شفق سے ہیں در و دیوار زرد شام و سحر ہوا ہے لکھنؤ اس رہ گزر میں پیلی بھیت
Related Sher
مہرباں ہم پہ ہر اک رات ہوا کرتی تھی آنکھ لگتے ہی ملاقات ہوا کرتی تھی ہجر کی رات ہے اور آنکھ ہے وہ ہے وہ آنسو بھی نہیں ایسے موسم ہے وہ ہے وہ تو برسات ہوا کرتی تھی
Ismail Raaz
140 likes
بات کروں روٹھے یاروں سے سناٹوں سے ڈر جاتے ہیں پیار اکیلا جی لیتا ہے دوست اکیلے مر جاتے ہیں
Kumar Vishwas
141 likes
ہم بھی دریا ہیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنا ہنر معلوم ہے ج سے طرف بھی چل پڑیں گے راستہ ہوں جائےگا
Bashir Badr
373 likes
مری آنسو نہیں تھم رہے کہ حقیقت مجھ سے جدا ہوں گیا تو اور جاناں کہ رہے ہوں کہ چھوڑو اب ایسا بھی کیا ہوں گیا تو مے کدوں ہے وہ ہے وہ مری لائنیں پیسہ پھرتے ہیں لوگ ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے جو کچھ بھی پی کر کہا فلسفہ ہوں گیا تو
Tehzeeb Hafi
388 likes
جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے
Shabeena Adeeb
368 likes
More from Meer Taqi Meer
شام سے کچھ بجھا سا رہتا ہوں دل ہوا ہے چراغ مفل سے کا
Meer Taqi Meer
0 likes
دل حقیقت ن گر نہیں کہ پھروں آباد ہوں سکے پچھتاؤگے سنو ہوں یہ بستی اجاڑ کر
Meer Taqi Meer
6 likes
میر کے دین و مذہب کو اب پوچھتے کیا ہوں ان نے تو قشقہ کھینچا دیر ہے وہ ہے وہ بیٹھا کب کا ترک اسلام کیا
Meer Taqi Meer
15 likes
عہدے سے نکلیں ک سے طرح عاشق ایک ادا ا سے کی ہے ہزار فریب
Meer Taqi Meer
16 likes
پھول گل شم سے و قمر سارے ہی تھے پر ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ان ہے وہ ہے وہ تمہیں بھائے بے حد
Meer Taqi Meer
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Meer Taqi Meer.
Similar Moods
More moods that pair well with Meer Taqi Meer's sher.







