کٹتے بھی چلو بڑھتے بھی چلو بازو بھی بے حد ہیں سر بھی بے حد چلتے بھی چلو کہ اب ڈیرے منزل ہی پہ ڈالے جائیں گے
Related Sher
ہم حقیقت ہیں جو خدا کو بھول گئے جاناں مری جان ک سے گمان ہے وہ ہے وہ ہوں
Jaun Elia
563 likes
ہم بھی دریا ہیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنا ہنر معلوم ہے ج سے طرف بھی چل پڑیں گے راستہ ہوں جائےگا
Bashir Badr
373 likes
مری آنسو نہیں تھم رہے کہ حقیقت مجھ سے جدا ہوں گیا تو اور جاناں کہ رہے ہوں کہ چھوڑو اب ایسا بھی کیا ہوں گیا تو مے کدوں ہے وہ ہے وہ مری لائنیں پیسہ پھرتے ہیں لوگ ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے جو کچھ بھی پی کر کہا فلسفہ ہوں گیا تو
Tehzeeb Hafi
388 likes
جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے
Shabeena Adeeb
368 likes
دیکھو ہم کوئی وحشی نہیں دیوانے ہیں جاناں سے بٹن کھلواتے نہیں لگواتے ہیں
Varun Anand
300 likes
More from Faiz Ahmad Faiz
فیض تھی راہ سر بسر منزل ہم ج ہاں پہنچے کامیاب آئی
Faiz Ahmad Faiz
25 likes
تو جو مل جائے تو تقدیر نگوں ہوں جائے یوں لگ تھا ہے وہ ہے وہ نے فقط چاہا تھا یوں ہوں جائے
Faiz Ahmad Faiz
25 likes
میری خاموشیوں ہے وہ ہے وہ لرزاں ہے میرے نالوں کی گم شدہ آواز
Faiz Ahmad Faiz
25 likes
اور کیا دیکھنے کو باقی ہے آپ سے دل لگا کے دیکھ لیا
Faiz Ahmad Faiz
29 likes
پھروں نظر ہے وہ ہے وہ پھول مہکے دل ہے وہ ہے وہ پھروں شمعیں جلیں پھروں تصور نے لیا ا سے بزم ہے وہ ہے وہ جانے کا نام
Faiz Ahmad Faiz
34 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Faiz Ahmad Faiz.
Similar Moods
More moods that pair well with Faiz Ahmad Faiz's sher.







