خط لکھیں گے گرچہ مطلب کچھ نہ ہو ہم تو عاشق ہیں تمہارے نام کے
Related Sher
مری آنسو نہیں تھم رہے کہ حقیقت مجھ سے جدا ہوں گیا تو اور جاناں کہ رہے ہوں کہ چھوڑو اب ایسا بھی کیا ہوں گیا تو مے کدوں ہے وہ ہے وہ مری لائنیں پیسہ پھرتے ہیں لوگ ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے جو کچھ بھی پی کر کہا فلسفہ ہوں گیا تو
Tehzeeb Hafi
388 likes
کچھ بات ہے کہ ہستی مٹتی نہیں ہماری صدیوں رہا ہے دشمن دور زماں ہمارا
Allama Iqbal
354 likes
کچھ لگ رہ سکا ج ہاں ویرانیاں تو رہ گئیں جاناں چلے گئے تو کیا اندھیرا تو رہ گئیں
Khalil Ur Rehman Qamar
164 likes
حال لگ پوچھو موہن کا سب کچھ رادھے رادھے ہے
Zubair Ali Tabish
165 likes
سیر کر دنیا کی غافل زندگانی پھروں ک ہاں زندگی گر کچھ رہی تو یہ جوانی پھروں ک ہاں
Khwaja Meer Dard
127 likes
More from Mirza Ghalib
کی مری قتل کے بعد ا سے نے کہوں سے توبہ ہاں یہ ا سے زود پشیمان کا پشیمان ہونا
Mirza Ghalib
8 likes
کوئی ویرانی سی ویرانی ہے دشت کو دیکھ کے گھر یاد آیا
Mirza Ghalib
0 likes
سب ک ہاں کچھ لالا و گل ہے وہ ہے وہ نمائیں ہوں گئیں خاک ہے وہ ہے وہ کیا صورتیں ہوںگی کہ پن ہاں ہوں گئیں
Mirza Ghalib
0 likes
یہی ہے آزمانا تو ستانا ک سے کو کہتے ہیں عدو کے ہوں لیے جب جاناں تو میرا امتحاں کیوں ہوں
Mirza Ghalib
21 likes
دکھا کے جنبش لب ہی تمام کر ہم کو لگ دے جو بوسہ تو منا سے کہی جواب تو دے
Mirza Ghalib
22 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Mirza Ghalib.
Similar Moods
More moods that pair well with Mirza Ghalib's sher.







