رکھ نہ آنسو سے وصل کی امید کھارے پانی سے دال گلتی نہیں
Related Sher
مری آنسو نہیں تھم رہے کہ حقیقت مجھ سے جدا ہوں گیا تو اور جاناں کہ رہے ہوں کہ چھوڑو اب ایسا بھی کیا ہوں گیا تو مے کدوں ہے وہ ہے وہ مری لائنیں پیسہ پھرتے ہیں لوگ ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے جو کچھ بھی پی کر کہا فلسفہ ہوں گیا تو
Tehzeeb Hafi
388 likes
ا سے دنیا کے کہنے پر امید لگ رکھو پتھر رکھ لو سینے پر امید لگ رکھو
Vishal Singh Tabish
55 likes
مہرباں ہم پہ ہر اک رات ہوا کرتی تھی آنکھ لگتے ہی ملاقات ہوا کرتی تھی ہجر کی رات ہے اور آنکھ ہے وہ ہے وہ آنسو بھی نہیں ایسے موسم ہے وہ ہے وہ تو برسات ہوا کرتی تھی
Ismail Raaz
140 likes
ایک بھی امید کی چٹھی ادھر آتی نہیں ہوں لگ ہوں اپنے سمے کا ڈاکیا بیمار ہے
Kunwar Bechain
51 likes
آنکھ آنسو کو ایسے رستہ دیتی ہے چنو ریت گزرنے دریا دیتی ہے کوئی بھی اس کا کو جیت نہیں پایا اب تک ویسے حقیقت ہر ایک کو موقع دیتی ہے
Kafeel Rana
53 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Shaikh Qudratullah Qudrat.
Similar Moods
More moods that pair well with Shaikh Qudratullah Qudrat's sher.







