شوخی سے ٹھہرتی نہیں قاتل کی نظر آج یہ برق بلا دیکھیے گرتی ہے کدھر آج
Related Sher
مری آنسو نہیں تھم رہے کہ حقیقت مجھ سے جدا ہوں گیا تو اور جاناں کہ رہے ہوں کہ چھوڑو اب ایسا بھی کیا ہوں گیا تو مے کدوں ہے وہ ہے وہ مری لائنیں پیسہ پھرتے ہیں لوگ ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے جو کچھ بھی پی کر کہا فلسفہ ہوں گیا تو
Tehzeeb Hafi
388 likes
کچھ بات ہے کہ ہستی مٹتی نہیں ہماری صدیوں رہا ہے دشمن دور زماں ہمارا
Allama Iqbal
354 likes
ہمارے بعد تری عشق ہے وہ ہے وہ نئے لڑکے بدن تو چو ہے وہ ہے وہ ہے وہ گے زلفیں نہیں سنواریں گے
Vikram Gaur Vairagi
333 likes
مدتیں گزر گئی حساب نہیں کیا لگ جانے اب ک سے کے کتنے رہ گئے ہم
Kumar Vishwas
271 likes
دل نا امید تو نہیں ناکام ہی تو ہے لمبی ہے غم کی شام م گر شام ہی تو ہے
Faiz Ahmad Faiz
267 likes
More from Dagh Dehlvi
ملاتے ہو اسی کو خاک میں جو دل سے ملتا ہے میری جاں چاہنے والا بڑی مشکل سے ملتا ہے
Dagh Dehlvi
0 likes
وعدہ جھوٹا کر لیا چلیے تسلی ہو گئی ہے ذرا سی بات خوش کرنا منتظر کا
Dagh Dehlvi
0 likes
ہاتھ رکھ کر جو وہ پوچھے دل بیتاب کا حال ہو بھی آرام تو کہ دوں مجھے آرام نہیں
Dagh Dehlvi
0 likes
آئی لگ دیکھ کے کہتے ہیں سنورنے والے آج بے موت مرینگے مری مرنے والے
Dagh Dehlvi
17 likes
مری فسانے کو سن سن کے نیند اڑتی ہے دعائیں مجھ کو تری پاسبان دیتے ہیں
Dagh Dehlvi
27 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Dagh Dehlvi.
Similar Moods
More moods that pair well with Dagh Dehlvi's sher.







