پربتوں کو زخم گہرے دے دیے ہیں پانیوں سے پتھروں پر وار کر کے
Related Sher
ا گر جاناں ہوں تو گھبرانے کی کوئی بات تھوڑی ہے ذرا سی بوندابان گرا ہے بے حد برسات تھوڑی ہے یہ راہ عشق ہے ا سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ قدم ایسے ہی اٹھتے ہیں محبت اڑانی والوں کے ب سے کی بات تھوڑی ہے
Abrar Kashif
221 likes
پوچھتے ہیں حقیقت کہ تاکتے کون ہے کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا
Mirza Ghalib
208 likes
رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے
Anand Raj Singh
112 likes
اس کا کو فرصت نہیں ملتی کہ پلٹ کر دیکھے ہم ہی دیوانے ہیں دیوانے بنے رہتے ہیں
Waseem Barelvi
151 likes
منزلیں کیا ہیں راستہ کیا ہے حوصلہ ہوں تو فاصلہ کیا ہے
Aalok Shrivastav
152 likes
More from nakul kumar
کہو کیا ہوں گیا تو جو مل لگ پائے یار سے اپنے نہارو چاند کو پھروں یار کے گھر دوار کو دیکھو
nakul kumar
1 likes
رکھ لیا ہتھیار اک تیار کر کے مار دیں گے پر مجھے بیمار کر کے کشتیوں کی بستیوں ہے وہ ہے وہ کیا گردشیں ہم ڈوبنے والے ہیں دریا پار کر کے
nakul kumar
6 likes
पीपल बरगद नीम यहाँ पर छाँव ढूॅंढ़ने आते हैं बूढ़े होते नगर यहाँ पर गाँव ढूॅंढ़ने आते हैं चलते-चलते थकने वाले लोग यहाँ पर आख़िर में मेरे इन क़दमों में अपने पाँव ढूॅंढ़ने आते हैं
nakul kumar
6 likes
کرتا نہیں کوئی کبھی ک میاں دسمبر آئےگا گزر جائےگا یہ تنخواہ دسمبر احسان سی کرتی چلی آوےگی عشق دل جنوری پھروں بن کے چلا جائےگا اک آہ دسمبر
nakul kumar
6 likes
انہی پچھلے دنوں سے کچھ مجھے ا سے بات کا غم ہے ا گر ہے وہ ہے وہ رو رہا ہوں تو تری کیوں آنکھ پر نم ہے تری تصویر ہے یہ رات ہے بارش ہے بادل بھی م گر پھروں بھی لگ جانے کیوں ی ہاں کچھ تو ابھی کم ہے
nakul kumar
1 likes
Similar Writers
Our suggestions based on nakul kumar.
Similar Moods
More moods that pair well with nakul kumar's sher.







