زخموں پہ زخم کھائے زمانے گزر گئے پتھر بھی گھر ہے وہ ہے وہ آئی زمانے گزر گئے مری نگاہ اب بھی اسی سمت ہے م گر کھڑکی پہ اس کا کو آئی زمانے گزر گئے
Related Sher
ہم کو دل سے بھی نکالا گیا تو پھروں شہر سے بھی ہم کو پتھر سے بھی مارا گیا تو پھروں زہر سے بھی
Azm Shakri
157 likes
عید خوشیوں کا دن صحیح لیکن اک اداسی بھی ساتھ لاتی ہے زخم ابھرتے ہیں جانے کب کب کے جانے ک سے ک سے کی یاد آتی ہے
Farhat Ehsaas
61 likes
آئینے کی آنکھ ہی کچھ کم لگ تھی مری لیے جانے اب کیا کیا دکھائےگا تمہارا دیکھنا
Parveen Shakir
58 likes
گیت لکھے بھی تو ایسے کے سنائیں لگ گئے زخم یوں لفظوں ہے وہ ہے وہ اترے کے دکھائیں لگ گئے آج تک رکھے ہیں پچھتاوے کی الماری ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایک دو وعدے جو دونوں سے نبھائیں لگ گئے
Farhat Abbas Shah
63 likes
ا سے دنیا کے کہنے پر امید لگ رکھو پتھر رکھ لو سینے پر امید لگ رکھو
Vishal Singh Tabish
55 likes
More from Navneet krishna
یقین کس طرح کوئی بچھاتی کرےگا وہ کھاتے ہیں جھوٹی قسم دیکھتے ہیں نہیں جس کی تعبیر کوئی جہاں میں وہی خواب ہم اے صنم دیکھتے ہیں
Navneet krishna
2 likes
ا سے نے بلوایا مجھے جانا پڑا بے سبب ہی مجھ کو مسکانا پڑا
Navneet krishna
2 likes
غم زدہ گیت گنگنانا ہے حال دل آپ کو سنہانا ہے
Navneet krishna
0 likes
کیا تھے کیا آج ہوں گئے ہیں ہم یاد جاناں ہے وہ ہے وہ کھو گئے ہیں ہم پیڑ پر پھل ضرور آئےگا پیار کے بیج بو گئے ہیں ہم
Navneet krishna
5 likes
ہوں گیا تو مشہور ہے وہ ہے وہ دیوا لگ تری شہر ہے وہ ہے وہ ہے وہ بن گیا تو افسانے کا افسا لگ تری شہر ہے وہ ہے وہ
Navneet krishna
5 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Navneet krishna.
Similar Moods
More moods that pair well with Navneet krishna's sher.







