کانٹوں کی زباں سوکھ گئی پیاس سے یا رب اک آبلہ پا وادی پر خار میں آوے
Related Sher
ا گر ہے عشق سچا تو نگا ہوں سے بیاں ہوگا زبان سے بولنا بھی کیا کوئی اظہار ہوتا ہے
Bhaskar Shukla
130 likes
مری ہونٹوں پہ اپنی پیا سے رکھ دو اور پھروں سوچو کہ ا سے کے بعد بھی دنیا ہے وہ ہے وہ کچھ پانا ضروری ہے
Waseem Barelvi
126 likes
تیری رنجش کھلی طرز بیاں سے لگ تھی دل ہے وہ ہے وہ تو کیوں نکلی زبان سے
Dagh Dehlvi
45 likes
کوئی سمندر کوئی ن گرا ہوتی کوئی دریا ہوتا ہم جتنے پیاسے تھے ہمارا ایک گلا سے سے کیا ہوتا
Tehzeeb Hafi
85 likes
بے حد حسین صحیح صحبتیں گلوں کی م گر حقیقت زندگی ہے جو کانٹوں کے درمیان گزرے
Jigar Moradabadi
50 likes
More from Mirza Ghalib
لگ ستائش کی تمنا لگ صلے کی پروا گر نہیں ہیں مری اشعار ہے وہ ہے وہ معنی لگ صحیح
Mirza Ghalib
11 likes
بیداد عشق سے نہیں ڈرتا م گر سرسری ج سے دل پہ ناز تھا مجھے حقیقت دل نہیں رہا
Mirza Ghalib
7 likes
بلبل کے کاروبار پہ ہیں خندہ ہا گل کہتے ہیں ج سے کو عشق خلل ہے دماغ کا
Mirza Ghalib
15 likes
آئی ہے بےکسی عشق پہ رونا تاکتے ک سے کے گھر جائےگا سیلاب بلا مری بعد
Mirza Ghalib
15 likes
تیشے بغیر مر لگ سکا کوہکن سرسری سرگشتہ خمار رسوم و قیود تھا
Mirza Ghalib
13 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Mirza Ghalib.
Similar Moods
More moods that pair well with Mirza Ghalib's sher.







