نہ پوچھئے کہ وہ کس کرب سے گزرتے ہیں جو آگہی کے سبب عیش بندگی سے گئے
Related Sher
تو کسی اور ہی دنیا ہے وہ ہے وہ ملی تھی مجھ سے تو کسی اور ہی موسم کی مہک لائی تھی ڈر رہا تھا کہ کہی زخم لگ بھر جائیں مری اور تو مٹھیاں بھر بھر کے نمک لائی تھی
Tehzeeb Hafi
331 likes
ہے وہ ہے وہ ا گر اپنی جوانی کے سنا دوں قصے یہ جو افلاطون ہیں مری پاؤں دبانے لگ جائے
Mehshar Afridi
136 likes
ہے وہ ہے وہ نے جو کچھ بھی سوچا ہوا ہے ہے وہ ہے وہ حقیقت سمے آنے پہ کر جاؤں گا جاناں مجھے زہر لگتے ہوں اور ہے وہ ہے وہ کسی دن تمہیں پی کے مر جاؤں گا
Tehzeeb Hafi
285 likes
بات کروں روٹھے یاروں سے سناٹوں سے ڈر جاتے ہیں پیار اکیلا جی لیتا ہے دوست اکیلے مر جاتے ہیں
Kumar Vishwas
141 likes
ب سے یہ دقت ہے بھلانے ہے وہ ہے وہ اسے ا سے کے بدلے ہے وہ ہے وہ ک سے کو یاد کریں
Fahmi Badayuni
126 likes
More from Irfan Sattar
نہیں نہیں ہے وہ ہے وہ بے حد خوش رہا ہوں تری بغیر یقین کر کہ یہ حالت ابھی ابھی ہوئی ہے
Irfan Sattar
0 likes
یہ کیسے ملبے کے نیچے دبا دیا گیا تو ہوں مجھے بدن سے نکالو ہے وہ ہے وہ تنگ آ گیا تو ہوں
Irfan Sattar
0 likes
کسی آہٹ ہے وہ ہے وہ آہٹ کے سوا کچھ بھی نہیں اب کسی صورت ہے وہ ہے وہ صورت کے سوا کیا رہ گیا تو ہے
Irfan Sattar
0 likes
ا سے کی خواہش پہ جاناں کو بھروسا بھی ہے ا سے کے ہونے لگ ہونے کا جھگڑا بھی ہے لطف آیا تمہیں گمراہی نے کہا گمراہی کے لیے ایک تازہ غزل
Irfan Sattar
15 likes
اک چبھن ہے کہ جو بےچین کیے رہتی ہے ایسا لگتا ہے کہ کچھ ٹوٹ گیا تو ہے مجھ ہے وہ ہے وہ
Irfan Sattar
7 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Irfan Sattar.
Similar Moods
More moods that pair well with Irfan Sattar's sher.







