پا بہ گل سب ہیں رہائی کی کرے تدبیر کون دست بستہ شہر میں کھولے مری زنجیر کون
Related Sher
ہم حقیقت ہیں جو خدا کو بھول گئے جاناں مری جان ک سے گمان ہے وہ ہے وہ ہوں
Jaun Elia
563 likes
ہم بھی دریا ہیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنا ہنر معلوم ہے ج سے طرف بھی چل پڑیں گے راستہ ہوں جائےگا
Bashir Badr
373 likes
جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے
Shabeena Adeeb
368 likes
مری آنسو نہیں تھم رہے کہ حقیقت مجھ سے جدا ہوں گیا تو اور جاناں کہ رہے ہوں کہ چھوڑو اب ایسا بھی کیا ہوں گیا تو مے کدوں ہے وہ ہے وہ مری لائنیں پیسہ پھرتے ہیں لوگ ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے جو کچھ بھی پی کر کہا فلسفہ ہوں گیا تو
Tehzeeb Hafi
388 likes
دیکھو ہم کوئی وحشی نہیں دیوانے ہیں جاناں سے بٹن کھلواتے نہیں لگواتے ہیں
Varun Anand
300 likes
More from Parveen Shakir
یہ دکھ نہیں کہ اندھیرو سے صلح کی ہم نے ملال یہ ہے کہ اب صبح کی طلب بھی نہیں
Parveen Shakir
13 likes
کیا کرے مری مسیحائی بھی کرنے والا زخم ہی یہ مجھے لگتا نہیں بھرنے والا
Parveen Shakir
26 likes
ابھی سے مری رفو گر کے ہاتھ تھکنے لگے ابھی تو چاک مری زخم کے صلے بھی نہیں خفا اگرچہ ہمیشہ ہوئے م گر اب کے حقیقت برہمی ہے کہ ہم سے ا نہیں گلے بھی نہیں
Parveen Shakir
29 likes
کو بہ کو پھیل گئی بات شنا سائی کی ا سے نے خوشبو کی طرح مری پذیرائی کی
Parveen Shakir
29 likes
دکھ تو ایسا ہے کہ دل آنکھ سے کٹ کٹ کے بہے ایک وعدہ ہے کہ رونے نہیں دیتا مجھ کو
Parveen Shakir
16 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Parveen Shakir.
Similar Moods
More moods that pair well with Parveen Shakir's sher.







