Poetry Collection

Aadmi

Aadmi par curated selection jahan sher, ghazal aur nazm ko readable format me discover kiya ja sakta hai.

Total

44

Sher

38

Ghazal

6

Featured Picks

Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.

ہر آدمی میں ہوتے ہیں دس بیس آدمی جس کو بھی دیکھنا ہو کئی بار دیکھنا

ظفرؔ آدمی اس کو نہ جانئے گا وہ ہو کیسا ہی صاحب فہم و ذکا جسے عیش میں یاد خدا نہ رہی جسے طیش میں خوف خدا نہ رہا

وہ کون تھا جو دن کے اجالے میں کھو گیا یہ چاند کس کو ڈھونڈنے نکلا ہے شام سے

اتفاق اپنی جگہ خوش قسمتی اپنی جگہ خود بناتا ہے جہاں میں آدمی اپنی جگہ

میری رسوائی کے اسباب ہیں میرے اندر آدمی ہوں سو بہت خواب ہیں میرے اندر

سمجھے گا آدمی کو وہاں کون آدمی بندہ جہاں خدا کو خدا مانتا نہیں

سب سے پر امن واقعہ یہ ہے آدمی آدمی کو بھول گیا

راہ میں بیٹھا ہوں میں تم سنگ رہ سمجھو مجھے آدمی بن جاؤں گا کچھ ٹھوکریں کھانے کے بعد

میں آدمی ہوں کوئی فرشتہ نہیں حضور میں آج اپنی ذات سے گھبرا کے پی گیا

فرشتہ ہے تو تقدس تجھے مبارک ہو ہم آدمی ہیں تو عیب و ہنر بھی رکھتے ہیں

آدمی کا آدمی ہر حال میں ہمدرد ہو اک توجہ چاہئے انساں کو انساں کی طرف

میں آخر آدمی ہوں کوئی لغزش ہو ہی جاتی ہے مگر اک وصف ہے مجھ میں دل آزاری نہیں کرتا

نہ جانے باہر بھی کتنے آسیب منتظر ہوں ابھی میں اندر کے آدمی سے ڈرا ہوا ہوں

آدمی کیا وہ نہ سمجھے جو سخن کی قدر کو نطق نے حیواں سے مشت خاک کو انساں کیا

عجیب شخص تھا خود اپنے دکھ بناتا تھا دل و دماغ پہ کچھ دن اثر رہا اس کا

ملتا ہے آدمی ہی مجھے ہر مقام پر اور میں ہوں آدمی کی طلب سے بھرا ہوا

اتنا بے آسرا نہیں ہوں میں آدمی ہوں خدا نہیں ہوں میں

ٹٹولو پرکھ لو چلو آزما لو خدا کی قسم با خدا آدمی ہوں

گرجا میں مندروں میں اذانوں میں بٹ گیا ہوتے ہی صبح آدمی خانوں میں بٹ گیا

ہر آدمی میں ہوتے ہیں دس بیس آدمی جس کو بھی دیکھنا ہو کئی بار دیکھنا

ظفرؔ آدمی اس کو نہ جانئے گا وہ ہو کیسا ہی صاحب فہم و ذکا جسے عیش میں یاد خدا نہ رہی جسے طیش میں خوف خدا نہ رہا

اسی لئے تو یہاں اب بھی اجنبی ہوں میں تمام لوگ فرشتے ہیں آدمی ہوں میں

وہ کون تھا جو دن کے اجالے میں کھو گیا یہ چاند کس کو ڈھونڈنے نکلا ہے شام سے

میری رسوائی کے اسباب ہیں میرے اندر آدمی ہوں سو بہت خواب ہیں میرے اندر

گرجا میں مندروں میں اذانوں میں بٹ گیا ہوتے ہی صبح آدمی خانوں میں بٹ گیا

راہ میں بیٹھا ہوں میں تم سنگ رہ سمجھو مجھے آدمی بن جاؤں گا کچھ ٹھوکریں کھانے کے بعد

میں آدمی ہوں کوئی فرشتہ نہیں حضور میں آج اپنی ذات سے گھبرا کے پی گیا

فرشتہ ہے تو تقدس تجھے مبارک ہو ہم آدمی ہیں تو عیب و ہنر بھی رکھتے ہیں

آدمی کا آدمی ہر حال میں ہمدرد ہو اک توجہ چاہئے انساں کو انساں کی طرف

میں آخر آدمی ہوں کوئی لغزش ہو ہی جاتی ہے مگر اک وصف ہے مجھ میں دل آزاری نہیں کرتا

نہ جانے باہر بھی کتنے آسیب منتظر ہوں ابھی میں اندر کے آدمی سے ڈرا ہوا ہوں

خوش حال گھر شریف طبیعت سبھی کا دوست وہ شخص تھا زیادہ مگر آدمی تھا کم

خدا بدل نہ سکا آدمی کو آج بھی ہوشؔ اور اب تک آدمی نے سیکڑوں خدا بدلے

عجیب شخص تھا خود اپنے دکھ بناتا تھا دل و دماغ پہ کچھ دن اثر رہا اس کا

اتنا بے آسرا نہیں ہوں میں آدمی ہوں خدا نہیں ہوں میں

Explore Similar Collections

Aadmi FAQs

Aadmi collection me kya milega?

Aadmi se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.

Kya is page ki links internal hain?

Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.

Collection ko kaise explore karein?

Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.