جب بھی آتا ہے یہ ذکر کیسے بھی جنت کا مری با ہوں ہے وہ ہے وہ تیرا سمٹنا یاد آتا ہے لفظ تعریف کے تری سنتے ہی شرمانا تری گالوں کا حقیقت سرخ ہونا یاد آتا ہے
Related Sher
مری آنسو نہیں تھم رہے کہ حقیقت مجھ سے جدا ہوں گیا تو اور جاناں کہ رہے ہوں کہ چھوڑو اب ایسا بھی کیا ہوں گیا تو مے کدوں ہے وہ ہے وہ مری لائنیں پیسہ پھرتے ہیں لوگ ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے جو کچھ بھی پی کر کہا فلسفہ ہوں گیا تو
Tehzeeb Hafi
388 likes
کوئی شہر تھا ج سے کی ایک گلی مری ہر آہٹ پہچانتی تھی مری نام کا اک دروازہ تھا اک کھڑکی مجھ کو جانتی تھی
Ali Zaryoun
321 likes
اب ضروری تو نہیں ہے کہ حقیقت سب کچھ کہ دے دل ہے وہ ہے وہ جو کچھ بھی ہوں آنکھوں سے نظر آتا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے صرف یہ کہتا ہوں کہ گھر جانا ہے اور حقیقت مارنے مرنے پہ اتر آتا ہے
Tehzeeb Hafi
285 likes
کتنے عیش سے رہتے ہوں گے کتنے اتراتے ہوں گے جانے کیسے لوگ حقیقت ہوں گے جو ا سے کو بھاتے ہوں گے
Jaun Elia
206 likes
گلے تو لگنا ہے ا سے سے کہو ابھی لگ جائے یہی لگ ہوں میرا ا سے کے بغیر جی لگ جائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ آ رہا ہوں تری پا سے یہ لگ ہوں کہ کہی تیرا مزاق ہوں اور مری زندگی لگ جائے
Tehzeeb Hafi
267 likes
More from arjun chamoli
یہ بتاؤ عشق کا یہ فلسفہ کیا ہے دوریاں جب مٹ گئی تو اب بچا کیا ہے
arjun chamoli
0 likes
تڑپ کے روئے ہیں چہرہ ا گر چھپایا ہے کہ لوگ دیکھ لگ لے آنکھ ہے وہ ہے وہ سمندر کو
arjun chamoli
0 likes
حقیقت رات خواب ہے وہ ہے وہ کیا تھا پیار ا سے طرح دکھا رقیب آج پر برا نہیں لگا
arjun chamoli
3 likes
یہ آوارہ ہے پروا لگ غلطیاں پر تاب نے کی ہے لگ دکھتی تاب لو اس کا کو لگ تری تاب سے جلتا
arjun chamoli
2 likes
دل پامال کا ہے امتحاں اور جبر بھی ہے انتہا پا سے حقیقت آتے نہیں اور دور بھی جانے لگ دیں
arjun chamoli
1 likes
Similar Writers
Our suggestions based on arjun chamoli.
Similar Moods
More moods that pair well with arjun chamoli's sher.







