ہر سال کی آخری شاموں ہے وہ ہے وہ دو چار ورق اڑ جاتے ہیں اب اور لگ بکھرے رشتوں کی بوسیدہ کتاب تو اچھا ہوں
Related Sher
ہزاروں سال نرگ سے اپنی بے نوری پہ روتی ہے بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن ہے وہ ہے وہ دیدہ ور پیدا
Allama Iqbal
207 likes
ا گر جاناں ہوں تو گھبرانے کی کوئی بات تھوڑی ہے ذرا سی بوندابان گرا ہے بے حد برسات تھوڑی ہے یہ راہ عشق ہے ا سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ قدم ایسے ہی اٹھتے ہیں محبت اڑانی والوں کے ب سے کی بات تھوڑی ہے
Abrar Kashif
221 likes
مہرباں ہم پہ ہر اک رات ہوا کرتی تھی آنکھ لگتے ہی ملاقات ہوا کرتی تھی ہجر کی رات ہے اور آنکھ ہے وہ ہے وہ آنسو بھی نہیں ایسے موسم ہے وہ ہے وہ تو برسات ہوا کرتی تھی
Ismail Raaz
140 likes
ہے وہ ہے وہ چاہتا ہوں محبت میرا حقیقت حال کرے کہ خواب ہے وہ ہے وہ بھی دوبارہ کبھی مجال لگ ہوں
Jawwad Sheikh
135 likes
دھوپ ہے وہ ہے وہ نکلو گھٹاؤں ہے وہ ہے وہ نہا کر دیکھو زندگی کیا ہے کتابوں کو ہٹا کر دیکھو
Nida Fazli
136 likes
More from Ghulam Mohammad Qasir
اب اک تیر بھی ہو لیا ساتھ ورنہ پرندہ چلا تھا سفر پر اکیلے
Ghulam Mohammad Qasir
0 likes
ہے وہ ہے وہ بدن کو درد کے ملبو سے پہناتا رہا روح تک پھیلی ہوئی ملتی ہے عریانی مجھے
Ghulam Mohammad Qasir
10 likes
گلیوں کی اداسی پوچھتی ہے گھر کا سناٹا کہتا ہے ا سے شہر کا ہر رہنے والا کیوں دوسرے شہر ہے وہ ہے وہ رہتا ہے
Ghulam Mohammad Qasir
9 likes
جن کی درد بھری باتوں سے ایک زما لگ رام ہوا سینکڑوں ایسے فن کاروں کی قسمت ہے وہ ہے وہ بن با سے رہا
Ghulam Mohammad Qasir
15 likes
کہتے ہیں ان شاخوں پر پھل پھول بھی آتے تھے اب تو پتے جھڑتے ہیں یا پتھر گرتے ہیں
Ghulam Mohammad Qasir
16 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Ghulam Mohammad Qasir.
Similar Moods
More moods that pair well with Ghulam Mohammad Qasir's sher.







