کب تک نجات پائیں گے وہم و یقیں سے ہم الجھے ہوئے ہیں آج بھی دنیا و دیں سے ہم
Related Sher
اب ان جلے ہوئے جسموں پہ خود ہی سایہ کروں تمہیں کہا تھا بتا کر قریب آیا کروں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بعد مہینوں ادا سے رہتا ہوں مزاق ہے وہ ہے وہ بھی مجھے ہاتھ مت لگایا کروں
Tehzeeb Hafi
295 likes
تیری نگاہ ناز سے چھوٹے ہوئے درخت مر جائیں کیا کریں بتا سوکھے ہوئے درخت حیرت ہے پیڑ نیم کے دینے لگے ہیں آم پگلا گئے ہیں آپ کے چو گرد امیر ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہوئے درخت
Varun Anand
96 likes
اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں ہے وہ ہے وہ ملیں جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں ہے وہ ہے وہ ملیں
Ahmad Faraz
95 likes
دوری ہوئی تو ان سے قریب اور ہم ہوئے یہ کیسے فاصلے تھے جو بڑھنے سے کم ہوئے
Waseem Barelvi
87 likes
آج اک اور بر سے بیت گیا تو ا سے کے بغیر ج سے کے ہوتے ہوئے ہوتے تھے زمانے مری
Ahmad Faraz
90 likes
More from Saba Akbarabadi
سو بار ج سے کو دیکھ کے حیران ہوں چکے جی چاہتا ہے پھروں اسے اک بار دیکھنا
Saba Akbarabadi
0 likes
غلط فہمیوں ہے وہ ہے وہ جوانی گزاری کبھی حقیقت لگ سمجھے کبھی ہم لگ سمجھے
Saba Akbarabadi
0 likes
اک روز چھین لےگی ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ سے ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ چھینیں گے کیا ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ کے خزانے ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ سے ہم
Saba Akbarabadi
0 likes
بھیڑ تنہائیوں کا میلا ہے آدمی آدمی اکیلا ہے
Saba Akbarabadi
0 likes
اپنے جلنے ہے وہ ہے وہ کسی کو نہیں کرتے ہیں شریک رات ہوں جائے تو ہم شمع بجھا دیتے ہیں
Saba Akbarabadi
6 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Saba Akbarabadi.
Similar Moods
More moods that pair well with Saba Akbarabadi's sher.







