Poetry Collection

Badan

Body and soul make us complete. It is body, however, that is subject to ravages and the stock subject of poets who explore love, passion, and lust in all their manifestations. These poets think of body as a site of sin, of physical pleasure, as also of suffering that looks for balm. You may like to know how human body is more eloquent than souls sometimes and how poets appropriate this subject.

Total

51

Sher

47

Ghazal

4

Featured Picks

Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.

اف وہ مرمر سے تراشا ہوا شفاف بدن دیکھنے والے اسے تاج محل کہتے ہیں

بدن کے دونوں کناروں سے جل رہا ہوں میں کہ چھو رہا ہوں تجھے اور پگھل رہا ہوں میں

کون بدن سے آگے دیکھے عورت کو سب کی آنکھیں گروی ہیں اس نگری میں

اک بوند زہر کے لیے پھیلا رہے ہو ہاتھ دیکھو کبھی خود اپنے بدن کو نچوڑ کے

گوندھ کے گویا پتی گل کی وہ ترکیب بنائی ہے رنگ بدن کا تب دیکھو جب چولی بھیگے پسینے میں

یاد آتے ہیں معجزے اپنے اور اس کے بدن کا جادو بھی

خدا کے واسطے گل کو نہ میرے ہاتھ سے لو مجھے بو آتی ہے اس میں کسی بدن کی سی

شرم بھی اک طرح کی چوری ہے وہ بدن کو چرائے بیٹھے ہیں

وہ اپنے حسن کی خیرات دینے والے ہیں تمام جسم کو کاسہ بنا کے چلنا ہے

کیا سبب تیرے بدن کے گرم ہونے کا سجن عاشقوں میں کون جلتا تھا گلے کس کے لگا

ترے بدن کی خلاؤں میں آنکھ کھلتی ہے ہوا کے جسم سے جب جب لپٹ کے سوتا ہوں

لگتے ہی ہاتھ کے جو کھینچے ہے روح تن سے کیا جانیں کیا وہ شے ہے اس کے بدن کے اندر

چمن وہی کہ جہاں پر لبوں کے پھول کھلیں بدن وہی کہ جہاں رات ہو گوارا بھی

ہائے وہ اس کا موج خیز بدن میں تو پیاسا رہا لب جو بھی

کیا بدن ہے کہ ٹھہرتا ہی نہیں آنکھوں میں بس یہی دیکھتا رہتا ہوں کہ اب کیا ہوگا

اب دیکھتا ہوں میں تو وہ اسباب ہی نہیں لگتا ہے راستے میں کہیں کھل گیا بدن

ڈھونڈتا ہوں میں زمیں اچھی سی یہ بدن جس میں اتارا جائے

میں تیری منزل جاں تک پہنچ تو سکتا ہوں مگر یہ راہ بدن کی طرف سے آتی ہے

اف وہ مرمر سے تراشا ہوا شفاف بدن دیکھنے والے اسے تاج محل کہتے ہیں

بدن کے دونوں کناروں سے جل رہا ہوں میں کہ چھو رہا ہوں تجھے اور پگھل رہا ہوں میں

کون بدن سے آگے دیکھے عورت کو سب کی آنکھیں گروی ہیں اس نگری میں

اک بوند زہر کے لیے پھیلا رہے ہو ہاتھ دیکھو کبھی خود اپنے بدن کو نچوڑ کے

گوندھ کے گویا پتی گل کی وہ ترکیب بنائی ہے رنگ بدن کا تب دیکھو جب چولی بھیگے پسینے میں

یاد آتے ہیں معجزے اپنے اور اس کے بدن کا جادو بھی

خدا کے واسطے گل کو نہ میرے ہاتھ سے لو مجھے بو آتی ہے اس میں کسی بدن کی سی

ہائے وہ اس کا موج خیز بدن میں تو پیاسا رہا لب جو بھی

مگر گرفت میں آتا نہیں بدن اس کا خیال ڈھونڈھتا رہتا ہے استعارہ کوئی

شرم بھی اک طرح کی چوری ہے وہ بدن کو چرائے بیٹھے ہیں

وہ اپنے حسن کی خیرات دینے والے ہیں تمام جسم کو کاسہ بنا کے چلنا ہے

اب دیکھتا ہوں میں تو وہ اسباب ہی نہیں لگتا ہے راستے میں کہیں کھل گیا بدن

جی چاہتا ہے ہاتھ لگا کر بھی دیکھ لیں اس کا بدن قبا ہے کہ اس کی قبا بدن

ڈھونڈتا ہوں میں زمیں اچھی سی یہ بدن جس میں اتارا جائے

کیا سبب تیرے بدن کے گرم ہونے کا سجن عاشقوں میں کون جلتا تھا گلے کس کے لگا

اندھیری راتوں میں دیکھ لینا دکھائی دے گی بدن کی خوشبو

کیا بدن ہوگا کہ جس کے کھولتے جامے کا بند برگ گل کی طرح ہر ناخن معطر ہو گیا

لگتے ہی ہاتھ کے جو کھینچے ہے روح تن سے کیا جانیں کیا وہ شے ہے اس کے بدن کے اندر

Explore Similar Collections

Badan FAQs

Badan collection me kya milega?

Badan se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.

Kya is page ki links internal hain?

Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.

Collection ko kaise explore karein?

Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.