گلیوں کی اداسی پوچھتی ہے گھر کا سناٹا کہتا ہے ا سے شہر کا ہر رہنے والا کیوں دوسرے شہر ہے وہ ہے وہ رہتا ہے
Related Sher
اب ضروری تو نہیں ہے کہ حقیقت سب کچھ کہ دے دل ہے وہ ہے وہ جو کچھ بھی ہوں آنکھوں سے نظر آتا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے صرف یہ کہتا ہوں کہ گھر جانا ہے اور حقیقت مارنے مرنے پہ اتر آتا ہے
Tehzeeb Hafi
285 likes
دولت شہرت بیوی بچے اچھا گھر اور اچھے دوست کچھ تو ہے جو ان کے بعد بھی حاصل کرنا باقی ہے کبھی کبھی تو دل کرتا ہے چلتی ریل سے کود پڑوں پھروں کہتا ہوں پاگل اب تو تھوڑا رستہ باقی ہے
Zia Mazkoor
91 likes
تمہارے شہر کا موسم بڑا سہانا لگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایک شام چرا لوں ا گر برا لگ لگے
Qaisar-ul-Jafri
94 likes
ناپ رہا تھا ایک اداسی کی گہرائی ہاتھ پکڑ کر واپ سے لائی ہے تنہائی وصل دنوں کو کافی چھوٹا کر دیتا ہے ہجر بڑھا دیتا ہے راتوں کی لمبائی
Tanoj Dadhich
60 likes
تو دیکھ لینا ہمارے بچوں کے بال جل گرا سفید ہوں گے ہماری کانٹے ہوئی اداسی سے سات نسلیں ادا سے ہوںگی
Danish Naqvi
57 likes
More from Ghulam Mohammad Qasir
اب اک تیر بھی ہو لیا ساتھ ورنہ پرندہ چلا تھا سفر پر اکیلے
Ghulam Mohammad Qasir
0 likes
ہر سال کی آخری شاموں ہے وہ ہے وہ دو چار ورق اڑ جاتے ہیں اب اور لگ بکھرے رشتوں کی بوسیدہ کتاب تو اچھا ہوں
Ghulam Mohammad Qasir
6 likes
کشتی بھی نہیں جستجو دل شکستہ دریا بھی نہیں بدلا اور ڈوبنے والوں کا طیسے بھی نہیں بدلا
Ghulam Mohammad Qasir
10 likes
ہے وہ ہے وہ بدن کو درد کے ملبو سے پہناتا رہا روح تک پھیلی ہوئی ملتی ہے عریانی مجھے
Ghulam Mohammad Qasir
10 likes
مری دیے نے اندھیرے سے دوستی کر لی مجھے تو اپنے اجالے ہے وہ ہے وہ جانتا ہے تو آ
Ghulam Mohammad Qasir
11 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Ghulam Mohammad Qasir.
Similar Moods
More moods that pair well with Ghulam Mohammad Qasir's sher.







