ رہے ہوں کہ چھوڑو اب ایسا بھی کیا ہوں گیا تو مے کدوں ہے وہ ہے وہ مری لائنیں پیسہ پھرتے ہیں لوگ ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے جو کچھ بھی پی کر کہا فلسفہ ہوں گیا تو
Tehzeeb Hafi
388 likes
More from Sheikh Ibrahim Zauq
اے شمع تیری عمر طبیعی ہے ایک رات ہنسکر گزاری یا اسے رو کر گزاری دے
Sheikh Ibrahim Zauq
0 likes
آدمیت اور اجازت ہے علم ہے کچھ اور اجازت کتنا طوطے کو پڑھایا پر حقیقت ہیواں ہی رہا
Sheikh Ibrahim Zauq
26 likes
ہم نہیں حقیقت جو کریں خون کا دعویٰ تجھ پر بلکہ پوچھےگا خدا بھی تو مکر جائیں گے
Sheikh Ibrahim Zauq
31 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Sheikh Ibrahim Zauq.
Similar Moods
More moods that pair well with Sheikh Ibrahim Zauq's sher.







