ہمارے گھر کی دیواروں پہ ناصرؔ اداسی بال کھولے سو رہی ہے
Related Sher
زندگی بھر حقیقت اداسی کے لیے کافی ہے ایک تصویر جو ہنستے ہوئے کھنچوائی تھی
Yasir Khan
75 likes
اداسی اک سمندر ہے کہ ج سے کی تہ نہیں ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نیچے اور نیچے اور نیچے جا رہا ہوں
Charagh Sharma
60 likes
ناپ رہا تھا ایک اداسی کی گہرائی ہاتھ پکڑ کر واپ سے لائی ہے تنہائی وصل دنوں کو کافی چھوٹا کر دیتا ہے ہجر بڑھا دیتا ہے راتوں کی لمبائی
Tanoj Dadhich
60 likes
کچھ طبیعت ہے وہ ہے وہ اداسی بھی ہوا کرتی ہے ہر کوئی عشق کا مارا ہوں ضروری تو نہیں
Jaani Lakhnavi
60 likes
پلک کا بال گرے کب ہے وہ ہے وہ کب تجھے مانگوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کش مکش ہے وہ ہے وہ یہ پلکیں لگ نوچ لوں اپنی
Vishnu virat
60 likes
More from Nasir Kazmi
दिन भर तो मैं दुनिया के धंदों में खोया रहा जब दीवारों से धूप ढली तुम याद आए
Nasir Kazmi
0 likes
ب سے یوں ہی دل کو توقع سی ہے تجھ سے ور لگ جانتا ہوں کہ مقدر ہے میرا تنہائی
Nasir Kazmi
7 likes
جدائیوں کے زخم درد زندگی نے بھر دیے تجھے بھی نیند آ گئی مجھے بھی دل پامال آ گیا تو
Nasir Kazmi
12 likes
ک ہاں ہے تو کہ تری انتظار ہے وہ ہے وہ اے دوست تمام رات دستور ہیں دل کے ویرانے
Nasir Kazmi
21 likes
ذرا سی بات صحیح تیرا یاد آ جانا ذرا سی بات بے حد دیر تک رلاتی تھی
Nasir Kazmi
29 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Nasir Kazmi.
Similar Moods
More moods that pair well with Nasir Kazmi's sher.







