کہتے ہیں ان شاخوں پر پھل پھول بھی آتے تھے اب تو پتے جھڑتے ہیں یا پتھر گرتے ہیں
Related Sher
ا گر جاناں ہوں تو گھبرانے کی کوئی بات تھوڑی ہے ذرا سی بوندابان گرا ہے بے حد برسات تھوڑی ہے یہ راہ عشق ہے ا سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ قدم ایسے ہی اٹھتے ہیں محبت اڑانی والوں کے ب سے کی بات تھوڑی ہے
Abrar Kashif
221 likes
پوچھتے ہیں حقیقت کہ تاکتے کون ہے کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا
Mirza Ghalib
208 likes
مجھ کو بھی انہی ہے وہ ہے وہ سے کوئی ایک سمجھ لے کچھ مسائل ہوتے ہیں نا جو حل نہیں ہوتے
Ali Zaryoun
126 likes
ہم حقیقت ہیں جو خدا کو بھول گئے جاناں مری جان ک سے گمان ہے وہ ہے وہ ہوں
Jaun Elia
563 likes
طریقے اور بھی ہیں ا سے طرح پرکھا نہیں جاتا چراغوں کو ہوا کے سامنے رکھا نہیں جاتا محبت فیصلہ کرتی ہے پہلے چند لمحوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ج ہاں پر عشق ہوتا ہے و ہاں سوچا نہیں جاتا
Abrar Kashif
130 likes
More from Ghulam Mohammad Qasir
ہر سال کی آخری شاموں ہے وہ ہے وہ دو چار ورق اڑ جاتے ہیں اب اور لگ بکھرے رشتوں کی بوسیدہ کتاب تو اچھا ہوں
Ghulam Mohammad Qasir
6 likes
اب اک تیر بھی ہو لیا ساتھ ورنہ پرندہ چلا تھا سفر پر اکیلے
Ghulam Mohammad Qasir
0 likes
کشتی بھی نہیں جستجو دل شکستہ دریا بھی نہیں بدلا اور ڈوبنے والوں کا طیسے بھی نہیں بدلا
Ghulam Mohammad Qasir
10 likes
گلیوں کی اداسی پوچھتی ہے گھر کا سناٹا کہتا ہے ا سے شہر کا ہر رہنے والا کیوں دوسرے شہر ہے وہ ہے وہ رہتا ہے
Ghulam Mohammad Qasir
9 likes
جن کی درد بھری باتوں سے ایک زما لگ رام ہوا سینکڑوں ایسے فن کاروں کی قسمت ہے وہ ہے وہ بن با سے رہا
Ghulam Mohammad Qasir
15 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Ghulam Mohammad Qasir.
Similar Moods
More moods that pair well with Ghulam Mohammad Qasir's sher.







