جدائی عشق کا جھمکے کیوں ہے ہم نہیں سمجھے محبت ا سے دودمان مجبور کیوں ہے ہم نہیں سمجھے
Related Sher
ہمارے بعد تری عشق ہے وہ ہے وہ نئے لڑکے بدن تو چو ہے وہ ہے وہ ہے وہ گے زلفیں نہیں سنواریں گے
Vikram Gaur Vairagi
333 likes
مری آنسو نہیں تھم رہے کہ حقیقت مجھ سے جدا ہوں گیا تو اور جاناں کہ رہے ہوں کہ چھوڑو اب ایسا بھی کیا ہوں گیا تو مے کدوں ہے وہ ہے وہ مری لائنیں پیسہ پھرتے ہیں لوگ ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے جو کچھ بھی پی کر کہا فلسفہ ہوں گیا تو
Tehzeeb Hafi
388 likes
کچھ بات ہے کہ ہستی مٹتی نہیں ہماری صدیوں رہا ہے دشمن دور زماں ہمارا
Allama Iqbal
354 likes
دیکھو ہم کوئی وحشی نہیں دیوانے ہیں جاناں سے بٹن کھلواتے نہیں لگواتے ہیں
Varun Anand
300 likes
ہوا ہی کیا جو حقیقت ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ملا نہیں بدن ہی صرف ایک راستہ نہیں یہ پہلا عشق ہے تمہارا سوچ لو مری لیے یہ راستہ نیا نہیں
Azhar Iqbal
298 likes
More from Rekhta Pataulvi
مری قصور و ہاں بات بات پر نکلے حقیقت کیسی بزم تھی خیرو معتبر نکلے
Rekhta Pataulvi
1 likes
ہزاروں آندھیاں طوفان آئی اور گئے یاروں چراغ ریختہ شاہد و ساقی صحیح پر اب بھی جلتا ہے
Rekhta Pataulvi
1 likes
ریختہ ہاتھ ہے وہ ہے وہ ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی نہیں بات کرتے ہوں آسمانوں کی
Rekhta Pataulvi
1 likes
جھمکے بن رہے ہیں بڑی دھوم دھام سے سازش بھی ہوں رہی ہے بڑے اہتمام سے
Rekhta Pataulvi
1 likes
مری سخن سے کھنچائے تراشے لوگوں نے کہ زہر بھی تو ہنسی ہے وہ ہے وہ اگل رہے ہیں لوگ اسی ہے وہ ہے وہ ریختہ اب خیر ہے کہ بچھاؤ بنو حقیقت دیکھو پھولوں کو کیسے مثل رہے ہیں لوگ
Rekhta Pataulvi
1 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Rekhta Pataulvi.
Similar Moods
More moods that pair well with Rekhta Pataulvi's sher.







