گر جو دشمن بھی پلائے تو پییں گے ہنسکر چائے کا ہم سے تو انکار نہیں ہوتا ہے
Related Sher
کیا خبر کون تھا حقیقت اور میرا کیا لگتا تھا ج سے سے مل کر مجھے ہر بے وجہ برا لگتا تھا
Tehzeeb Hafi
444 likes
ہم اپنی جان کے دشمن کو اپنی جان کہتے ہیں محبت کی اسی مٹی کو ہندوستان کہتے ہیں
Rahat Indori
212 likes
کوئی اتنا پیارا کیسے ہوں سکتا ہے پھروں سارے کا سارا کیسے ہوں سکتا ہے تجھ سے جب مل کر بھی اداسی کم نہیں ہوتی تری بغیر گزارا کیسے ہوں سکتا ہے
Jawwad Sheikh
163 likes
مجھ سے بچھڑ کر بھی حقیقت لڑکی کتنی خوش خوش رہتی ہے ا سے لڑکی نے مجھ سے بچھڑ کر مر جانے کی ٹھانی تھی
Jaun Elia
174 likes
دشمنی جم کر کروں لیکن یہ گنجائش رہے جب کبھی ہم دوست ہوں جائیں تو شرمندہ لگ ہوں
Bashir Badr
81 likes
More from ''Akbar Rizvi"
ضمیر بیچ کے یہ بھی امیر ہوں جاتے ا گر غریبوں ہے وہ ہے وہ خودداریاں نہیں ہوتی
''Akbar Rizvi"
0 likes
ج سے سے ڈرتے تھے زمانے کے ستم گر سارے آج کے دور کا حقیقت مالک اشتر لگ رہا
''Akbar Rizvi"
0 likes
ب سے ایسے علاقے کو نظر ڈھونڈ رہی ہے دریا ج ہاں ملتا ہے سمندر نہیں ملتا
''Akbar Rizvi"
0 likes
دور احباب سے رہتا ہوں یوں ہی تو یاد خدا لگ پتا کون سا اک زخم نیا مل جائے
''Akbar Rizvi"
0 likes
مری کے پیچھے چل رہا ہے ہر بشر ہر بشر کے پیچھے لیکن ہے فرشتہ موت کا
''Akbar Rizvi"
1 likes
Similar Writers
Our suggestions based on ''Akbar Rizvi".
Similar Moods
More moods that pair well with ''Akbar Rizvi"'s sher.







