وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروں
Poetry Collection
Aurat
A woman is half the world. She is also a paragon of beauty as well as a symbol humility. She also stands out as a figure of strength and forbearance. In fact, the richness of her being cannot be ever exhausted in words. Some examples are here for you to appreciate the various facets of woman.
Total
54
Sher
49
Ghazal
5
Featured Picks
Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.
چلتی پھرتی ہوئی آنکھوں سے اذاں دیکھی ہے میں نے جنت تو نہیں دیکھی ہے ماں دیکھی ہے
ایک مدت سے مری ماں نہیں سوئی تابشؔ میں نے اک بار کہا تھا مجھے ڈر لگتا ہے
دعا کو ہات اٹھاتے ہوئے لرزتا ہوں کبھی دعا نہیں مانگی تھی ماں کے ہوتے ہوئے
طلاق دے تو رہے ہو عتاب و قہر کے ساتھ مرا شباب بھی لوٹا دو میری مہر کے ساتھ
ایک عورت سے وفا کرنے کا یہ تحفہ ملا جانے کتنی عورتوں کی بد دعائیں ساتھ ہیں
شہر کا تبدیل ہونا شاد رہنا اور اداس رونقیں جتنی یہاں ہیں عورتوں کے دم سے ہیں
سب نے مانا مرنے والا دہشت گرد اور قاتل تھا ماں نے پھر بھی قبر پہ اس کی راج دلارا لکھا تھا
مٹی پہ نمودار ہیں پانی کے ذخیرے ان میں کوئی عورت سے زیادہ نہیں گہرا
تمام پیکر بدصورتی ہے مرد کی ذات مجھے یقیں ہے خدا مرد ہو نہیں سکتا
تو آگ میں اے عورت زندہ بھی جلی برسوں سانچے میں ہر اک غم کے چپ چاپ ڈھلی برسوں
عورت کو سمجھتا تھا جو مردوں کا کھلونا اس شخص کو داماد بھی ویسا ہی ملا ہے
روشنی بھی نہیں ہوا بھی نہیں ماں کا نعم البدل خدا بھی نہیں
عورت اپنا آپ بچائے تب بھی مجرم ہوتی ہے عورت اپنا آپ گنوائے تب بھی مجرم ہوتی ہے
بنت حوا ہوں میں یہ مرا جرم ہے اور پھر شاعری تو کڑا جرم ہے
اسے ہم پر تو دیتے ہیں مگر اڑنے نہیں دیتے ہماری بیٹی بلبل ہے مگر پنجرے میں رہتی ہے
بیٹیاں باپ کی آنکھوں میں چھپے خواب کو پہچانتی ہیں اور کوئی دوسرا اس خواب کو پڑھ لے تو برا مانتی ہیں
کل اپنے آپ کو دیکھا تھا ماں کی آنکھوں میں یہ آئینہ ہمیں بوڑھا نہیں بتاتا ہے
ایک کے گھر کی خدمت کی اور ایک کے دل سے محبت کی دونوں فرض نبھا کر اس نے ساری عمر عبادت کی
عورتیں کام پہ نکلی تھیں بدن گھر رکھ کر جسم خالی جو نظر آئے تو مرد آ بیٹھے
وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروں
چلتی پھرتی ہوئی آنکھوں سے اذاں دیکھی ہے میں نے جنت تو نہیں دیکھی ہے ماں دیکھی ہے
ایک مدت سے مری ماں نہیں سوئی تابشؔ میں نے اک بار کہا تھا مجھے ڈر لگتا ہے
دعا کو ہات اٹھاتے ہوئے لرزتا ہوں کبھی دعا نہیں مانگی تھی ماں کے ہوتے ہوئے
بیٹیاں باپ کی آنکھوں میں چھپے خواب کو پہچانتی ہیں اور کوئی دوسرا اس خواب کو پڑھ لے تو برا مانتی ہیں
کل اپنے آپ کو دیکھا تھا ماں کی آنکھوں میں یہ آئینہ ہمیں بوڑھا نہیں بتاتا ہے
بتاؤں کیا تجھے اے ہم نشیں کس سے محبت ہے میں جس دنیا میں رہتا ہوں وہ اس دنیا کی عورت ہے
ایک عورت سے وفا کرنے کا یہ تحفہ ملا جانے کتنی عورتوں کی بد دعائیں ساتھ ہیں
شہر کا تبدیل ہونا شاد رہنا اور اداس رونقیں جتنی یہاں ہیں عورتوں کے دم سے ہیں
سب نے مانا مرنے والا دہشت گرد اور قاتل تھا ماں نے پھر بھی قبر پہ اس کی راج دلارا لکھا تھا
ایک کے گھر کی خدمت کی اور ایک کے دل سے محبت کی دونوں فرض نبھا کر اس نے ساری عمر عبادت کی
مٹی پہ نمودار ہیں پانی کے ذخیرے ان میں کوئی عورت سے زیادہ نہیں گہرا
یہ عورتوں میں طوائف تو ڈھونڈ لیتے ہیں طوائفوں میں انہیں عورتیں نہیں ملتیں
تو آگ میں اے عورت زندہ بھی جلی برسوں سانچے میں ہر اک غم کے چپ چاپ ڈھلی برسوں
ابھی روشن ہوا جاتا ہے رستہ وہ دیکھو ایک عورت آ رہی ہے
روشنی بھی نہیں ہوا بھی نہیں ماں کا نعم البدل خدا بھی نہیں
گھر میں رہتے ہوئے غیروں کی طرح ہوتی ہیں لڑکیاں دھان کے پودوں کی طرح ہوتی ہیں
عورت اپنا آپ بچائے تب بھی مجرم ہوتی ہے عورت اپنا آپ گنوائے تب بھی مجرم ہوتی ہے
بنت حوا ہوں میں یہ مرا جرم ہے اور پھر شاعری تو کڑا جرم ہے
اسے ہم پر تو دیتے ہیں مگر اڑنے نہیں دیتے ہماری بیٹی بلبل ہے مگر پنجرے میں رہتی ہے
Explore Similar Collections
Aurat FAQs
Aurat collection me kya milega?
Aurat se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.
Kya is page ki links internal hain?
Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.
Collection ko kaise explore karein?
Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.