شہر کے اندھیرے کو اک چراغ کافی ہے سو چراغ جلتے ہیں اک چراغ جلنے سے
Related Sher
کوئی دقت نہیں ہے گر تمہیں الجھا سا لگتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہلی مرتبہ ملنے ہے وہ ہے وہ سب کو ایسا لگتا ہوں ضروری تو نہیں ہم ساتھ ہیں تو کوئی چکر ہوں حقیقت مری دوست ہے اور ہے وہ ہے وہ اسے ب سے اچھا لگتا ہوں
Ali Zaryoun
521 likes
یہ ا پیش بات کہ خاموش کھڑے رہتے ہیں پھروں بھی جو لوگ بڑے ہیں حقیقت بڑے رہتے ہیں
Rahat Indori
484 likes
شاخوں سے ٹوٹ جائیں حقیقت پتے نہیں ہیں ہم آندھی سے کوئی کہ دے کہ اوقات ہے وہ ہے وہ رہے
Rahat Indori
435 likes
مری آنسو نہیں تھم رہے کہ حقیقت مجھ سے جدا ہوں گیا تو اور جاناں کہ رہے ہوں کہ چھوڑو اب ایسا بھی کیا ہوں گیا تو مے کدوں ہے وہ ہے وہ مری لائنیں پیسہ پھرتے ہیں لوگ ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے جو کچھ بھی پی کر کہا فلسفہ ہوں گیا تو
Tehzeeb Hafi
388 likes
ذرا ٹھہرو کہ شب فیکی بے حد ہے تمہیں گھر جانے کی جل گرا بے حد ہے ذرا نزدیک آ کر بیٹھ جاؤ تمہارے شہر ہے وہ ہے وہ سر گرا بے حد ہے
Zubair Ali Tabish
173 likes
More from Ehtisham Akhtar
Similar Writers
Our suggestions based on Ehtisham Akhtar.
Similar Moods
More moods that pair well with Ehtisham Akhtar's sher.







