sherKuch Alfaaz

پربتوں کو زخم گہرے دے دیے ہیں پانیوں سے پتھروں پر وار کر کے

nakul kumar69 Likes

More from nakul kumar

کہو کیا ہوں گیا تو جو مل لگ پائے یار سے اپنے نہارو چاند کو پھروں یار کے گھر دوار کو دیکھو

nakul kumar

1 likes

رکھ لیا ہتھیار اک تیار کر کے مار دیں گے پر مجھے بیمار کر کے کشتیوں کی بستیوں ہے وہ ہے وہ کیا گردشیں ہم ڈوبنے والے ہیں دریا پار کر کے

nakul kumar

6 likes

पीपल बरगद नीम यहाँ पर छाँव ढूॅंढ़ने आते हैं बूढ़े होते नगर यहाँ पर गाँव ढूॅंढ़ने आते हैं चलते-चलते थकने वाले लोग यहाँ पर आख़िर में मेरे इन क़दमों में अपने पाँव ढूॅंढ़ने आते हैं

nakul kumar

6 likes

کرتا نہیں کوئی کبھی ک میاں دسمبر آئےگا گزر جائےگا یہ تنخواہ دسمبر احسان سی کرتی چلی آوےگی عشق دل جنوری پھروں بن کے چلا جائےگا اک آہ دسمبر

nakul kumar

6 likes

انہی پچھلے دنوں سے کچھ مجھے ا سے بات کا غم ہے ا گر ہے وہ ہے وہ رو رہا ہوں تو تری کیوں آنکھ پر نم ہے تری تصویر ہے یہ رات ہے بارش ہے بادل بھی م گر پھروں بھی لگ جانے کیوں ی ہاں کچھ تو ابھی کم ہے

nakul kumar

1 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on nakul kumar.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with nakul kumar's sher.