ابھی سے پاؤں کے چھالے نہ دیکھو ابھی یارو سفر کی ابتدا ہے
Poetry Collection
Aabla
Blister is a stock metaphor of love poetry in Urdu. A lover is destined to suffer its pain yet remain unhindered in his long journey of love. Classical poets have used this metaphor quite frequently and represented these lovers as explorers and sufferers. Here are a few verses for your perusal.
Total
29
Sher
28
Ghazal
1
Featured Picks
Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.
دونوں کا ملنا مشکل ہے دونوں ہیں مجبور بہت اس کے پاؤں میں مہندی لگی ہے میرے پاؤں میں چھالے ہیں
شکوۂ آبلہ ابھی سے میرؔ ہے پیارے ہنوز دلی دور
آبلہ پا کوئی اس دشت میں آیا ہوگا ورنہ آندھی میں دیا کس نے جلایا ہوگا
کانٹوں کی زباں سوکھ گئی پیاس سے یا رب اک آبلہ پا وادی پر خار میں آوے
تیز رکھیو سر ہر خار کو اے دشت جنوں شاید آ جائے کوئی آبلہ پا میرے بعد
ظلم پر ظلم آ گئے غالب آبلے آبلوں کو چھوڑ گئے
سفر میں ہر قدم رہ رہ کے یہ تکلیف ہی دیتے بہر صورت ہمیں ان آبلوں کو پھوڑ دینا تھا
مجھے یقیں تو بہت تھا مگر غلط نکلا کہ آبلہ کبھی پاپوش میں نہیں آتا
آؤ تقریب رو نمائی کریں پاؤں میں ایک آبلہ ہوا ہے
دل کے ہر جزو میں جدائی ہے درد اٹھے آبلہ اگر بیٹھے
اک آبلہ تھا سو بھی گیا خار غم سے پھٹ تیری گرہ میں کیا دل اندوہ گیں رہا
خاک صحرائے جنوں نرم ہے ریشم کی طرح آبلہ ہے نہ کوئی آبلہ پا میرے بعد
بچے گا نہ کاوش سے مژگاں کی دل کہ نشتر بہت آبلہ ایک ہے
خار چبھ کر جو ٹوٹتا ہے کبھی آبلہ پھوٹ پھوٹ روتا ہے
جب اس میں خوں رہا نہ تو یہ دل کا آبلہ ہو خشک جیسے دانۂ انگور رہ گیا
بے تکلف مقام الفت ہے داغ اٹھے کہ آبلہ بیٹھے
لگائی کس بت مے نوش نے ہے تاک اس پر سبو بہ دوش ہے ساقی جو آبلہ دل کا
جو مجھ آتش نفس نے منہ لگایا اس کو اے ساقی ابھی ہونے لگیں گے آبلے محسوس شیشے میں
ابھی سے پاؤں کے چھالے نہ دیکھو ابھی یارو سفر کی ابتدا ہے
دونوں کا ملنا مشکل ہے دونوں ہیں مجبور بہت اس کے پاؤں میں مہندی لگی ہے میرے پاؤں میں چھالے ہیں
شکوۂ آبلہ ابھی سے میرؔ ہے پیارے ہنوز دلی دور
آبلہ پا کوئی اس دشت میں آیا ہوگا ورنہ آندھی میں دیا کس نے جلایا ہوگا
کانٹوں کی زباں سوکھ گئی پیاس سے یا رب اک آبلہ پا وادی پر خار میں آوے
تیز رکھیو سر ہر خار کو اے دشت جنوں شاید آ جائے کوئی آبلہ پا میرے بعد
ظلم پر ظلم آ گئے غالب آبلے آبلوں کو چھوڑ گئے
سفر میں ہر قدم رہ رہ کے یہ تکلیف ہی دیتے بہر صورت ہمیں ان آبلوں کو پھوڑ دینا تھا
مجھے یقیں تو بہت تھا مگر غلط نکلا کہ آبلہ کبھی پاپوش میں نہیں آتا
راستہ پانی مانگتا ہے اپنے پاؤں کا چھالا مار
منزل پہ پہنچ سکتے نہیں ایسے مسافر ہر گام پہ ہو خوف جنہیں آبلہ پا کا
دل کے ہر جزو میں جدائی ہے درد اٹھے آبلہ اگر بیٹھے
بے تکلف مقام الفت ہے داغ اٹھے کہ آبلہ بیٹھے
آبلہ پائی ہماری رنگ لائی دشت میں خار صحرا تشنۂ خوں ہو کے نشتر ہو گئے
لگائی کس بت مے نوش نے ہے تاک اس پر سبو بہ دوش ہے ساقی جو آبلہ دل کا
بچے گا نہ کاوش سے مژگاں کی دل کہ نشتر بہت آبلہ ایک ہے
خار چبھ کر جو ٹوٹتا ہے کبھی آبلہ پھوٹ پھوٹ روتا ہے
جب اس میں خوں رہا نہ تو یہ دل کا آبلہ ہو خشک جیسے دانۂ انگور رہ گیا
جو مجھ آتش نفس نے منہ لگایا اس کو اے ساقی ابھی ہونے لگیں گے آبلے محسوس شیشے میں
You have reached the end.
Explore Similar Collections
Aabla FAQs
Aabla collection me kya milega?
Aabla se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.
Kya is page ki links internal hain?
Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.
Collection ko kaise explore karein?
Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.